540

مشال خان قتل کیس اور سیمل راجہ , کامران خان

زندگی جب بدلتی ہے قرار آجاتا ہے کبھی بچھڑ کے کبھی جدائی ختم کرکے ہم آگے بڑھ رہے ہیں مشال خان صوفی اسلام اور کیمونزم پر یقین رکھتا تھا عقیدہ وحدت الوجود اناالحق کا پیروکار ہم میں نہ رہا گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا الزام لگا کر ہجوم نے جسے قتل کیا ایک ملزم کو سزائے موت پانچ کو پچیس سال قید اور چھبیس لوگوں کو تین سال قید دی گئی جبکہ بیس سے زائد کو رہا کر دیا گیا ایک بار پھر امیدیں قانون کے دروازے پر دستک دے رہی ہیں کہ ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہوگا جناب رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی گستاخی برداشت نہیں کی جائے گی اور جھوٹا الزام لگانے والے کو بھی بیچ چوراہے میں پھانسی پر چڑھایا جائے گا معاشرے کومزہب کو علمائے کرام کواساتذہ کرام کو فیصلہ کرنا ہوگا ہمیں آگے بڑھنا ہوگا زندگی کو بدلنا ہوگا یہ وقت یہ مقام آواز دے رہا ہے کہ ہمیں جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے اور غلطالزام لگانے والے کو کیفر کردار تک ہہنچانا ہوگا, اب بات کی جائے سابق ایم پی اے سیمل راجہ کی جن کے شوہر بشارت راجہ سابق وزیر قانون ہیں ان پر بھی گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا الزام لگایا جارہا ہے جب کیسز عدالتوں میں ہیں تو ان پردلائل وہیں دئیے جانے چاہیں یوں کسی عورت پر 295 C کا الزام لگانا پیارے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعیت کے منافی ہو ہمیں اس سےبچنا ہوگا اپنے آپ کوبدلنا ہوگا میری جناب حمید الدین سیالوی سے میڈم سیمل راجہ کیس میں رہنمائی کی گزارش ہے کہ طلاق اورشادی کے کیسز کا معاملہ چھوٹا مگر گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا الزام ایک سنگین الزام ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں