495

سینیٹ الیکشن، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق (ن) لیگ کے حمایت یافتہ 13 امیدوار کامیاب

کامران خان ، شعور نیوز

فاٹا سے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق چار سینیٹرز منتخب ہوگئے ہیں جن میں ہدایت اللہ، ہلال الرحمان، شمیم آفریدی اور مرزا آفریدی کامیاب قرار پائے ہیں۔
بلوچستان میں 7 جنرل نشستوں پر 15 امیدوار میدان میں تھے جن میں سے 7 نشستوں پر 5 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے جب کہ جنرل کی 2 نشستوں پر جے یو آئی (ف) اور نیشنل پارٹی کا ایک، ایک امیدوار کامیاب ہوا۔
بلوچستان سے جنرل نشست پر آزاد امیدوار احمد خان، صادق سنجرانی اور انوار الحق سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں جب کہ پشتونخوا میپ کے حمایت یافتہ یوسف کاکڑ بھی کامیاب قرار پوئے ہیں۔
اس کے علاوہ جے یو آئی کے مولوی فیض محمد بھی سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں۔
سینیٹ معرکے کے لیے پولنگ کا عمل صبح 9 بجے شروع ہوا جو بلاتعطل شام 4 بجے تک جاری رہا۔
وقت ختم ہونے کے بعد جو لوگ پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود تھے صرف ان ہی کو ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت تھی۔
بلوچستان اسمبلی میں کل اراکین کی تعداد 65 ہے لیکن گزشتہ روز منظور کاکڑ کو الیکشن کمیشن نے نااہل قرار دیا جس کے باعث تمام 64 اراکین نے ووٹ ڈالے اور اس طرح صوبائی اسمبلی میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 100 فیصد رہا۔
سندھ اسمبلی کے 161 سے نے ووٹ کاسٹ کیے جن میں سے پیپلزپارٹی کے85 ارکان اور مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ 7 ارکان نے بھی ووٹ ڈالے۔
فاٹا کے 11 میں سے8 ارکان نےووٹ کاسٹ کیا، وزیرمملکت غالب خان وزیر، شہاب الدین اور پی ٹی آئی کے قیصرجمال نےووٹ نہیں ڈالا۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اسلام آباد میں موجودگی کے باوجود سینیٹ کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا جب کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی اہلیہ کلثوم نواز بیماری کے باعث بیرون ملک موجود ہیں اس وجہ سے ووٹ نہیں ڈال سکیں۔
الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات میں پولنگ کی نگرانی کے لیے نمائندے مقرر کیے ہیں جن میں الیکشن کمیشن کے چاروں ممبران اور سیکریٹری نگرانی کیلئے موجود رہے۔
الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب خیبرپختونخوا اسمبلی، ممبر الیکشن کمیشن، عبدالغفار سومرو بلوچستان اسمبلی، شکیل بلوچ سندھ اسمبلی اور الطاف ابراہیم قریشی پنجاب اسمبلی میں نگرانی کے لیے موجود ہیں۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کسی امیدوار نے کوئی شکایت نہیں کی، سب امیدواروں نے اچھے انتظامات پر اطمینان کا اظہارکیا۔
ہارس ٹریڈنگ کی شکایت کے سوال پر سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ انہیں کسی نے ایسی کوئی شکایت نہیں کی۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے ضابطہ اخلاق کے مطابق اراکین کے پولنگ اسٹیشن میں موبائل فون لانے پر مکمل پابندی تھی۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق بیلٹ پیپر کو خراب کرنے یا اسے پولنگ اسٹیشن سے باہر لے جانے پر مکمل پابندی تھی

اپنا تبصرہ بھیجیں