57

مدعی سست گواہ چست

پریس ریلیز

مدعی سست گواہ چست
شعور نیوز
بشارت راجہ7 ماہ قبل فیملی عدالت میں دائر تکذیب نکاح کیس میں عدالتی حکم کے باوجود مسلسل غیر حاضر

پری گل آغا عدالت کے باہر اور اسکا ملازم عاشق حسین کمرہ عدالت میں کیس کی پیروی کرتے رہے

سابق وزیر قانون محمد بشارت راجہ کیجانب سے فیملی جج وجیہ خواج کی عدالت میں دائر تکذیب نکاح کیس کی سماعت ،سیمل راجہ نے فاضل عدالت کے روبرو اپنا بیان قلمبند کروا دیا۔

لاہور(کورٹ رپورٹر)سابق صوبائی وزیر قانون محمد بشارت راجہ کی جانب سے فیملی جج وجیہ خواج کی عدالت میں دائر تکذیب نکاح کیس کی سماعت کے دوران بشارت راجہ عدالتی طلبی کے باوجود مسلسل غیر حاضر جبکہ انکی اہلیہ سیمل راجہ نے اپنا بیان قلمبند کروا دیا: سیمل راجہ نے موقف اختیار کیا کہ انکی بشارت راجہ سے تین سال سے زائد عرصہ قبل ہونیوالی شادی دونوں خاندانوں کی رضامندی اور سنی عقیدے کے مطابق ہوئ۔انہوں نے کہا کہ نکاح سے قبل بشارت راجہ کی جانب سے انکو اور انکے فیملی ممبران کو یقین دہانی کروائ گئ کہ وہ پری گل آغا کو طلاق ثلاثہ دے چکے ہیں: بوقت نکاح شوہر کیجانب سے طلاق موثر ہونے کا سرٹیفکیٹ مہیا نہ کئے جانے کے باعث نکاح نامہ رجسٹر نہ ہو سکا۔ مگر بشارت راجہ کی جانب سے اس بات کی مکمل یقین دہانی و ذمہ داری اٹھائ گئ کہ وہ خود نکاح نامہ کو اپنی آبائ یونین کونسل دھمیال میں رجسٹر کروائیں گے۔ سیمل راجہ نے مذید کہا کہ وہ گذشتہ برس بیرون ملک سے واپس آئیں تو شوہر پراسرار طور پر غائب ہو گئے بعد ازاں عدالتی حکم پر جاری ہونے والے اخبار اشتہار سے علم ہوا کہ بشارت راجہ کے نام سے تکذیب نکاح کا دعوہ دائر کیا گیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ مذکورہ دعوہ میں یکطرفہ کاروائ کی غرض سے جان بوجھ کر انکا پتہ غلط تحریر کیا گیا۔انہوں نے فاضل عدالت سے استدعا کی کہ وہ اپنے شوہر کے دستخط اچھی طرح پہچانتی ہیں بشارت راجہ کے نام سے دائر تکذیب نکاح کے اس دعوہ میں انکے دستخط جعلی ہیں۔ وہ کسی صورت بھی بشارت راجہ سے علیحدہ نہیں ہوں گی اور اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں کیونکہ یہ انکا شرعی حق ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بشارت راجہ کی مطلقہ سابق سینٹر پری گل عدالت کے باہر جبکہ ملازم عاشق حسین کمرہ عدالت میں تکذیب نکاح کیس کی پیروی کرتے رہے

اپنا تبصرہ بھیجیں