11

عورت کبھی حوا !!! از ممتاز حسین ڈھکو

“یہ جملہ تو زبان زدِعام ہے کہ وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ”
میں نے جب اس جملے پر غور کیا تو مجھے اس جملے نے انگلی سے پکڑا اور دنیائے ر نگ و بو کی سیر کروائی۔
مجھے یہ جملہ سب سے پہلے ایک گھر میں کھینچ کے لے گیا وہ ایک ایسا گھر تھا جہاں تین بھائی ایک باپ اور ماں موجود تھے۔یقیں مانو دنیا کی ہر سہولت موجود تھی ہر چیز میسر تھی لیکن دنیا پھر بھی پھیکی پھیکی سی لگتی تھی یوں لگتا تھا خالقِ کائنات کی رحمت نہیں برسی۔گھر کے درودیوار سائیں سائیں کر رہے تھے ۔میں نے جملے سے آنکھ ملائی تو جملے نے میرے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گھرمیں وہ شفقت بھری نعمت موجود نہیں جو ہر دکھ سکھ میں گھر والوں کا بھرم رکھتی ہے ان کے گھر بہن موجود نہیں ہے۔دوستو! بہن کا رشتہ ایک عظیم رشتہ ہے جو ہر دکھ سکھ میں آدمی کو بے بہا تسلیاں دیتی ہے نا صرف تسلیاں بلکہ کندھے سے کندھا ملا کر غم بھی بانٹتی ہے۔وہ شادی بیاہ ہو وہ غم کا موسم ہو بہن اسے چار چاند لگادیتی ہے۔
آگے جملہ اور پیچھے میں ہم ایک ایسے گھر میں داخل ہوئے وہاں پے ایک نوجوان موجود تھا جو اپنے جوبن کے دن بھی مایوسی میں گزار رہا تھا۔وہ نوجوان حسین تھا کافی لوگوں سے آشنا بھی تھا لیکن اس کی زندگی عجیب وغریب کشمکش میں تھی ۔اس کا کوئی راز داں نہیں تھا ۔وہ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے پوری دنیا میں رہتے ہوئے بھی اکیلا رہ رہا ہے۔وہ آشناؤں میں رہ کر بھی اکیلا تھا کیوں کہ انسان جب تک کسی سے دل کی با ت نہ کر لے اسے دنیا بے سوادی بے سوادی لگتی ہے۔وہ نوجوان بھی بلکل اسی طرح نامکمل لگ رہا تھا۔وہ دنیائے رنگ وبو میں اپنا ہم راز ڈھونڈ رہا تھا۔
میں نے جملے سے پوچھا تو اس نے مجھے جواب دیا کہ اس کی جیون ساتھی اسے چھوڑ گئی ہے۔اس کی رفیقِ حیات گھر مین موجود نہیں ہے۔یقیں جانئیے ساری رائنایاں موجود ہونے کے باوجود بنجر زمیں کا سا دکھائی دے رہا تھا۔معلوم ہوا بیوی بھی تصویرِ کائنات میں اپنا ایک نمایاں رنگ رکھتی ہے۔
ابھی میں مدہوش سے وجود میں تھا کہ جملہ مجھے کاندھے کا سہارا دیکر ایسے گھر میں لے گیا میں دیکھتا ہوں کہ گھر میں ایک نوجوان مرد اور عورت موجود ہیں اپنے اندر خوبصورتی کے رنگ جما کے بیٹھے ہیں لیکن گھر میں رحمتِ خد اوندی کا ظہور دکھائی نہیں دے رہا۔ہر طرف سناٹا تھا ۔گھر ایسے دکھائی دے رہا تھا جیسے ملکہ کے بغیر محل دکھائی دیتا ہے۔میں نے جملے سے پوچھا تو جملے نے جواب دیا کہ اگر بیتا خدا کی نعمت ہوتا ہے تو بیٹی بھی خدا کی رحمت ہوتی ہے ۔یہی نہیں جملے نے مجھے فرمانِ نبوی ﷺیاد دلایا۔کہ
“جس نے تین بیٹیاں پال پوس کر ،انکی تعلیم وتربیت پوری کر کے ان کی شادی کی وہ جنت میں میرے ساتھ یوں ہوگا (دو انگلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا)”۔
عزیز قارئین افسوس کی بات تو یہ ہے کہ آج ہم گھبرائے ہوئے لہجوں میں بتاتے ہیں کہ میرے گھر بیٹی پیدا ہوئی ہے حالانکہ ہمارے دینِ فطرت میں کہیں نہیں لکھا ہوا کہ بیٹی کی پیدائش گھبرائے ہوئے لہجوں میں بتاؤ۔یہ ہماری اپنی تنگ نظری ہے۔یہ ہمارا اپنا بغض ہے دوستوجو
ہم بیٹی کو اتنا ناسور سمجھتے ہیں ۔
آخر میں یہ جملہ مجھے ایسے گھر میں لے گیا جو پورا گھر ساری خوبصورتیوں کے باوجود ایک قبرستان کا منظر پیش کر رہا تھا یوں لگ رہا تھا جیسے کسے جنگ کے بعد کسے ویرانے میں آ گئے ہوں ۔وہاں مجھے جملے سے پوچھنا نہیں پڑا وہاں مجھے کافی سارے جملوں نے گھیر لیاکسی نے کہا ما ں کے بغیر گھر ایک قبرستان ہے تو کسے نے کہا جنت ماں کے قدموں تلے ہے حتی کہ مجھے ربِّ ذوالجلال کا حضرتِ موسی کو دیا ہوا پیغام بھی یاد آیا کہ ’’موسی اب سنبھل کے آنا دعا کیلئے پیچھے ماں نہیں ہے‘‘عزیز قارئین ذرا غور کریں ا ﷲتعالی نے اپنی محبت کا اظہار بھی ماں کی محبت سے موسوم کر کے فرمایا کہ میں تم سے ستر(70)ماؤں جتنا پیار کرتا ہوں یہ نہیں فرمایا کہ ستر بھائیوں جتنا پیار کرتا ہوں ،ستر دوستوں جتنا پیار کرتا ہوں نہیں صرف ماں کے پیار کو ترجیح دی۔
عزیز قارئین اس ساری بحث میں ،میں نے چاررشتوں کی بات کی ہے یہ چار رشتے ہماری زندگانی کیلئے بے حد اہم اور ضروری ہیں اور دنیا میں جتنی بھی عورتیں ہیں وہ ان چار عظیم رشتوں میں کسی نہ کسی سے مربوط ہیں ۔یہ چاروں عظیم رشتے علیحدہ علیحدہ اپنا مقام رکھتے ہیں اور ان کے بغیر تصویرِکائنات میں نہ رنگ تھا اور نہ ہو سکتا ہے ۔اب یہ بات ہم پر لازم ہے کہ جب بھی موقع ملے ہمیں ہر حال میں کوشش کرنی چاہئیے کہ ان عظیم رشتوں کے تقدس کو پامال نہ کیا جائے اور خیال رکھا جائے کہ دنیا مکافاتِ عمل ہے اگر ہم دنیا کے کسے بھی خطے میں کسی بھی کی ماں کا ،بہن کااور عزت کا احترام کریں گے تو خدائے لم یزل ہمارے گھروں کو محفوظ فرمائے گا ۔آج کے اس پر آشوب دور میں ہم خیال نہیں کرتے ک ہم کسی کی زندگی کے ساتھ کھیل رہے ہیں کسی کی عزت کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔جھوٹ اور دھوکہ دہی سے رشتے بنائے جا رہے ہیں اور اسی رفتار سے رشتے ٹوٹ بھی رہے ہیں ۔
عزیز قارئین ہمیں مل کے ایک آئیڈیل معاشرہ تشکیل دینا ہے۔اورمیں امید کرتا ہوں کہ ہم اپنی نظروں میں ایک عزت کی جگہ قائم کریں گیاور عورت کو بھی معاشرے میں ایک انسان کی حیثیت سے تسلیم کریں گے اور اس کو بھی آزادانہ طور پر کام کرنے د یں گے۔ہم یہ تسلیم کریں گے کہ مائیں سبھی کی سانجھی ہوتی ہیں اور ہم یہ سمجھیں گے کہ عورت معاشرے کا حصہ نہیں بلکہ سارا معاشرہ ہے اور اس عزم کے ساتھ اٹھیں گے کہ ہم بنائیں گے مثالی معاشرہ۔۔
پاکستان زندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں