1

میڈیا صحافی اور صحافت از ابن داود

میڈیا ، صحافی اورصحافت
از-ابن داؤد
ibn.e.dawood121@gmail.com
میڈیا ، صحافی اور صحافت کسی بھی ملک کے لئے حواسِ خمسہ کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی بات کو لوگ سنتے بھی ہیں اوردیکھتے بھی ہیں ۔صحافی کے لئیے صحافتی اقدار پر عمل پیرا ہونا اس کی صحافتی زندگی کا پہلا اصول ہے ۔ لیکن کتنی بد قسمتی ہے وطنِ عزیز کی یہاں میڈیا اور صحافی اپنی اقدار سے بہت دور دکھائی دیتے ہیں۔بہت کم ایسے لوگ آپ کو اپنے میڈیا میں نظر آئیں گے جو صحافتی اقدار کی پاسداری کرتے ہوں، یہاں تو ہر طرف ریٹنگ کی ایسی دوڑ لگی ہوئی ہے کسی کے پاس سوچنے سمجھنے کا وقت ہی نہیں کہ ان کے قلم اور سکرین پر بولے گئے الفاظ کتنے زہریلے اور ملکی سلامتی کے لئیے کتنے خطرناک ہیں یہاں تو بس ہر کوئی اپنا لوہا منوانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ صحافی ہمیشہ غیر جانبدار ہوتا ہے لیکن وطنِ عزیز میں آپ کو شائد ہی کوئی ایسا صحافی نظر آئے جو جانبدار ہو ورنہ قلم اور الفاظ سب بکے ہوئے۔ آج جب اپنے اخبار اور ٹیلی ویژن پر نظر دوڑائیں تو سوائے تنقید اور تضحیک کے کچھ بھی نہیں سوائے چند ایک لکھنے اور بولنے والوں کے۔ دنیا میں صحافی کو لکھنے اور بولنے کی آزادی ضرور ہے لیکن اس آزادی کی بھی کچھ حدیں مقرر ہیں لیکن پاکستان میں آزادی اظہار اور آزادی رائے کے نام پر کیا کچھ لکھا اور بولا نہیں جاتا۔ پہلے سیاستدانوں کو پارٹی بدلنے پر لوٹا کہا جاتا تھا مگر آج کا صحافی تو ہمارے سیاستدانوں کو بھی مات دے گیا ہے اس کی وجہ صرف غیرجانبدار نہ ہونا ہے۔ ملکی سلامتی کو ہمیشہ بعض غیر ذدمہ دار صحافیوں کی وجہ سے خطرات لاحق رہے ہیں۔ ملکی سلامتی پر بولنے اور لکھنے سے پہلے ہر ملک کا صحافی ہزار بار سوچتا ہے کہیں اس کے لکھے ہوئے الفاظ اس کے ملک کی سلامتی اور وقار کو نقصان نہ پہنچائیں صرف پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں پر آپ جب چاہیں، جو چاہیں لکھ دیں سچ اور جھوٹ کی کوئی قید نہیں اور صحافی بننے کے لئیے تو پاکستان میں تعلیم کی بھی ضرورت نہیں۔
دنیا میں شائد ہی کہیں پاکستان کی طرز کا بدحواس میڈیا موجود ہو، آپ کالم پڑھ لیں، تجزیہ سن لیں قلم اور چہرے دونوں ہی بد حواس ۔ Breaking News سب سے زیادہ پاکستان میں Break کی جاتی ہیں۔ کسی بھی بڑی سے بڑی مصیبت اور مشکل میں میڈیا ، صحافی اور صحافت اپنی عوام میں ایسی خبریں پھیلانے سے گریز کرتے ہیں جس سے عوام میں مایوسی، بدامنی اور خوف پھیلنے کا اندیشہ ہو لیکن ہمارے ملک میں گنگا ذرا الٹی بہتی ہے۔ نہ جانے کس بندہ خدا نے ان کے دل و دماغ میں یہ بات بھر دی ہے کہ جتنی زیادہ سنسنی پھیلاوٗ گے اتنے زیادہ بڑے صحافی کہلواوٗ گے۔ اگر آپ کو سیلاب اور زلزلوں کی مصیبتیں یاد ہو تو آپ بخوبی اپنے میڈیا کے کردار کو پرکھ سکتے ہیں۔
کسی بھی واقع کو ہمارا میڈیا تعصب( لسانی، گروہی، نسلی،علاقائی، فرقہ واریت اور صوبائیت) کی عینک سے ہی دیکھے گا۔ ملک دشمن عناصر کو نمایاں کوریج دینا اور ان کی ملک مخالف باتوں اور نظریات کی ترویج کرنا ہمارے زیادہ تر میڈیا کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔میڈیا کی منافقت اس وقت کھل کر سب کے سامنے آگئی جب عمران خان نے اسلام آباد کو لاک ڈاوٗن کرنے کا فیصلہ کیا تو میڈیا اور صحافحت دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئے ایک عمران کے حق میں اور ایک حکومت کے حق میں اور ان دو اطراف میں کچھ ایسے لوگوں بھی تھے جو عمران اور نواز کو اپنی پوری طاقت کو استعمال کر کے ملک میں بد امنی پھیلانے کے لئیے اکسا رہے تھے۔ پھر جب عمران اور حکومت دونوں نے اپنے رویوں میں لچک دکھائی تو مخالف حق میں ہو گئے اور جو حق میں بولتے تھے وہ مخالف ہو گئے کیوں کہ ملک میں امن ،پر امن احتجاج اور مسائل کا پر امن حل کسی کو وارے نہیں آتا اس سے میڈیا چینل اور اخبارات کی نام نہاد ریٹنگ پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔
قلم اورالفاظ امانت ہیں جو اس ملک میں بے ایمان اور جھوٹے لوگوں کے ہاتھ میں دے دئیے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض قلم کار اپنے مخالف نظریات کی حامی سیاسی جماعت چاہے وہ حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں اس کے سربراہوں کے بارے میں ایسے الفا ظ لکھنے پر اتر آئے ہیں جو الفا ظ آپ اپنے گھر میں بھی نہیں بول سکتے ایسے الفاظ آپ اپنی پوری قوم کو پڑھا رہے ہیں۔اختلافات اپنی جگہ لیکن صحافی کو یہ حق کس نے دے دیا کہ وہ کسی دوسرے کے بارے میں اخلاق سے گرے ہوئے الفاظ لکھے یا بولے( ہمارے سیاستدان بھی 70 سال بعد ابھی پوری طر ح سیاسی طور پر بالغ نہیں ہوئے اس لئیے ابھی ان کے الفاظ اور زبان میں اخلاقی گراوٹ کو اچھی طرح دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے)۔آج میڈیا کی بنیاد جھوٹ پر ہے اوراتنا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ بھولی بھالی عوام اس کو سچ سمجھنے لگ جاتے ہیں۔
ہمارے ملک کے صحافتی حلقوں کی ایک خوبی (طنزیہ )یہ بھی ہے کہ ہر صحافی ہر فن مولا ہے آپ دنیا جہان کے علوم پر ان سے گفتگو فرما سکتے ہیں سائنس ہو یا آرٹس، ڈاکٹری ہو یا حکمت، دینی علوم ہوں یا عصری علوم،ریاضیات ہویا ارضیات، سیاسی گفتگو ہو یا عسکری معاملات ایسے ہر فن مولا ماہرین صرف پاکستان کے میڈیا پر ہی آپ کو با آسانی دستیاب ہوں گے۔
اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں برائی اور بے حیائی کو یوںپھیلایا جائے گا ایسا کسی نے سوچا نہ تھا۔ جسمانی نمائش کر کے جھوٹ کو بیچا جا رہا ہے اور قوم کی نئی نسل کو بے راہروی کی طرف میڈیا کی سرپرستی میں جانے انجانے دھکیلا جا رہا اور کوئی اس بات کو سمجھنے اور ماننے کے لئیے تیار نہیں کہ میڈیا کس کے اشارہ پر ایسا کر رہا ہے۔میڈیا زبردستی ہماری تاریخ کے سنہری ادوار کو پسِ پشت ڈال کر چند بد نما داغوں کو نئی نسل کے نوخیز ذہنوں کو اپنے اسلاف سے بدگمان کرنے کے لئیے استعمال کر رہا ہے۔ آج ہر میڈیا چینل پر آپ کو تفریح کے نام پر ایسی سوچ اور فکر دیکھنے کو ملے گی جس نے آگے چل کر ہمارے معاشرے کو نہ صرف برباد کرنا ہے بلکہ ہمارے خاندانی نظام کو بھی بری طرح متاثر کرنا ہے۔ دانشور اور علماء جب اپنا کردارِحقیقی ادا نہیں کریں گے تو میڈیا کی کوکھ سے کیسے رنگین مزاج علماء اور دانشور پیدا ہوں گے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ان کو نہ اپنی عزت کا خیال نہ اپنے دین کا کو ئی لحاظ اوروطن سے کوئی لگاوٗ۔اس طرح کے قبیلے سے جس کو دیکھو دین کا عالم بن کر میڈیا پر بیٹھ کر فتوے دے رہا ہے، اسلامی شعائر کو عرب ثقافت کا جز بتا رہا ہے، سنت کا مذاق اڑانا ان کے لئیے معمول بن چکا ہے۔
دانشور اور علماء جب اپنا کردارِحقیقی ادا نہیں کریں گے تو میڈیا کی کوکھ سے کیسے رنگین مزاج علماء اور دانشور پیدا ہوں گے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ان کو نہ اپنی عزت کا خیال نہ اپنے دین کا کو ئی لحاظ اور نہ وطن سے کوئی لگاوٗ۔اس طرح کے قبیلے سے جس کو دیکھو دین کا عالم بن کر میڈیا پر بیٹھ کر فتوے دے رہا ہے، اسلامی شعائر کو عرب ثقافت کا جز بتا رہا ہے، سنت کا مذاق اڑانا ان کے لئیے معمول بن چکا ہے۔
یاد رکھئے!یہ قلم اور ا لفاظ آپ کے پاس امانت ہیں اور ان میں کی گئی خیانت کے بارے میں آپ سے ضرور با ضرور پوچھا جائے گا۔ آپ اس بات کو جان لیجئے کہ آپ کے لکھے گئے اور بولے گئے ہر ہر لفظ کے بارے میں پوچھ گچھ ہونی ہے خدا را اپنے الفاظ کو اپنے لئیے زحمت مت بنائیں اور الفاظ کے چناوٗ میں احتیاط سے کام لیں دنیا میں شائد ہی کسی ایسی زبان کا وجود ہو جس میں سخت سے سخت بات کہنے کے لئیے بہترین اور خوبصورت الفاظ موجود نہ ہوں۔جھوٹ بکتا ضرور ہے مگر کامیابی صرف سچ لکھنے اور بولنے میں ہی ہے۔
یاد رکھیں ہم جو بولتے ہیں وہ لکھا جاتا ہے اور جو لکھتے ہیں محفوظ کرنے والے اس کو بھی محفوظ کر لیتے ہیں اور وہ لکھنے میں غلطی نہیں کرتے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں