59

پولیو ویکسین کے حصول میں مشکلات کیوں؟

دیپالپور: سجادعلی مترو

پولیو ایک انتہائی خطرناک مرض ہے جس کا شکار انسان زندگی بھرک یلئے معذوری کا شکار ہوسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اس ویکسین کی عوام کو بروقت فراہمی کیلئے ہنگامی پروگرام ترتیب دے رکھا ہے جس کے تحت نہ صرف وقتاَ فوقتاَ بچوں کی ویکسی نیشن کی جاتی ہے بلکہ انہیں ہر ماہ پولیو سے بچاؤ کیلئے انجیکشن بھی لگائے جاتے ہیں۔

اس کیلئے حکومت نے یہ پروگرام یونین کونسل لیول تک پھیلاتے ہوئے ہر یونین کونسل کیلئے ویکسی نیٹر مقررر کر رکھے ہیں جن کی ہدایات اور نگرانی میں لیڈی ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر حفاظتی ٹیکے لگاتی ہیں۔

دیپالپور سٹی کی تین یونین کونسلوں میں بھی یہ پروگرام جاری ہے مگر یوسی  105 میں گزشتہ تین مہینوں سے یہ سلسلہ رکا ہوا ہے۔

ایک لیڈی ہیلتھ ورکر نے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر بتایا کہ اس کی ڈیوٹی 105 میں ہے مگر تین ماہ گزر گئے یہاں پر حفاظتی ٹیکے نہیں لگائے گئے کیوں کہ ہمیں ویکسین فراہم ہی نہیں کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ مذکورہ یونین کونسل دیپالپور کی سب سے بڑی یونین کونسل ہے جس میں ہر ماہ ایک ہزار سے زائد بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں اور اب یہ سلسلہ بند ہو چکا ہے۔ 

 

نئے ویکسی نیٹر کی تعیناتی نہیں ہو سکی جس کے باعث لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ویکسین فراہم نہیں ہو سکی۔  “لیڈی ہیلتھ ورکر”

اس سوال پر کہ ویکسی نیسشن کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟

انہوں نے بتایا کہ اس یونین کونسل میں امانت علی ویکسی نیٹر تھے جو کہ پروموٹ ہو کر اسسٹنٹ سپریڈنٹ ویکسینیشن بن گئے اور ان کے بعد ان کی جگہ پر کسی نئے ویکسی نیٹر کی تعیناتی نہیں ہو سکی اور اسی وجہ سے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ویکسین فراہم نہیں ہو سکی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس ماہ بھی ویکسی نیٹر مقرر نہ کیا گیا تو بچوں کو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے کیوں کہ ساڑھے تین ماہ تک مسلسل حفاظتی ٹیکا نہ لگنے سے پولیو کے خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

حافظ ناصر محمود یونین کونسل 105 کے رہائشی ہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ ان کے ہاں اکتوبر میں بچے کی پیدائش ہوئی لیکن تب سے ابتک کوئی لیڈی ہیلتھ ورکر میرے بچے کو ٹیکا لگانے نہیں آئی۔

 انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنے علاقے کی لیڈی ہیلتھ ورکر سے اس بارے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ جب تک یو سی 105 میں ویکسی نیٹر مقرر نہیں ہو جاتا تب تک ہم کسی کو حفاظتی ٹیکا نہیں لگا سکتیں۔جس کے بعد میں تحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال دیپالپور جا کر انجیکشن لگوانے لگا۔

 

ویکسی نیٹر کی عدم موجودگی بارے کسی بھی افسر یا عوامی سطح پر کوئی اطلاع یا شکائت درج نہیں کروائی گئی تاہم اب ہمارے نوٹس میں یہ بات آئی ہے تو جلد از جلد یہ مسئلہ حل کر دیا جائے گا۔ “سی ای او ہیلتھ”

سویرا تبسم افضل کالونی کی رہائشی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے ہاں ستمبر میں بیٹی کی پیدائش ہوئی جس کے بعد لیڈی ہیلتھ ورکر نے گھر آ کر حفاظتی ٹیکا لگایا مگر اس کے بعد تاحال کوئی لیڈی ہیلتھ ورکر نہیں آئی میں خود بیمار رہتی ہوں اس لئے میرا ہسپتال جانا بڑا مشکل ہوتا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کم از کم ایسے حساس معاملے پر غفلت سمجھ سے بالا تر ہے۔

ظفر سیال ایک سوشل ورکر ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ محکمہ صحت نہ صرف فوری اس یونین کونسل میں ویکسی نیٹر تعینات کرے بلکہ اس قدر تاخیر ہونے پر متعلقہ افسران سے بازپرس بھی کرے۔ 

سی ای او ہیلتھ آفس ضلع اوکاڑہ کے آفیسر عبدالقادر رامے نے بتایا کہ پورے ضلع کی ہر یونین کونسل میں یہ پروگرام جاری ہے جس کے تحت ہر بچے کو ایک ماہ سے لے کر ڈیڑھ سال تک حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے جسم میں پولیو کے جراثیم پیدا نہیں ہوتے۔

انہوں نے بتایا کہ پورے ضلع کی 67 یونین کونسلوں میں یہ پروگرام جاری ہے جبکہ دیپالپور سٹی کو یونین کونسل 103، یونین کونسل 104 اور یونین کونسل 105 میں تقسیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس یونین کونسل میں ویکسی نیٹر کی عدم موجودگی بارے کسی بھی افسر یا عوامی سطح پر کوئی اطلاع یا شکائت درج نہیں کروائی گئی تاہم اب ہمارے نوٹس میں یہ بات آئی ہے تو جلد از جلد یہ مسئلہ حل کر دیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام کو اداروں میں موجود ایسی کوتاہیوں پر ضرور نظر رکھنی چاہئے اور اس بارے متعلقہ اداروں کو اطلاع دینی چاہئے تاکہ ایسے مسائل بروقت حل ہو سکیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں