85

قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن از نوید اسلم ملک

ابھی اور بھی ضرورت ہے مگر آغاز ہوچکاہے کیونکہ خدا مہربان ہوچکاہے اور پاکستان جلد ایک کامیاب ملک و قوم کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھراہوگا اور یہاں کے باسی دنیا کے جس کونے میں بھی ہوں گے تو بتانے میں فخر محسوس کریں گے ہم پاکستانی ہیں کیونکہ اب دنیا جتنی جدید ہوچکی ہے اس وقت کسی شخص یا ملک کو ترقی کرنے کے لیے سالوں یا صدیوں کی ضرورت نہیں بلکہ ایک سوچ ،ایک آئیڈیا اور فکر کی ضرورت ہے جس پر عمل کرنے سے بہت مختصر وقت میں کامیاب ہوا جاسکتاہے۔ہم آگے بڑھنے سے پہلے ایک واقعہ کی طرف آتے ہیں۔ایک جوتے بنانے والی کمپنی کو کسی ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جوان کی فروخت میں اضافہ اور کمپنی کو بہت جلد اعلی سطح پر لے جائے۔تو اس وقت ان کو ایک شخص جسے ملازمت کی ضرورت تھی ملا جسے اس کمپنی کی مینجمنٹ ٹیم نے ہدف دیا۔اور اسے ایک شہر میں بھیجا گیا تاکہ وہ وہاں کے لوگوں کو ملے،مشاہدہ کرے اور دیکھے کہ اگر ہم وہاں فیکٹری لگاتے ہیں۔تو ہمیں کتنا فائدہ ہوسکتاہے وغیرہ وغیرہ۔اس کے بعد وہ شخص مطلوبہ شہر میں چلاجاتاہے وہاں کے لوگوں کو دیکھ کر مایوس ہوکر واپس آجاتاہے اور کہتاہے اس جگہ اس شہر میں فیکٹری لگانا اورجوتوں کا کاروبار کرنا اپنی کاوشوں اور وسائل کو پانی میں بہانے کے مترادف ہے۔اس طرح سے پہلا شخص کام کرنے سے منع کرتاہے اور اس کے بعد وہ کمپنی دوسرا شخص بھیجتی ہے وہ بھی جاتاہے مشاہدہ کرتاہے لوگوں کے رہن سہن کو دیکھتاہے تجزبہ کرتاہے اور واپس آکر کہتاہے کہ وہاں کے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ پاؤں میں پہننے کے لیے بھی کوئی چیز ہوتی ہے لہٰذا ہم ان لوگوں کو شعور دے کر ان کے سامنے اپنی پراڈکٹ دکھا کاروبار میں اضافہ کر سکتے ہیں اور فیکٹری لگانا بہت بڑا فیصلہ اور فائدے کی بات ہے۔لہٰذا دوسرا شخص کامیاب ہوجاتاہے ہم واپس پاکستان کی طرف آتے ہیں ،پاکستان میں مختلف نوعیت کی مختلف نجی و سرکاری اداروں میں ورکشاپس ہوتی تھیں مگر وہ صرف اس ادارے کی مخصوص آڈینس اور ممبرز تک ہی محدود ہوتی تھی اس کے علاوہ بڑے تعلیمی ادارے بھی سیلف موٹیویشن ،خودشناسی جیسے موضوعات پر بھی اپنے طلبہ کی اصلاح کے لیے محدود ورکشاپس منعقد کرواتے ہیں مگر ان لوگوں کی سوچ شاید پہلے شخص کی سی تھی کیونکہ یہ لوگ صرف اپنے ممبر کو ہی اس طرح کے سیمینار سے مستفید کرتے تھے۔مگر پھر اس دوران قدرت کو پاکستان پر رحم آگیا کیونکہ پاکستان کو انگریزوں اور بیرونی حکمرانی سے آزاد ہوئے تو عرصہ ہوگیا تھا مگر یہ قوم ابھی بھی اپنی غلامی میں تھی۔جوکہ محدود اور نوکری کرنے کی سوچ پر مبنی تھی انہیں کسی ایسے لیڈرراہنماکی ضرورت تھی جو ان کو خود کی غلامی سے آزاد کروا سکے لہٰذا اسی دوران ایک شخص جس کا نام قاسم علی شاہ ہے اپنے گھر میں چھوٹی سی اکیڈمی چلارہا تھااور وہ اپنے ادارے کے طلبہ کو سوچنے،سوال کرنے اور آگے بڑھنے پر اکساتارہتاتھا۔ کیونکہ قدرت پاکستان پر مہربان ہورہی تھی لہٰذا انہی دنوں قاسم علی شاہ کو ان کے دوست(علی عباس ) نے مشورہ دیا کہ اپنے ادارے کے بچوں کو جو کچھ سکھاتے ہیں انہی باتوں ،لیکچرز کی ویڈیوز محفوظ کرلیجئے اور انہیں عوام الناس کے لیے عام کردیجئے۔اُن (دوست )کو معلوم تھا کہ یہاں (پاکستان )کی عوام بھی ننگے پاؤں کی مثل ہے جسے اُن لیکچرز ،اس علم کی ضرورت ہے ۔قاسم علی شاہ کو اپنے دوست کا آئیڈیا پسند آیا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ پاکستانی قوم کی سوچیں خود پر آشکار ہونے لگیں اور ہر نوجوان خود سے یہ پوچھنے پر مجبور ہوگیا کہ میں کیوں ہوں؟ میرا مققصد کیا ہے؟ میں کیا ہوں؟ جب یہ سوالات ابھرنے شروع ہوئے تو پاکستان کا مستقبل بدلتاہوا نظر آنے لگا کیونکہ جب انسان خود کو جانتاہے پہچانتاہے تو وہ اپنے اور دوسروں کے لیے خیر کا سبب بن جاتاہے اس کے برعکس اگر قاسم علی شاہ اپنے دوست کے آئیڈیا کو قبول نا کرتا تو شایداسے یہ مقام حاصل نہ ہوتا جو آج ہوچکاہے قاسم علی شاہ ایک نام نہیں ایک برینڈ بن چکاہے اور یہ لیڈر پاکستان کو قائداعظم کا پاکستان بنانے میں اہم کردار ادا کررہاہے وہ ایک اکیڈمی سے فاؤنڈیشن تک کا سفر طے کرچکاہے اور اب وہ پاکستانی نوجوان کی فاؤنڈیشن (بنیاد )کو پکا کرنے میں اہم ثابت ہوچکاہے کیونکہ جب بھی آپ بڑی عمارت بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو اس کی فاؤنڈیشن پکی اور مضبوط بنانا ہوگی وہ عمارت تب ہی قائم رہے گی اس طرح آپ کو ایک ہجوم کو قوم بنانے کے لیے اس کی فاؤنڈیشن اچھی قائم کرنی ہوگی۔قاسم علی شاہ نے بھی دوسرے شخص کی طرح سوچا اور اس ملک کو کامیاب کرنے ترقی یافتہ بنانے کے لیے ایک فاؤنڈیشن(قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن )کی بنیاد رکھ دی جو کہ مختلف نوعیت کی ورکشاپس اور سیمینارز کروا کر ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہے اب پاکستان کو آگے بڑھنے ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا کیونکہ اس کی فاؤنڈیشن مضبوط ہورہی ہے اور یہاں کا نوجوان آگے بڑھ رہاہے آپ بھی اپنی فاؤنڈیشن کو مضبوط کیجئے اپنے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیجئے آپ کے علاقہ میں جس چیز کی ضرورت ہے مہیا کرنے کی کوشش کریں دوسروں کے لیے خیر کا سبب بنیں۔اور اچھی بات پھیلائیے کیونکہ اچھی بات ہی اچھی و مضبوط فاؤنڈیشن کی ضمانت ہے اورجس قوم کی جتنی زیادہ فاؤنڈیشن مضبوط ہوگی اسی طرز سے وہ قوم زیادہ کامیاب نظر آئے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں