15

صدر مملکت ممنون حسین کی سابق وزیر اعظم نواز شریف

اسلام آباد(میاں مزمل منیر ) صدر مملکت ممنون حسین کی سابق وزیر اعظم نواز شریف اور دو اہم مقتدر اداروں کے درمیان مفاہمت کروانے کی پس پردہ کوششیں بھی ناکام ہو گئی ہیں جس کے بعد صدر نے بھی اب خاموشی اختیار کر لی ہے۔ مسلم لیگ ن کے ایک سینئر عہدے دار جو کہ صدر ممنون حسین کے بہت قریبی ہیں، نے انکشاف کیا کہ صدر جو کہ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بھی ہیں نے گزشتہ سال اکتوبر سے ہی کوششیں شروع کر دی تھیں کہ

نواز شریف اور دو اہم اداروں کے سربراہوں کے ساتھ ان کے تعلقات میں بہتری لائی جائے ، اور غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے مگر ان کی ان کوششوں کو کامیابی نہیں ہوئی ہے کیونکہ نواز شریف نے اس معاملے پر کسی بھی قسم کی لچک دکھانے سے انکا ر کر دیا ہے خبررساں ادارے آن لائن کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال جولائی میں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد صدر ممنون حسین سے ان کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی مگر ان کا ٹیلی فونک رابطہ نواز شریف کے ساتھ رہا ہے جبکہ ایک سینئر رہنماء4 صدر ممنون حسین اور نواز شریف کے درمیان پیغام رسانی کا کام بھی انجام دے رہا تھا۔ ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ وزیر اعظم شاہدخاقان عباسی ، وزیر اعلی پنجاب شہبا ز شریف نے بھی صدر ممنون حسین سے گزارش کی تھی کہ وہ نواز شریف کو اعلی عدلیہ او ر ایک مقتدر ادارے کے حوالے سے اپنے بیانات میں نرمی لانے کے لئے بات کریں جس پر صدر متحرک ہوئے اور انہوں نے ایک سینئر رہنماء4 کے ذریعے بعض پیغامات بھی بھجوائے اس رہنماء4 نے نواز شریف سے ملاقاتیں بھی کیں مگر نواز شریف ان اداروں کے حوالے سے اپنا موجودہ موقف تبدیل کرنے کو تیار نہیں بلکہ انہون نے پیغام لانے والے کو یہاں تک جواب دے دیا کہ اگر ہم آہنگی اور غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ہے تو پھر ان کی نا اہلی کا غلط فیصلہ واپس لیا جائے اس پر صدر ممنون حسین نے خاموشی اختیار کر لی ،ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان دونوں اداروں کی بعض ذمہ دار شخصیات بھی یہی چاہتی تھیں کہ چونکہ حکومت مسلم لیگ ن کی ہی ہے اس لئے نواز شریف اداروں کے حوالے سے اپنے موقف میں لچک لائیں اور جلسے جتنے مرضی کریں مگر اداروں کے خلاف مسلسل بیانات سے ملک کی وحدت اور یک جہتی کو نقصان پہنچے گا اس سارے معاملے پر جب آن لائن نے صدر کے ترجمان فاروق عادل کو ان کا موقف جاننے کے لئے فون کیا تو ان کا موبائل بند جارہا تھا

جس پر انھیں وٹس ایپ پر پیغام بھیجا تو انہوں نے دو دن تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش رہنا پسند کیا تاہم جب مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تغیرات مشاہد اللہ خان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی پیغام رسانی ان کے علم میں نہیں ہے کہ صدر نے نواز شریف کو کوئی پیغام بھجوایا ہو صدر میرے بھی اچھے دوست ہیں میری ان سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں مگر کبھی انہوں نے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی نواز شریف نے کبھی کسی میٹنگ میں اس کا کوئی ذکر کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے صدر کا موقف ایک اصولی موقف ہے جبکہ صدر کا ایک آئینی کردار ہے جو کہ وہ ادا کر رہے ہیں اس لئے صدر کی جانب سے دو اداروں کے ساتھ نواز شریف کی مفاہمت کی کوششوں بارے وہ لاعلم ہیں اور ان کے نزدیک صدر کی طرف سے ایسا کوئی پیغام نہیں بھجوایا گیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں