6

سوچ اور فکرکا زوایہ بدلنا ہوگا؟ از سلمان عابد

پاکستان میں عمومی طور پر جو کچھ ہورہا ہے اس کا دائرہ کار طاقت ور مراکز کے درمیان جاری باہمی کشمکش، تلخی، عدم توازن اور طاقت کو اپنے مفادات کے تحت قائم کرنے کی جنگ سے جڑا نظر آتا ہے۔ بدقسمتی سے معاشرے میں جو بھی جنگ یا جدوجہد سیاسی ، سماجی اور اہل دانش کی سطح پر ہورہی ہے اس کا مرکز عام لوگوں یا محروم طبقات کو مضبوط کرنے کا عمل نہیں بلکہ اپنے مخصوص مفادات یا من پسند افراد یا گروہ کو طاقت فراہم کرنا ہے ۔معاشرے میں وہ طبقات ، ادارے یا بااثر گروہ جو سماج کو بدلتے ہیں اور روائتی ترقی کے مقابلے میں متبادل ترقی کی جدوجہد کرتے ہیں وہ بھی ان بااثر اور طاقت ور مرکز کے درمیان باہمی گٹھ جوڑ کا شکار ہوگئے ہیں ۔
وہ طبقہ جو عمومی طور پر ریاست، حکومت اور اداروں سمیت معاشرے کے بالادست طبقات پر عوامی اور قومی مفادات کے تحت دباو بڑھانے کی سیاست کرتا ہے وہ بھی کہیں گم ہوکر رہ گیا ہے ۔ جو کچھ لوگ یا ادارے اپنی اپنی سطح پر چھوٹی چھوٹی آوازیں اٹھارہے ہیں وہ اتنے بااثر نہیں یا ان کو ایسی پزیرائی نہیں ملی جو واقعی سماج میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکے ۔ہم عمومی طور پر سیاست اور جمہوریت کی حمایت اس لیے بھی کرتے ہیں کہ وہ عام آدمی کو فیصلہ سازی، اقتدار کی شراکت ، وسائل کی منصفانہ تقسیم ، عدم تفریق ،انصاف،روزگار،تحفظ سمیت بنیادی نوعیت کے حقوق کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم جمہوریت اور قانون کی حکمرانی پر یقین بھی رکھتے ہیں اور اس کو تحفظ دینے یا اسے مضبوط کرنے کی جدوجہد بھی کرتے ہیں ۔
لیکن اب اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہاں جمہوریت ، انصاف، قانون کی حکمرانی سمیت عوامی مفادات کی سیاست ، نعرے ، دعوے اور ساری جدوجہد لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام ہورہی ہے ۔ لوگوں کی مجموعی تعداد واقعی اس نظام سے نالاں بھی ہے اور بہت سے کمزور طبقات میں غصہ، نفرت، تعصب اور لاتعلقی کا عمل بھی مضبوط ہوتا جارہا ہے ۔ ہم اس طرز عمل پر عملا لوگوں سے نالاں ہوتے ہیں کہ وہ قوم ، ریاست او رملک کے وفادار نہیں ہوتے یا ہم ان کی حب الوطنی پر شبہ کرتے ہیں ۔ لیکن ہماری ریاست اور حکمران طبقات سمیت طاقت ور طبقہ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ یہ ناکامی لوگوں کی نہیں بلکہ اس نظام کی ہے جس کی باگ ڈور اس طاقت ور طبقہ کے پاس ہے ۔ کیونکہ جو حکمرانی کا نظام انہوں نے قائم کردیا ہے وہ غیر منصفانہ ، غیر شفاف اور ظالمانہ سمیت استحصال پر مبنی ہے ۔
ہماری علمی اور فکری صلاحتیں یا دانش کا عمل ایک متبادل ترقی یا خوشحالی سمیت محرومی کی سیاست کو ختم کرنے کی بجائے اس کو اور زیادہ طاقت فراہم کررہا ہے ۔اگر معاشرے میں دانش کا طرز عمل طاقت ور طبقات کے تابع بن کر ان کی سیاست کو مستحکم کرنا ہے تو یہ محض عوام سمیت ملک دشمنی کے بھی مترادف ہوگا۔کیونکہ جو لوگ بھی اپنا علم ، صلاحیت یا قابلیت کو ملک بنانے کی بجائے افراد کی طاقت کے تابع بن کر کام کریں تو اس کا نقصان افراد کے مقابلے میں ادارو ں ، ریاست سمیت ملک کے نظام کو ہوگا۔یہ جو طاقت کے مراکز میں مختلف طبقات کا گٹھ جوڑ بن گیا ہے اس کو کیسے توڑا یا کمزور کیا جائے یہ ہی ایک بڑا چیلنج ہے ۔ہماری ریاست، حکومت ، اداروں اور سیاسی جماعتوں سمیت جمہوری طبقات کی ترجیحات اور عوامی ضروریات یا ترجیحات میں ایک واضح خلیج نظر آتی ہے ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس میں ٹکراو بھی ہے اور ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت بھی کمزور ہے ۔
مسئلہ کسی ایک جماعت یا قیادت کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر ہم سب طاقت ور اور بااثر افراد اس ناکامی کے ذمہ دار ہیں جو ہمیں معاشرے میں ایک بڑی ناہمواری پر مبنی تقسیم کی صورت میں نظر آتی ہے ۔ یہ جو ہمارے سیاسی ، انتظامی ادارے ہیں اس میں جس انداز سے عوام دشمنی پر مبنی طرز حکمرانی کے نظام کو تقویت دی جاتی ہے وہ ہی سب سے بڑی خرابی پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔ کوئی بھی مہذہب معاشرہ یا وہ سماج جو واقعی لوگوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے اس کی پہلی و آخری ترجیح انسانوں او ر بالخصوص کمزور لوگوں پر بڑی سرمایہ کاری ہوتا ہے ۔ سرمایہ کاری سے مراد محض پیسہ ہی نہیں ہوتا بلکہ اپنی سیاسی ترجیحات اور ادارہ جاتی پالیسی میں انسانوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ۔
لیکن یہاں جو ترقی اور خوشحالی ہورہی ہے وہ ناہموار اور غیر منصفانہ ہے بلکہ اس میں انسان کہیں دور گم ہوکر رہ گیا ہے ۔ یہ عمل انسانوں اور ریاست کے درمیان باہمی تعلق کو بھی کمزور کرتا ہے ۔اس لیے جب اس سیاسی اور انتظامی نظام کو بنیاد بنا کر مجھ جیسے کچھ لوگ کڑوی تنقید کرتے ہیں یا اسے بوسیدہ سمجھتے ہیں تو ہم پر جمہوریت دشمنی اور غیر جمہوری قوتوں کا آلہ کار کا لقب دے کر ہم عملا ایک کرپٹ نظام اور اس سے جڑے ہوئے طبقات کو تحفظ ہی فراہم کرتے ہیں۔ حالانکہ جمہوری عمل ہمیں بولنے ، چیلنج کرنے اور ایک متبادل آواز اٹھانے کا حق دیتا ہے ۔ اس لیے ہمیں ان آوازوں سے نالاں ہونے کی بجائے سنجیدگی سے اس نظام کو سمجھنا ہوگا کہ یہ کیا ہے او رکیوں اسے تحفظ دیا جاتا ہے۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ جمہوریت محض کسی خوش نما نعرے کی بنیاد پر اپنی ساکھ نہیں بناتی ، بلکہ اس کے لیے واقعی نظام کو بنیاد بنا کر نظام اور لوگوں کے درمیان جو خلیج یا عدم اعتماد ہے اس کو د ور کرکے ہی ہم جمہوری مقدمہ کو مضبوط بناسکتے ہیں۔
ہمیں دور نہیں جانا او رنہ ہی اسے بحث کو کسی جذباتی نکتہ نظر سے دیکھنا چاہیے۔ ہم اپنے سرکاری سماجی ، سیاسی ، معاشی اور انصاف پر مبنی اعدادوشمار دیکھ لیں اوران اعدادوشمار کو بھی پرکھ لیں جو عالمی اداروں کی سطح پر کی جانے والی تحقیقی رپورٹس میں پیش کی جاتی ہیں تو ہمیں اپنا تجزیہ کرنے میں آسانی ہوگی ۔ تعلیم، صحت، روزگار، تحفظ ، انصاف سے متعلق حقایق کافی سنگین ہیں اور ہمیں جنجھوڑتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔یہ جو فلاحی ریاست سے ہم سیکورٹی ریاست کی جانب بڑھ رہے ہیں وہ انسانوں کو کمزور اور بری طرح استحصال پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔یاد رکھیں معاشرے ادارہ سازی کی بنیاد پر بنتے ہیں ، جب کہ ہم ادارہ سازی کے مقابلے افراد کی حکمرانی پر مبنی نظام کو تقویت دیتے ہیں ۔
یہ نہیں کہ پاکستان میں اچھے دماغ نہیں یا اچھے کام کرنے والے ختم ہوگئے ہیں۔ کیونکہ کوئی بھی معاشر ہ قحط الرجال یا بانجھ پن کا شکار نہیں ہوتا ۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم اچھے ذہن اور اچھے کردار کے لوگ جو واقعی مختلف شعبو ں میں بڑی نوعیت کے کام کررہے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں ان کو دیوار سے لگادیا گیا ہے ۔ ان کی پزیرائی کے مقابلے میں من پسند افراد جو چاپلوس بھی ہوں اور یرغمال بننے کا حوصلہ بھی رکھتے ہوں وہ ہماری ترجیحات کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ کوئی بھی معاشرے کی سمت کسی بڑے دباو کی سیاست کے بغیر درست نہیں ہوتی ۔جبکہ ہماری دباو کی سیاست میں اختیارات اور وسائل کی جنگ کو اپنی ذات اور خاندان تک محدود کرنے سے جڑی ہے ۔
ہماری ریاست، حکومتوں ، سیاست دانوں ، پالیسی ساز اداروں ، انتظامی افسران ، اہل دانش اور میڈیا یا رائے عامہ بنانے والے افراد اور اداروں کو اپنی موجودہ روش سے چھٹکار ا حاصل کرنا ہوگا ۔ کیونکہ موجودہ طرز حکمرانی کا نظام اپنی افادیت کھوچکا ہے ۔18ویں ترمیم کے بعد جو ہمیں لولی پاپ دیا گیا کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہونگے اور لوگ خوشحالی کے ثمرات سے مستفید ہونگے ، محض نعرہ ہی ثابت ہوا ۔اصل جنگ اس ملک کے اہل دانش نہیں فکری محاذ پر لڑ کر معاشرے کے دیگر طبقات میں ایک متبادل ترقی ، نظام کی سوچ اور فکر کو بیدا ر کرنا ہوگا۔
اسی طرح عوامی سطح پر بھی لوگوں کو حکمران اور بااثر طبقات سے گٹھ جوڑ کرنے کی بجائے ایک پرامن ، منظم سیاسی اور سماجی جدوجہد کی طرف خود کو پیش بھی کرنا ہوگا۔ اس وقت اصل مسئلہ سماجی ڈھانچہ کو مضبوط بنانا ہے ۔ مسئلہ مایوسی کا نہیں بلکہ اس وقت کے جو برے حالات ہیں ان سے نمٹنے کے لیے ان حالات کو اپنے لیے موقع سمجھ کر اور مضبوط اعصاب کے ساتھ اپنی آواز اٹھانی ہوگی ۔ایسا نہیں کہ حالات بدل نہیں سکتے ، سب کچھ بدل سکتا ہے اگر ہم لوگوں کو سیاسی ، سماجی طور پر اس بات پر قائل کرلیں کہ یہ نظام عام آدمی کے مقابلے میں طاقت ور طاقتوں کا ہے او راس کو توڑے بغیر ہم عام آدمی کا مقدمہ نہیں جیت سکیں گے ، تو ایک بہتر سماج کی تشکیل کی طرف پیش قدمی کا آغاز ہوسکتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں