2

لاہور ہائیکورٹ نے تعلیمی پالیسی کے حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے تعلیم چھوڑنے کے 5 سال بعد تعلیمی ادارے میں دوبارہ داخلے پر عائد پابندی کو کالعدم قرار دے دیا۔

فاطمہ خالق(شعور نیوز)
لاہور ہائیکورٹ نے تعلیمی پالیسی کے حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے تعلیم چھوڑنے کے 5 سال بعد تعلیمی ادارے میں دوبارہ داخلے پر عائد پابندی کو کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت عالیہ کے جج جسٹس عاطر محمود نے طالبہ زوبیہ امجد کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔
لاہور ہائی کورٹ کا تعلیمی پالیسی کے حوالے سے تحریری فیصلہ 6 صفحات پر مشتمل ہے۔
تعلیمی معیار میں پنجاب تیسرے،خیبرپختونخوا پانچویں نمبر پر ہے،رپورٹ
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ تعلیم حاصل کرنا ہر شخص کا بنیادی حق ہے اور عمر کے کسی بھی حصے میں تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ کسی کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا جبکہ پنجاب حکومت کی تعلیم چھوڑنے کے 5 سال بعد داخلہ نہ دینے کہ پالیسی قانون کے منافی ہے۔
خیال رہے کہ درخواست گزار نے عدالت میں دائر اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے 2009 میں میٹرک کا امتحان سائنس میں پاس کیا تھا۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پنجاب حکومت کی پالیسی کے باعث 5 سال بعد ایف ایس سی میں داخلہ نہیں دیا جارہا۔
درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ عدالت پنجاب حکومت کی تعلیم چھوڑنے کے 5 سال بعد داخلہ نہ دینے کی پالیسی کالعدم قرار دے
ایڈیٹر میاں مزمل منیر شعور نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں