1,175

سب ٹھیک تھے بس میں غلط تھا – – – عاصمہ جہانگیر ، کامران خان

بی اے میں آنے کے بعد جس شخصیت کی وجہ سے وکیل بننے کا فیصلہ کیا تھا اور عمر بھر انسانی حقوق کے لئیے جدوجہد کرنے کاعزم کیا تھا وہ آج ہم میں نہیں رہی، عاصمہ جہانگیر کہ جن پر ہندو نواز ہونے کا الزام بے دھڑک لگایا جاتا ہے اور جنھیں بھرت کی سپورٹر ہونے کے الزامات بھی سہنے پڑتے رہے- حقیقت کچھ اور تھی لیکن فسانہ کچھ اور تھا، کشمیر کمیٹی سے متعلق ایک رپورٹ جو عاصمہ جہانگیر نے جاری کی تھی اس میں بھارت کے ظلم و تشدد کو اعدادو شمار کی روشنی میں بیان کیا گیا تھا اور جس کے بعد ان پر پاکستان مخالف ہونے کا الزام نہیں لگایا جاسکتا- عاصمہ جہانگیر کی وفات کی خبر ٹی وی پر دیکھمے کے بعد میں نے شعور نیوز کے ڈائریکٹر بیورو لاہور سجاد بخاری اور انچارج سوشل میڈیا وقاص چوہدری کو فون کر کے مطلع کیا اور ان سے خبر بریک کرنے کا کہا، جس کے بعد انھوں نے سوشل میڈیا پر سب سے پہلے خبر بریک کی، عاصمہ جہانگیر پاکستان کی اعلیٰ پائے کی وکیل رہنما، سابق چئیرمین ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان جنھوں نے پرویز مشرف کے خلاف عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے، جو جرل یحیٰ کے خلاف ٹین ایجر ہونے کے باوجود احتجاج میں شامل ہوگئیں، ان کو 2010 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا جبکہ بین الاقوامی سطح پر ان کے ایوارڈز کی تعداد گنی نہیں جا سکتی، ساری دنیا ان کو غلط کہتی رہی لیکن یہ پاکستان بھر میں اقلیتوں، پسے ہوئے طبقوں اور نظرانداز لوگوں کی آواز بنتی رہیں اور آجسارا ملک ان کو سلام پیش کررہا ہے، وکلاء ہوں، سیاستدان ہوں، تاجر ہوں یا عام عوام ہوں سب ان کے لئیے دعا گوہیں، آئین پاکستان کی شق 62 ایف 1 کی بات کی جائے تو عاصمہ جہانگیر نے اس مقدمے میں خدمات پیش کیں ان کی ماہرانہ رائے اور اس سے بڑھ جراءت جو ان کی پہچان تھی وہ آج ہمارے لئیے مشعل راہ ہے، حق بات کے لئیے ڈٹ جانا، اپنی اہمیت کو منوانا، اپنے موقف کو سب کے آگے پیش کرنا یہ اس عظیم خاتون وکیل کا کارنامہ ہے، ایوازڈز کو ایک طرف رکھ دیجئیے، بے نظیر کی سہیلی ہونا ایک طرف کر دیجئیے، پاکستانی عوام کو بے بسی سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کیا، سب ان کو ایجنٹ کہتے رہے ہاں وہ ایجنٹ تو تھیں وہ تبدیلی کی علمبردار تھیں، وہ بنیادی انسانی حقوق کا پرچار کرتی تھیں، وہ پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی مملکت بنا دیکھنا چاہتی تھیں، لیکن سب ٹھیک کہتے تھے بس میں ہی غلط تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں