25

خواتین کی تذلیل و استحصال اشرافیہ کا شیوہ بن چکا ہے،تحفظ حقوق نسواں اور چائلڈ رائٹس ایکٹ صرف کاغذی کاروائی تک محدود ہیں :

پریس ریلیز
شعور نیوز
خواتین کی تذلیل و استحصال اشرافیہ کا شیوہ بن چکا ہے،تحفظ حقوق نسواں اور چائلڈ رائٹس ایکٹ صرف کاغذی کاروائی تک محدود ہیں : سیمل راجہ
طریقہ واردات مختلف مگر حوا کی ہر بیٹی کوباالآخر تذلیل کا نشانہ بنا کر ظلم وبربریت کا شکار کیاجاتا ہے: مدثر چوہدری
ریاست اور ریاستی اداروے خواتین کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہو چکے، عدلیہ آخری سہارا ہے چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن بنا کر مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچا کر حوا کی ہر بیٹی کو انصاف دلائیں: غلام مجتبی/حافظ عادل
چنبہ ہاوس میں قتل ہونے والی سمعیہ سے لے کر قصور میں قتل ہونے والی زینب :حوا کی ہر بیٹی انصاف مانگتی ہے:عاصمہ بٹ/ سونیا نعمان
وطن عزیز کے حکمران وسیاستدان اقتدار کی بندر بانٹ میں مشغول اور عوام بالخصوص خواتین ا ور بچیوں کے استحصال کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ تشویشناک ہے۔ سال 2017ء میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی تعداد میں سال 2016ء کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ حادثاتی نہیں بلکہ اسلام اور پاکستان کے خلاف سازش ہے۔خواتین و بچیوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ حکمرانوں، سیاستدانوں و ریاستی اداروں کی بے حسی اورکرمنل جسٹس سسٹم کو مضبوط نہ ہونیکے باعث ہے جس کی وجہ سے انسانیت شرمسار ہے۔نام نہاد خادم اعلی کے صوبہ پنجاب میں گزشتہ برس خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے2700 مقدمات رپورٹ ہوئے جن میں 2850 ملزمان کو گواہوں کے اپنے بیان سے منحرف ہونے کی وجہ سے باعزت بری کیا گیا۔ صوبہ پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں خواتین اور بچیوں سے زیادتی کے 6600 مقدمات زیرِ التواء ہیں۔ان خیالات کا اظہار نیو ہوپ ویلفئیر آرگنائزیشن کے عہدیداران سیمل راجہ،محمد مدثر، غلام مجتبی ، حافظ عادل، سونیہ نعمان و دیگر نے مقامی ہوٹل میں منعقدہ اجلاس میں گفتگو کے دوران کیا۔ نیو ہوپ ویلفئیر آرگنائزیشن کے اجلاس میں پنجاب بھر سے آنے والے عہدیداران کی جانب سے متفقہ طور پر پاس ہونے والی قرارداد میں ملک بھر میں خواتین و بچیوں کیساتھ ظلم و بربریت کے شرمناک واقعات کی روک تھام کے خلاف عملی اقدامات کرنے کا اعیادہ کیا گیا اورچیف جسٹس آف پاکستان سے جوڈیشل کمیشن بناکر خواتین و بچیوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات روکنے اور حوا کی بیٹی کو انصاف دلانے کی اپیل کردی ہے۔عہدیداران سے گفتگو کرتے ہوئے نیو ہوپ ویلیفےئر آرگنائزیشن کی چئیر پرسن و سابق رکن اسمبلی سیمل راجہ نے کہا کہ حکمران و سیاستدان اقتدار کی بندر بانٹ میں مصروف ملکی مسائل سے مکمل بے نیاز ہو چکے ہیں۔ خواتین اور بچیوں کیخلاف تشویشناک حد تک بڑھتے ہوئے ظلم و زیادتی کے واقعات سے نہ صرف شہری خوفزدہ ہو چکے ہیں۔ پاکستان کا وقار بلند کرنے کے بجائے خواتین کی تذلیل کے بڑھتے ہوئے واقعات سے چشم پوشی کے باعث اس کی ساکھ کو مجروع اور ملک کو دنیا بھر میں بدنام کیا جا رہا ہے۔نیو ہوپ ویلفئیر آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل محمد مدثر نے کہا کہ صرف اپنے مفادات کے حصول کے لیے سرگرم سیاستدانوں اور حکمرانوں کو عوامی مسائل سے کوئی غرض نہیں۔عہدیداران غلام مجتیٰ اور حافظ محمد عادل نے کہا کہ بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعا ت میں پولیس کی جانب سے کاروائی میں تاخیری حربے اختیارکرتی ہے جبکہ ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والے ملزمان کی فوری گرفتاری کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اوربچوں پر جنسی تشدد کے کیسز میں کاروائی میں تاخیری حربے استعمال کرنے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جانی اشد ضروری ہے تاکہ عصمت فروشی اور اقدام قتل کے اس گھناونے دہندے میں ملوث مجرمان کو قرارواقعی سزا دلوا کر اس بڑھتی ہوئی معاشرتی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔چیف کوارڈینیٹرز پنجاب سونیہ نعمان ، نبیلہ، شبنم اسلم ، ثمین فاطمہ نے کہا کہ خواتین کی تذلیل اور استحصال اشرافیہ کا شیوہ بن چکا ہے۔تحفظ حقوق نسواں اور چائلڈ رائٹس ایکٹ صرف کاغذی کاروائی تک محدود ہیں۔قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے بغیر ہم اپنی نئی نسل کوترقیافتہ معاشرہ فراہم نہیں کر سکتے۔چند امیر زادوں،وڈیروں اور سرمایہ داروں کے تحفظ کیلئے قوانین بنانا حکمرانوں کیلئے شرمندگی کا باعث ہے۔ملک و قوم کے حقوق تحفظ اور ریاست کے ساتھ غداری نے کرنے کا حلف اٹھانے والے خود سب سے بڑے قانون شکن ہیں۔جب تک ان اصل عوام کی مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاتا ہر روز زینب،کائنات،عائشہ احد اور سپنا خان جیسی حوا کی بیٹیوں کی تذلیل کا سلسلہ کبھی تھم نہیں سکتا۔اس موقع پر صفیہ رحمان،عالیہ فاطمہ،رخسانہ بھٹی،عقیدہ ثمر،محمد ظہیر، عمیر جاوید سمیت دیگر وعہدیداران نے بھی خطاب کیا۔مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت جنسی زیادتی اور خواتین کے استحصال کی روک تھام کیلئے فوری قانون سازی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں