78

سنبھل جا اے بنت حوا۔ نہ پیار! کسی پھول کا محتاج نہ پارکوں میں ملنے کا نام .

لڑکا جب لڑکی کی عزت لوٹ لیتا ہے تو لڑکی کی ماں کو فورا علم ہوجاتا ہے لیکن وہ خاموشی سے سہہ لیتی ہے. لیکن یہ خاموشی شادی کہ رات تک ہی ہوتی ہے شادی کی رات خاوند جب بیوی کے قریب آجاتا ہے تو خاوند کو علم ہوجاتا هے کہ میری بیوی پہلے کیا گل کهلا چکی ہے اور انجام طلاق کہ صورت میں ہوتا ہے. اگر شوہر طلاق نہ بهی دے تو اس لڑکی کہ زندگی سسرال میں ایک کتے سے بهی کم قیمتی ہوتی ہے!

ان سب میں لڑکے کی غلطی نہیں ہے

اس میں لڑکی کہ غلطی ہے. ہر لڑکی کو انبکس ميسج آتے ہیں اسکی مرضی جواب کسی کو دے نہ دے. اگر لڑکی جواب دیتی ہے تو وہ انبکس میں اپنی رضامندی سے جواب دیتی ہے کوئی اسکو فورس نہیں کرسکتا.

لڑکی کی زندگی بهی انبکس ہی کی طرح ہے

جہاں وہ رضامندی اختیار کرلیتی ہے وہاں اپنی عزت لڑکے کی قدموں میں رکه دیتی ہے لڑکا اس سے کهیل کر کسی نیے شکار کے تلاش میں نکل جاتا ہے. اور لڑکی کہ زندگی تباہ ہوجاتی ہے.

تمام لڑکیاں یہ بات زہن سے نکال دیں کہ آپ کوئی غلط کام کروگی تو ماں کو علم نہیں ہوگا اور شادی کرنے کے بعد شوہر کو علم نہیں ہوگا. یہ سراسر آپ خود کو دهوکا دے رہی ہو یہ آپکا خیال ہے صرف ماں اور شوہر کو ایک سیکنڈ میں سب علم ہوجاتا ہے. لیکن ماں سہہ لیتی ہے کہ وہ ماں ہے جبکہ شوہر کسی صورت نہیں سہتا وہ طلاق دے کر رہی رہتا ہے. اور اگر طلاق نہ دے تو اس عورت کہ زندگی بہت بے وقعت ہوتی ہے بہت بے مول بہت ہی زیادہ بے حد حقیر…

لہذا اے لڑکیوں

ویلنٹائین ڈے پہ خود کو خاص اور زندگی میں خود کو روز بچائیں!

اے لوگوں ویلنٹائن ڈے مناتے یہ بات یاد رکھنا
ذرا سنبھل کر
کہیں یہ نوبت نہ اہ جائے
سنبھل جا اے بنت حوا

نہ نکال اپنے ہاتھوں سے اپنے باپ کی عزت کا جنازہ
پیار ایک پھول دینے کا نام نہیں جو سچا پیار کرتا ہے وہ نکاح کا کہتا ہے سڑکوں پارکوں کو ملنے کا نہیں کہتا
سنبھل جا
نہ پیار! کسی پھول کا محتاج نہ پارکوں میں ملنے کا نام .
اس پیارے لفظ کو نہ برباد کرو

اپنا تبصرہ بھیجیں