35

روئی کی قیمتیں 7 سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں

کراچی: امجد وٹو شعورنیوز
روئی کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی کا رجحان غالب ہوگیا ہے تاہم صرف 2 روز کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمت ریکارڈ 400 روپے فی من اضافے کے بعدگزشتہ 7 سال کی نئی بلند ترین سطح8ہزار روپے فی من تک پہنچ گئیں جبکہ آئندہ چند روز میں روئی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ظاہرکیا جا رہا ہے.
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ توقع کی جا رہی تھی کہ اپٹما کی اپیل پر 29 نومبر کو ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں روئی کی درآمد پر عائد9فیصد مختلف ٹیکسز اور کسٹم ڈیوٹی واپس لے لی جائیں گی جس کے باعث پچھلے چند روز سے ملک بھر میں روئی کی قیمتیں ٹھہراؤکا شکار تھیں تاہم اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مذکورہ اجلاس میں اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہونے کے باعث جمعہ اور ہفتے کے روز روئی کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی کا رجحان سامنے آیا جس کے دوران روئی کی قیمت گزشتہ 7 سال کی نئی بلند ترین سطح 8 ہزار روپے فی من پر پہنچ گئیں جبکہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ بینکوں کی تعطیل کے باعث منگل سے شروع ہونے والے نئے کاروباری ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوں میں مزید تیزی کا رجحان سامنے آئے گا۔
احسان الحق نے بتایا کہ کچھ عرصے قبل پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان اس وقت سامنے آیا تھا جب روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں اضافہ ہوا تھا جبکہ روئی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک اور بڑی وجہ بھارت میں بھی روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان ہے جس کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کے لیے بھارت سے روئی کی درآمد فائدہ مند ثابت نہیں ہورہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان اس وقت سامنے آیا تھا۔کپاس کی مجموعی ملکی ملکی پیداوارکے ابتدائی تخمینوں کی نسبت کافی کم ہونے کے اعداد و شمار سامنے آئے تھے۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے کاٹن سال 2017 18کے لیے کپاس کا پیداواری ہدف ایک کروڑ 40 لاکھ گانٹھ یا (170کلو گرام) مقررکیا گیا تھا جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار ایک کروڑ 15 لاکھ گانٹھ یا (160کلو گرام) متوقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں