30

جمہوریت کی ساکھ کا مسئلہ از سلمان عابد

پاکستان میں جمہوریت ابھی بھی اپنے ارتقائی عمل سے گزررہی ہے ۔ عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کا تسلسل ، تجربہ اور مستقل مزاجی اس میں موجود خرابیوں کو دور کرنے کا سبب بنتی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم جمہوریت سے جڑے ہوئے بھی ہیں اور جمہوری تسلسل کے حامی بھی ہیں۔ کیونکہ جمہوری عمل اصلاحات کی مدد سے آگے بڑھتا ہے اور یہ ہی عمل کسی بھی معاشرے میں جمہوری ماحول اور فیصلہ سازی کے عمل کو مضبوط بناتا ہے ۔لیکن یہ بنیادی نوعیت کا سوال ہمارے جیسے معاشروں میں ہمیشہ سے بحث طلب رہا ہے کہ کونسی جمہوریت او راس کے خدوخال کیا ہونگے ؟
کیونکہ بدقسمتی سے پاکستان میں جو جمہوریت سے جڑی ہوئی تاریخ کو دیکھیں توو ہ عملی طور پر سول ملٹری تنازعات، تضاد، بداعتمادی ، ٹکراو، فوجی اقتدار، مارشل لااور خود سیاسی قوتوں کے اپنے داخلی بحران یا غیر جمہوری مسائل کی صورت میں دیکھے جاسکتے ہیں۔یقینی طور پر کسی بھی معاشرے میں جمہوری عمل کی مضبوطی کسی سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں ہوتی ، بلکہ اس کے لیے معاشرے کے تمام طبقات اور فریقین کو اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنا پڑتی ہے ۔ لیکن کیونکہ یہاں ایک ٹکراو کا عمل ہے جو جمہوری طور پر آگے بڑھنے کی بجائے ہمیں پیچھے کی طرف دکھیلتا ہے ۔
اس ملک میں جمہوریت سے جڑے ہوئے تمام فریقین بڑی شدت کے ساتھ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی پر زور دیتے ہیں۔لیکن عملا مجموعی طور پر نظر ڈالیں تو جمہوریت کو جو بڑے خطرات درپیش ہیں ان کی نوعیت خارجی بھی اور داخلی تضاد یا مسائل بھی ہیں ۔ یہ جو جمہوریت، سیاست ، سیاسی جماعتوں ، سیاست دانوں کے بارے میں ایک منفی تاثر معاشرے میں موجود ہے وہ جمہوری ساکھ کو متاثر کرتا ہے ۔ عمومی طور پر دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ایک خاص منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے تحت سیاست اور اس سے جڑے ہوئے فریقین کو بدنام کیا جاتا ہے ، تاکہ جمہوریت کا مقدمہ کمزور ہو۔ یقینی طور پر اس میں صداقت بھی ہے ۔لیکن خود جمہوریت سے وابستہ افراد جو کچھ اپنے فیصلوں، طرز عمل اور طرز حکمرانی سے کررہے ہیں اس میں بھی ہمیں بادشاہت، آمرانہ مزاج اور فیصلوں سمیت بدعنوانی او ربدیانتی کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے جو جمہوریت کے مقدمہ کو کمزور کرتا ہے ۔
حالیہ سینٹ کے انتخابات میں جو کچھ ہمیں دیکھنے کو ملا ہے وہ بہت سے تلخ سوالوں کو جنم دیتا ہے کہ ہم کس طرز کی جمہوریت کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ۔تمام سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت برملا اعتراف کررہی ہے کہ حالیہ سینٹ کے انتخابی عمل میں ارکان اسمبلیوں کی خرید وفروخت کا بازار سجایا گیا ۔ وہ جماعتیں جو جمہوریت کی سب سے بڑی علمبردار ہیں وہ اس بدنما کھیل میں نمایاں نظر آئیں۔ سب جماعتوں نے اعتراف کیا کہ سینٹ جیسا مقدس اور اہم ادارہ دولت کی مدد سے بننے والا ادارہ بن گیا ہے ۔ٹکٹوں کے اجرا سے لے کر انتخابی نتائج تک پیسے کا کھیل نمایاں نظر آیا ۔اگرچہ پیسے لینے اور دینے کے شواہد کسی کے پاس نہیں ،لیکن سب دہائی دے رہے ہیں کہ پیسے کا یہ کھیل ہوا ہے ۔
سیاست میں عمومی طور پر عقل اور فہم سے زیادہ تصورات کو بالادستی ہوتی ہے ۔ ممکن ہے کہ پیسے کا لین دین وہ نہ ہو جو میڈیا یا سیاسی مجالس میں زیر بحث ہے ۔مگر کیونکہ ایک عمومی تصور یہ ہی غالب ہے کہ پیسے کا کھیل ہوا ہے تو جمہوریت کے بارے میں ہر سطح پر مایوسی کا عمل بھی پیدا ہوا ہے ۔کئی اہم اور سنجیدہ نوعیت کے اہل دانش نے سینٹ کے حالیہ انتخابات پر نہ صرف سوالات اٹھائے ہیں بلکہ جمہوریت کے بہتر مستقبل سے مایوسی کا بھی اظہا رکیا ہے ۔سینٹ کے انتخابات کی منفی کہانی کا یہ عمل محض پاکستان تک محدود نہیں بلکہ عالمی میڈیا میں بھی پیسوں کی بنیاد پر ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کی کہانیوں کو تقویت ملی ، جو واقعی توجہ طلب مسئلہ ہے ۔
اصل میں ہماری سیاسی جماعتوں اور قیادتوں نے اپنے اپنے جماعتی نظام میں داخلی سطح پر جوابدہی یا احتساب کے ایسے کوئی نظام نہیں بنائے جو بدعنوانی پر مبنی سیاست کو لگام دے سکے ۔ اس کی ایک وجہ خود اہل سیاست کی اپنی قیادت ہے ، کیونکہ جب خود قیادت اس طرح کی بدنیتی اور بدعنوانی پر مبنی سیاست کو فروغ دے گی تو مجموعی طور پر سیاسی کلچر بھی وہی غالب ہوگاجو ہمیں بالادست نظر آتا ہے ۔یہ مسئلہ محض سینٹ کے انتخابات تک محدود نہیں بلکہ آپ مقامی حکومتوں کے انتخابات سے لے کر قومی اور صوبائی انتخابات پر نظر ڈالیں تو اس میں دولت ، پیسے، اقرا پروری ، بددیانتی ، بدعنوانی سمیت جھوٹ کی سیاست غالب ہوگئی ہے ۔ سیاسی جماعتوں میں پارٹی ٹکٹ کی خرید وفروخت اور پیسے کی بنیاد پر پارٹی ٹکٹ کا اجراسمیت پارٹی فنڈ کے نام پر جمع ہونے والا پیسہ بدعنوانی کی سیاست کو طاقت فراہم کرتا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ حالیہ سینٹ کے انتخابات میں جس جس جماعت کو اس کی عددی تعداد سے بڑھ کر سیٹیں ملی ہیں اس میں کیا کچھ ہوا اس پر غورفکر کی ضرورت ہے ۔ اس وقت ملک میں کوئی نظریاتی ، اصولی اور نیک نیتی پر مبنی سیاست تو موجود نہیں، جو کچھ ہورہا ہے وہ مفاداتی سیاست سمیت کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر ہے ۔اس لیے یہ کہنا کہ ارکان اسمبلی نے اپنی اپنی جماعتوں سے ہٹ کر کسی امیدوار یا جماعت کی حمایت کی ہے تو اس کی بنیاد کسی اصول کی بنیاد پر ہے ، محض فکری مغالطہ ہے ۔ سب جانتے ہی کہ یہاں کیسے ارکان کو اپنا ہمنوا بنایا جاتا ہے اور کیا منفی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں جو جمہوری اور سیاسی نظام کو کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
خیبر پختونخواہ میں عمران خان ،بلوچستان اور پنجاب میں نواز شریف ، سندھ میں ایم کیو ایم سب کو دکھ ہے کہ پیسے کی بنیاد پر ان کے ارکان اسمبلیوں کی وفاداریوں کو خریدا گیا ہے ۔ پیپلز پارٹی پر سب سے زیادہ الزام ہے کیونکہ اس کو مجموعی طور پر 103ووٹ سینٹ کے انتخابات میں دیگر جماعتوں سے ملے ہیں۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کھیل میں سب ہی ننگے ہیں اور جس کا جہاں داو لگا اس نے وہی کچھ کیا جو اس کے مخالفین نے کیا ہے ۔اسی طرح ایک مسئلہ سینٹ جیسے ادارے میں پارٹی ٹکٹ کے اجرا پر میرٹ کا جو قتل ہوا او رجیسے لوگوں کو پارٹی ٹکٹ دیے گئے وہ بھی مذاق ہے۔سیاسی جماعتیں ایک یا دو ایسے افراد کو ٹکٹ جاری کرتی ہیں جو محروم یا کمزور طبقات ہوتے ہیں او رپھر ان کی بنیاد پر اپنا جمہوری تشخص بہتر پیش کرتی ہیں ۔ مگر مجموعی طور پر ان کی سیاست میں بھی وہی خرابیاں غالب ہیں جو ہمیں دوسری سیاسی جماعتوں میں بالادست نظر آتی ہیں۔
سیاسی جماعتیں جب یہ دلیل دیتی ہیں کہ کچھ قوتیں جمہوریت کو کمزور کرنے یا اسے محدود کرنے کے کھیل میں شریک ہیں تو یہ غلط نہیں ، لیکن جمہوریت سے جڑے ہوئے لوگ جو خود ایسی منفی اور بددیانتی پر مبنی سیاست کررہے ہیں جو جمہوریت اور قانون کے نام پر ہے تو اس کا بھی داخلی احتساب ہونا چاہیے ۔ یہ جو کارپوریٹ جمہوری ماڈل ہے جو آج دنیا کی جمہوری سیاست کو بدنما بنارہا ہے اس کا بگاڑ ہمارے جیسے ملکوں میں بھی نمایاں ہے ۔ سیاست کو جب کاروباریا منافع کمانے کا زریعہ بنایا جائے گا تو پھر حقیقی جمہوریت کا تصور بہت پیچھے رہ جاتا ہے ۔ جمہوری سیاست میں جو جتنا بڑا سرمایہ لگائے گا اسی کے مفادات کو بنیاد بنا کر جمہوری عمل آگے بڑھتا ہے ، اس عمل کو روکنا ہوگا۔
یہ بات بالکل بجا ہے کہ جب تک ہم اپنے داخلی جمہوری نظام میں خود احتسابی ، شفافیت، جوابدہی ، عام آدمی کی فیصلہ سازی میں شمولیت ، سیاسی جماعت کی مضبوطی ، عوامی مفادات پر مبنی سیاست کو طاقت فراہم نہیں کریں گے جمہوری عمل کمزوری سے طاقت میں نہیں بدل سکے گا۔ یہ جو خاندانی سوچ کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کو چلایا جارہا ہے او رجس انداز سے اپنے ہی سیاسی کارکنوں کو یرغمال بنایا جاتا ہے اس میں جمہوریت کم او ربادشاہت پر مبنی سیاست کو زیادہ طاقت ملتی ہے ۔آمرانہ مسائل فوجی حکمرانی تک محدود نہیں ، بلکہ سیاسی نظام میں بھی اس کا غلبہ ہے ۔
یہ جو ہمارا اس وقت جمہوری اور سیاسی نظام ہے ایک بڑی تبدیلی کی جانب گامزن ہے یا تبدیلی کا عمل ناگزیر ہوگیا ہے ۔ کیونکہ جس انداز سے جمہوری اور سیاسی نظام چلایا جارہا ہے وہ اپنی اہمیت کھو بیٹھا ہے ۔ اس میں غیر معمولی اقدامات کی اشد ضرورت ہے ۔یہ مسئلہ ڈسپرین کی گولی سے ٹھیک نہیں ہوگا بلکہ کینسر جیسے مرض کا علاج ایک بڑے سیاسی آپریشن کے بغیر ممکن نہیں ۔یہ آپریشن اگر خود سیاسی نظام، سیاسی قیادتیں ، جماعتیں اور عوام کریں تو بہتر ہوگا، وگرنہ دوسری صورت میں جمہوریت ا ور عوام میں بڑھتی ہوئی یہ خلیج جمہوری مستقبل کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں