616

چوہدری نثار کا حرف انکار اور عثمان قادر کی آسٹریلین امیگریشن ، کامران خان

چوہدری نثار کے سیاپے پر بات کرنے سے پہلے جس چیز نے دل دکھا رکھا ہے وہ ماضی کے عظیم کرکٹر عبدالقادر کے بیٹے عثمان قادر کی آسٹرلین امیگریشن ہے، آہ افسوس صد افسوس جس نوجوان کی تعریف کرتا آسٹریلین میڈیا نہیں تھکتا اور جسے آسٹریلین بورڈ بار ہا امیگریشین کا کہ چکا تھا وہ لڑکا ہمارے پاکستان کرکٹ بورڈ کو نظر نہیں آیا، وہ ہیرا جو چند سال قبل آسٹریلین امیگریشن پر اپنے وطن کو ترجیح دیتا تھا آج آسٹریلیا کی وردی پہن کر اگلے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کی نمائیندگی کے لئیے تیار ہے، اس خبر کو پڑھ کے ایم کیو ایم کی قیادت کا بحران، عمران خان کا نیا پاکستان سب چھوٹا لگتا ہے، کیا پدی اور کیا پدی کا شورہ کیا نواز شریف اور کیا شہباز شریف جبکہ کہنا چاہیے وہی نواز شریف اور وہی شہباز شریف جو کبھی اداروں کی کارکردگی میں بہتری کی بات کرتے تھے جنھوں نے نجم سیٹھی کی سربراہی میں کرکٹ بورڈ کی بہتری کی بات کی بات کی تھی کیا یہ ہے وہ بہتری کہ ایک ٹیلنٹڈ کھلاڑی پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہے، جس کا کوئی مستقبل نہیں پاکستان میں اور میں یہ کہ دوں کہ اگر عثمان جیسے نوجوان پاکستان سے ہجرت کرنے پر مجبور ہیں تو پھر پاکستان میں کسی عقل مند اور کسی ہنرمند فرد کا رہنا فضول ہے، اب بات کی جائی چوہدری نثار کی تو مجھے وہ شخص یاد آتا ہے جو اپنا راستہ بھول گیا تھا جس نے گھر سے نکلنے سے پہلے ارادہ کیا تھا کہ میری سیاست ملکی مفاد میں ہوگی لیکن جو وقت اور حالات کی مصلحتوں کا شکار ہوگیا اور اپنی منزل کھو بیٹھا، نواز شریف نے کبھی پارٹی سیاست نہیں کی لیکن آج چوہدری نثار جس حق سے بات کررہے ہیں نواز شریف کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ مسلم لگ ن ہمیشہ سے ایک کچن کیبنٹ رہی ہے، ہم اگر مخدوم جاوید ہاشمی کو دیکھیں تو ہمیں یاد آتا ہے کہ یہی الفاظ وہ کہا کرتے تھے مگر وہ اتنے طاقتور نہیں تھے جتنے چوہدری نثار تعلقات رکھتے ہیں چوہدری نثا کا حرف انکار اور مریم نواز کو لیڈر ماننے سے انکار ایک نئے دور کا آغاز ہے کہ اب بھی یہاں لوگ شخصیت کی بجائے پارٹی کی بات کررہے ہیں اور یہی تبدیلی پاکستان کو نئی راہوں سے ہمکنار کروئے گا، انشاءاللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں