70

نابینا افراد کا دھرنا اور خواتین کا عالمی دن ، کامران خان

زندگی بدلی، طریقے بدلے ہم بدلے تم بدلے یہ جہاں بدلا یہ داستان بدلی، زمین و آسمان کے رنگ بدلتے موسموں کے سنگ یہ داستان کوئی اور ہے یہ کہکشاں کوئی اور ہے آہ نابینا افراد ایک معمہ جو حل نہیں ہو سکا، چار دن مسلسل میڈیا کی زینت بننے والا کیس آج دم توڑ چکا ہے، ن لیگ والے بھیگی بلی بن کرہر واقعے کے بعد ٹی وی ٹاک شوز پر آکر کہتے ہیں یہ ہمارے بھائی ہیں کوئی مسئلہ تھا تو ہمیں بتانا تھا کوئی مشکل تھی تو ہمیں آگاہ کردیتے یہ سلسلے سیاسی داستانوں کی زینت بن گئے ہیں ہر طرف ایک ہو کا عالم ہے ایک عجب داستان ہے نابینا افراد کو فیروز پور روڈ پر پولیس کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ان کو پہلی مرتبہ نہیں بلکہ چوتھی مرتبہ بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا پنجاب پولیس کہ جسے قانون کی حکمرانی قائم کرنے کا جنون سوار ہے کہ جس میں آج تک کوئی مالی بے ضابطگی نہیں ہوئی کہ جس کا دامن بے ایمانی سے پاک ہے کہ جس میں افسر شاہی اور سیاستدانوں کا کوئی کردار نہیں ہے وہی پنجاب پولیس اپنے ان داتا شہباز شریف کی رہائش گاہ کی طرف کسی نامحرم کا جانا قبول نہیں کرسکتی شہباز شریف کہ جو اگلے وزیراعظم کے مضبوط ترین امیدوار ہیں ان کو بھی کوئی شرم کوئی حیاء نہیں آئی ان کو کوئی دھیلا یاد نہیں آیا یہ وہی بدقسمت ماڈل ٹاؤن ہے کہ جہاں منہاج القرآن کے چودہ کارکنان شہید ہوگئے تھے اور شہباز شریف کو شرم تک نہیں آئی تھی یہ داستان اقتادر کی ہے اور ان کی قبروں پر پر جا کر ختم ہوجائے گی، چلتے چلتے بات کی جائے خواتین کے عالمی دن کی کہ ہمیں یاد ہے اپنی ماں بہن بیٹی کا یہ دن کہ آج ہی کے دن مغرب نے عورتوں کے حقوق پہچانے تھے آج سے پہلے مغرب میں کوئی خواتین کو حقوق دینے پر تیار نہ تھا لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے مسلمانوں میں عورت کے احترام کا جو تصور باندھ دیا ہے وہ سب سے عظیم ہے مسلمانوں کے لیئے عورت صرف عورت نہیں ماں بہن بیٹی ہے اور اس کے پیروں تلے جنت ہے اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں