397

عوام کا پیسہ بچانا جرم ہے تو یہ جرم سو بار کرونگا, نیب لاہور میں پیشی کے بعد شہباز شریف کی پریس کانفرنس

لاہور (کامران خان) نیب لاہور میں پیشی کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے مجھے بد نیتی سے شو کاز نوٹس جاری کیا, میں نے کبھی کرپشن نہیں کی, اگر چاہتا تو نیب لاہور کے دفتر نہ جاتا, آشیانہ سکیم میں بازار سےکم ریٹ پر کام کروانا میرا جرم بن گیا, چوہدری لطیف کا ٹھیکہ میں نے کینسل نہیں کیا تھا, شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اگر نہ جانا چاہتا تو نیب کے کئی فیصلوں کا سہارا لے کر پیش نہ ہوتا اور اپنا جواب لکھ کر نیب کو بھیج دیتا لیکن قانونی سہولت کا سہارا لینا مناسب نہیں سمجھا اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک نیب آفس میں موجود رہا۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ نیب آفس میں بہت ہی اچھے انداز میں بات چیت ہوئی، حکام نے تین سوالات کیے جن میں قانون اور ضابطے کی خلاف ورزی اور غلط کام سے متعلق پوچھا گیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ بطور وزیراعلیٰ صوبے کا انچارج ہوں اور صوبے میں کسی بھی منصوبوں کے ڈپاٹمنٹ ہوں یا کمپنیاں ان کی نگرانی کرنا حکومت کی ذمہ دری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ اشفاق پرویز کیانی نے اپنے دور میں رینجرز سے زمین واپس دلوائی، میں نے سی ای او کو فورا ًمعطل کیا اور حکم کی کہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اس کو دیکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھ پر معاہدہ کینسل کرنے کا الزام ہے حالانکہ میں آشیانہ چودھری لطیف کا معاہدہ سڑکوں اور انفرااسٹرکچر سے متعلق تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں کم بولی لگانے والی ٹیم کو ٹھیکا دیا گیا لیکن میں نے غریبوں کے 450 ارب روپے کرپشن کے منہ سے نکالے اور غریبوں کے لیے مکانات تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ بینکوں میں امیر آدمی کے سوا کسی کی شنوائی نہیں ہوتی لیکن غریبوں کے لیے آج آشیانہ قائد اعظم میں 1700 مکانات موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے اربوں روپے کے قرض معاف کروائے وہ سب ٹھیک ہے لیکن ہم نے آشیانہ، میٹرو اور دیگر منصوبوں میں قوم کے اربوں روپے بچائے اس کے باوجود ہمیں بلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سے کہوں گا کہ اپنے عملے سے کہیں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے حواری نہ بنیں، مجھے کڑا احتساب منظور ہے لیکن احتساب کے نام پر سیاست اور انتقام منظور نہیں ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ مجھ پر آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم یا کسی اور منصوبے میں ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو گئی تو خود گھر چلا جاؤ

اپنا تبصرہ بھیجیں