2

ایم کیو ایم کا اختتام اور بے نظیر بھٹو , کامران خان

حسد, ساڑ, کینہ اور بغض زندگی کے حسین لمحوں کو تباہ و برباد کردیتے ہیں آج جس جانب دیکھتے ہیں کالا جادو اور ٹونا نظر آتا ہے, ہم کیا سے کیا ہوجائیں گے جو تو میری زندگی میں نہ رہے میں ختم ہوجاؤں گا جو تو مجھے نہ ملی, آہ ایم کیو ایم کہ جس کے نام کا ڈنکا دو سال قبل کراچی میں بجتا تھا کہ جب ہر طرف بھائی بھائی کی آوازیں گونجتی تھیں ہر سُو مہاجر سیاست کا چرچا تھا لیکن ایک دن الطاف نے سب تباہ کردیا اس نے پاکستان کی سلامتی کے خلاف احتجاج کرواکے مہاجروں کی امیدوں کا چراغ گُل کردیا آج ج فاروق ستار کی حرکتوں کو دیکھتا ہوں تو شک ہونے لگتا ہے کہ کہیں فاروق ستار ایم کیوایم ختم کرنے کے مشن پر تو نہیں یا وہ آج کسی اور کے ایجنٹ بن کر پاک سرزمین پارٹی کی سربراہی کے طلبگار بن چکے ہیں یہ اور بہت کچھ آج ہر پاکستانی اپنے آپ سے پوچھ رہا ہے کہ زندگی کیا سے کیا ہوجائے گی, بات اگر بے نظیر بھٹو کی کی جائے تو ایک پڑھی لکھی شخصیت ہمارے ذہن میں آتی ہے ہاں یہ وہی بی بی ہے جسے راولپنڈی میں شہید کیا گیا اور آج ان کا ذکر اس لئیے کیا گیا کہ کراچی لیٹریسی فیسٹیول میں عابدہ حسین کی بے نظیر پر لکھی گئی کتاب پر بین لگادیا گیا ہے اور بختاور بھٹو کی جانب سے لیگل نوٹسز بھی بھجوائے گئے ہیں جس کے بعد کیا کہا جاسکتا ہے کہ آج پاکستان میں لیفٹ کی سیاست بھی کتاب سے خوفزدہ ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں