62

تھپکی دیجئے از نوید اسلم

آپ پاکستان بدلنا چاہتے ہیں ؟ آپ ایسی غلطی ہر گز نہ کیجئے گا کیونکہ آپ ایسا نہیں کرپائیں گے مگر آپ اپنے حصے کی شمع ضرور جلاتے جائیے گا، پھر وہی شمع ایک سئے دو اوردو سے چار اور یوں ضرب ہوتی ہوئی لاکھوں ہو جائیں گی اور آخر کار پاکستان روشن ہوجائے گا اور رتبھی پاکستان بدلا ہوا محسوس ہوگا وہ شمع کیا ہے اس سے پہلےآپ کم عمر ترین کامیاب ہونے والے بچوں کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں اور پھر میں آپ کو ان کی کامیابی کی وجہ بتاؤں گا جس پر عمل کرنے سے آپ کا بچہ بھی کامیاب ہو سکتا ہے۔ ارفعہ کریم پہلی مثال تھی پاکستان میں جس نے بچوں کو اعتماد دیا۔ 9سال کی سب سے کم عمر میں مائیکروسافٹ ایگزامینیشن پاس کیا بدقسمتی سے وہ زندہ نہیں رہی لیکن آج بھی ہم سب کے دلوں میں زندہ ہے اور آج بھی اس کی مثال دی جاتی ہے۔ایان قریشی نے پانچ سال کی عمر میں مائیکروسافٹ کا امتحان پاس کیا ہے اسے بھی کمپیوٹر کا شوق تھا۔کیا آپ کے خیال میں اس کی کامیابی میں والدین کاہاتھ نہیں تھا؟ جنھوں نے اس شوق کو جہت بخشی۔رجنیش بھاٹیا ایک چھوٹے سے شہر جام شورو کا رہنے والا ہے ، سات گریڈ میں اس نے ریاضی (Mathematics)کے چیلنج میں گولڈ میڈل جیتا، اس کے پیچھے اس کے والدین کا ہاتھ تھا جنہوں نے اس کو حوصلہ دیا کہ وہ ریاضی (Mathematics) کے چیلنج کو پاس کرتا۔ہمارے معاشر ے میں والدین کی اکثریت بچوں کو کمپیوٹر گیمز کھیلنے سے منع کرتی ہے مگر وہ والدین بھی ہیں جنھوں نے سومیل حسن کو حوصلہ دیا کہ وہ کمپیوٹر گیمز کو کھیلے اور اس وقت وہ دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ پیسے کمانے والا بچہ ہے۔ حارث خان نے گیارہ سال کی عمر میں ایک موبائل ایپ (Super Soccer Kicks) بنائی ہے اور آج اسے دنیا کا سب سے کم عمر ایپ ڈویلپر کہتے ہیں اس کے پیچھے اور اس کے حوصلے میں بھی ماں باپ کا ہاتھ ہے جنھوں نے اس کے شوق کو روکا نہیں بلکہ پروان چڑھانے میں ساتھ دیا۔
سب سے آخر میں تازہ ترین جو مثال ہے وہ نسیم اختر، نسیم اختر انڈر18کا ورلڈ کپ جیت کے آیا ہے ، ساہیوال ایک چھوٹے سے شہر کا رہنے والا ہے ہمارے ملک میں سنوکر اتنی زیادہ کھیلی نہیں جاتی مگر مجھے یقین ہے کہ اس کے والدین نے بھی کھیلنے سے منع نہیں کیا بلکہ سپورٹ کیا ہوگا اور آج وہ پاکستان کے لیے چیمپئن شپ جیت کر لایا۔آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ان بچوں کی کامیابی کے پیچھے کوئی راز نہیں تھا؟ نہیں ایسا ہر گز نہیں ان بچوں کی کامیابی میں ان کے والدین کا بھی کردار ہے جنھوں نے بچوں کو حوصلہ دیا، سہولیات دیں اور آگے بڑھنے، محنت کرنے کا جذبہ بخشا تبھی تو یہ بچے کامیابی کی منازل تہ کر گئے۔ ہم یہاں پرہمارے معاشرے میں عمومی طور پر پائی جانے والی والدین کی تین اقسام کو دیکھتے ہیں۔ پہلی قسم ان والدین کی ہے جو اپنے بچوں کو ڈرا کر رکھتے ہیں اور ان کے ذہن و دل میں ہر وقت اپنا خوف محسوس کرواتے رہتے ہیں، محض اسی لیے کہ ان کا بچہ غلط کام نہ کرے اور کامیاب ہو مگر یہاں سب الٹ ہوتا ہے کیونکہ اِن والدین کا رویہ بھی برا ہوتا ہے اور بچے احساس کمتری کا شکار ہو کر دنیا کی دوڑ سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور زندگی کے اصل میدان میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان بچوں کے باغی بننے اور جرم کرنے کے چانسز (شرع) بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ دوسری قسم کے والدین اپنی اولاد سے بہت زیادہ پیار و محبت کرتے ہیں اور ان کی ہر جائز و ناجائز خواہش کو پورا کرتے ہیں، بچوں کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی اور جس چیز کی ضرورت نہیں بھی ہوتی وہ بھی لے کر دیتے ہیں۔ اس طرح کے والدین کے بچے بھی زندگی میں ناکامی کا سامنا کرتے ہیں اور سب سے آخر میں اور تیسری قسم ان والدین کی ہے جو اپنے بچوں کو مناسب و متوازن ماحول میں پروان چڑھاتے ہیں یہ والدین اپنے بچوں کو ہر ضرورت کی چیز مہیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے استعمال کا بھی بتاتے ہیں اور بچوں کو غلط و درست میں فرق کرنے میں بھی رہنمائی کرتے ہیں، غلطی ہو جانے پر سدھارنے کی کوشش کرتے ہیں اور کامیابی و اچھا کام کرنے پر داد و تھپکی دیتے ہیں اور یہی پیار کی تھپکی ان بچوں کے کامیاب ہونے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اب اگر آپ بھی ایک کامیاب والدین بننا چاہتے ہیں تو آپ بھی سیکھئے اور خود کو تیسری قسم کے لوگوں میں شامل کرنے کی کوشش بھی کیجئے اور اپنے بچے کی غلطی و ناکامی پر اس کی اصلاح کیجئے اور اس کو اچھائی کرنے پر پیار کی تھپکی بھی دیجئے کیونکہ یہی تھپکی آپ کے بچے کو کامیاب بنانے میں اہم ثابت ہو سکتی ہے اور تبھی آپ کے حصے کی شمع جلے گی اور پاکستان کی تاریکیاں اُجالوں میں تبدیل ہوجائیں گیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں