32

حمید الدین سیالوی کی خفیہ ہاتھ پر تنقید اور بھارت کی عرب دنیا آمد ، کامران خان

نریندر مودی ہو یا ٹرمپ دونوں سیاستدانوں نے اپنی قوم کو تعصب کا سبق دےکر کامیابی سمیٹی لیکن دونوں رہنماؤں نے کچھ ایسا کر دکھایا کہ وہ دوسرے کرنے سے قاصر ہیں، ٹرمپ سعودی عرب آیا تو تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ کر آیا، بھارت کےمودی نے جب ترقی کے سفر کا آغاز کیا تو فلسظین کے صدر محمود عباس سے سب سے بڑا سول اعزاز حاصل کرنے والے پہلے بھارتی وزیراعظم کا اعزاز حاصل کر لیا، سعودی عرب میں اپنی وزیر خارجہ کو بھیج کر میدان مارلیا جبکہ متحدہ عرب امارات کا محاذ خود فتح کر لیا، بحیثیت پاکستانی کالم نگار میرے لئیے یہ سب بہت اچنبھے کی بات ہے کہ ہنارے سیاستدان اپنی ہر ناکامی کے پیچھے آئی ایس آئی کو کھوج نکالتے ہیں لیکن انھیں بھارتی وزیراعظم کی یہ جیتی جاگتی پلاننگ نظر نہیں آتی کیا پاکستانی آئی ایس آئی نے نواز شریف کو پنامہ میں پیسے رکھنے پر مجبور کیا تھا کیا آئی ایس آئی نے شہباز شریف کو لاہور میں صاف پانی کے پراجیکٹ مکمل کرنے سے روک رکھا ہے، پرویز مشرف کی اس ملک سے روانگی کو جنرل راحیل شریف سے جوڑا جا سکتا ہے لیکن بھارت کی سعودی اور عرب امارات محاذ پر کامیابی کو نواز شریف کی خارجہ پالیسی میں ناکامی سے ہی جوڑا جائے گا، وہ وقت دور نہیں بھارت اور چین بھی ایک صف میں کھڑے ہونگے محض سی پیک کی تعمیر پر خوژ رہنے والے بھارت کی خارجہ پالیسے سمجھنے میں ناکام ہیں اپنی فوج کو بدنام لرکے چین کی سانس لینے والے کیا کبھی اپنی فوج، دفتر خارجہ اور خفیہ اداروں کے ساتھ بیٹھے ہیں؟ بھارت نے مگر را کو اہمیت دی اپنے دفتر خارجہ کو بلند مقام دیا، کاش پاکستانی سیاستادن بھی تدبر اور برداشت کے ساتھ اپنی افواج کو عزت دیں، مارشل لاء لگانے والا ایک ہی ہوتا ہے، اس کی وجہ سے کسی بھی محب وطن فوجی کی پاکستان کے مستقبل سے محبت کو چیلنچ نہیں کیا جاسکتا، جیسے ایٹمی دھماکے کرنے والے نوز شریف کی حب الوطنی پر شک کی کوئی گنجایش نہیں، بات کہاں سے نکی اور کہاں تک جائے گی، خفیہ فون واٹس ایپ میسیجز اور نجانے کیا میں سوچتا ہوں کہ ہمارے خفیہ اداروں پر ایسی گھٹیا تنقید کا آخر کس کو فائدہ ہے آج پیر سیال شریف جناب حمید الدین سیالوی نے بھی خفیہ ہاتھ کا ذکر کر دیا ہے لیکن بحیثیت پی ایچ ڈی سکالر میں کبھی مان ہی نہیں سکتا کہ ہمارے ادارے ایسا کر سکتے ہیں، پاکستانی اعلیٰ ریاستی ادارے قوم کا وقار ہیں ان پر اس طرح کی تنقید پاکستان کے وقار کو نقصان پہچاتی ہے جس کا فائدہ مودی جیسے سیاستان لیتے ہیں جو ہزاروں کشمیری مسلمانوں کا خون بہا کر آج فلسطینیوں کی شہادت پر آنسو بہا رہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں