22

توہین رسالت قانون میں تبدیلی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی: سیمل راجہ / مدثر چوہدری

295 C کا قانون تبدیل کرنے والوں کو منہ کی کھانا پڑے گی: غلام مجتبیٰ / سونیا نعمان

نیو ہوپ ویلفئیر آرگنایزیشن کے عہدیداران کا اجلاس: توہین رسالت قانون میں تبدیلی کی حکومتی کوششوں کے
خلاف عہدیداران کا سخت رد عمل کا اظہار

لاہور((12.02.2018 ملکی میں شریعت کا نفاذ موجودہ ملکی حالات کا واحد حل ہے۔ ہے۔ ان خیالات کا اظہارمقامی ہوٹل میں نیو ہوپ ویلفئیر آرگنائزیشن کے عہدیداران کی جانب سے منعقدہ اجلاس میں توہین رسالت قانون میں تبدیلی کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کیاگیا۔ نیو ہوپ ویلفئیر آرگنایزیشن کی چئیر پرسن سیمل راجہ نے کہا کہ جس طرح اللہ رب العزت شرک کو برداشت نہیں کرتا اسی طرح گستاخی واہانت رسول کو کسی صورت برداشت نہیں کرتا اللہ تعالی نے گستاخ رسول کی سزاکولفظ لعنت یعنی رحمت سے محرومی پر ہی محصور نہیں کیا بلکہ انہیں ذلیل ورسوا کرنے اورشدید عذاب کی وعیدبھی سنائی ہے: انہوں نے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جتنے ذِلت آمیز اَلقاب باری تعالیٰ نے ولید بن مغیرہ نامی بدبخت کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ اَقدس میں گستاخی کرنے کی وجہ سے دئیے آج تک کلامِ اِلٰہی میں کسی اور کے لئے استعمال نہیں ہوئے۔ جس پر غضبِ اِلٰہی بھڑک اٹھا۔ ولید نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کا ایک کلمہ بولا تھا، جواباً باری تعالیٰ نے اُس کے دس رذائل بیان کیے اور آخر میں نطفہ حرام ہونا بھی ظاہر کر دیا: نیو ہوپ ویلفئیر آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل و صدر ہیومن رائٹس سیل پی جے ڈی پی محمد مدثر چوہدری نے کہا کہ نبی آخر الرزماں محمد مصطفی ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کا قانون انسان کا نہیں بلکہ رب کائنات کا بنایا ہوا ہے جس میں تبدیلی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی: انہوں نے کہا کہ ابتداء سے نیکی و بدی حق و باطل باہم متصادم رہے ہیں،باطل نے حق کودبانے کیلیے گھٹیاسے گھٹیا طریقہ اپنایاہے لیکن حق غالب ہی رہتاہے،انبیائے کرام اپنا فرض ہردور میں بخوبی اداکرتے آئے ہیں اس ضمن میں انبیائکرام علیھم السلام کو بہت سی مزاحمت کا سامنابھی کرناپڑاہے،ان کوحق کی راہ سے ہٹانے کیلیے دشمنوں کی جانب سے بیشمار تکالیف سے گزرنا پڑا اور بعض اوقات انبیاء کرام کی کردار کشی بھی کی گئی،طرح طرح کی تکلیفوں اور مصیبتوں کے باوجود دشمن اپنے مقصد میں ناکام رہے: سینےئر قانون دان وسیکرٹری فنانس غلام مجتبیٰ چوہدری نے کہا کہ” امم سابقہ” میں سے جب بھی کسی نے انبیاء کرام علیھم السلام کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا اور انبیا ئے کرام کو اذیت پہنچائی اللہ رب العزت نے ناصرف اسکو دنیامیں ذلیل ورسوا کیابلکہ انکا نام و نشان صفحہء ہستی سے مٹادیا اورآخرت میں بھی شدید عذاب کی وعید سنائی، انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کا وضع کردہ اٹل و حتمی قانون اوروہ دستور ہے جوہردور میں رائج رہا اور انشاء اللہ رہیگا، اسکو کوئی بھی ضیاء کاقانون کہہ کر بدل نہیں سکتا۔انکا کہنا تھا کہ توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کے بجائے اس کے غلط اور ناجائز استعمال کو روکنے کے لئے قوانین اور ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ سونیا نعمان،راجہ متین، عمیر جاوید،فہیم احمد خان و دیگر کا کہنا تھا کہ توہین رسالت کے قانون میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی، انکا کہنا تھا کہ سنت نبوی ﷺ اور حدیث کے منکرین کو مسلمان ظاہر کرنا اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ ظلم اور ذیادتی ہے انہوں نے کہا آپ ﷺ کی شان مبارکہ پر حملہ اسلام پر حملے کے مترادف ہے : انکا کہنا تھا کہ نبی کریم ﷺ کی حرمت، عظمت و عفت پر ہر مسلمان کو کامل ایمان ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں