35

لارڈ میکالے ۔ تیرا ککھ نہ رہوے از ممتاز حسین ڈھکو

کسی ملک کی ترقی اور تنزلی اس کی باشندہ قوم پر منحصر ہوتی ہے۔جس قسم کے لوگ ہوتے ہیں ترقی اور تنزلی کا معیار بھی ویسا ہوتا ہے۔حاضر وقت قوم آنیوالی نسلوں کی قسمت کے فیصلے کرتی ہے۔ملک و ملت کی سرفرازی اور قومی حمیت کا اندازہ اس کے نظامِ تعلیم سے لگایا جاتا ہے۔انسانی تاریخ اس بات کا اقرار کرتی ہے کہ قوموں کی ترقی تعلیمی بنیادوں میں پنہاں ہے۔ علم نے حضرتِ آدم کو فرشتوں پر برتری بخشی۔تعلیم نے انسان کو چاند کا مسافر بنا دیا تو کہیں تعلیم نے پینسلین ایجا د کر کے انسانیت کو حسنِ دوام بخشا۔پہیہ،کرنٹ، سافٹ وئیر،موبائل حتیٰ کہ اس نا قابلِ تسخیر کائنات کو گلوبل ولیج بنا کے رکھ دیا۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کے ستر سال بعد بھی میرا پیارا پاکستان تحفہ ء اغیا ر پر قناعت کرتا نظر آتا ہے۔گورا تو ایک صدی تک ہم پر حکمرانی کر کے چلا گیا پر ہمیں جہیز میں اپنا ایجاد کیا ہوا نظامِ تعلیم سونپ گیا۔اصل میں وہ یہاں سے جانا نہیں چاہتا تھا اس لئے وہ تعلیم و تدریس کا ایسا خاکہ تیا ر کر گیا جس نے دو قومی نظریے کا وجود نیست و نا بود کر دیا اور تو اور مذہب کو بلکل تعلیم میں گھسنے کی گنجائش تک نہ دی۔جس کی وجہ سے ہم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے جسمانی طور پر آزاد اور ذہنی طور پر غلامی کی زنجیروں سے پیار کرنے والے رہے۔۰۷ سال چپو چلانے کے بعد بھی کشتی وہیں کی وہیں کھڑی ہے۔ایسے حالات میں لارڈ میکالے کے گفٹ کو سینے میں سموئے پیروکاروں سے نظریاتی اساس میں لہو کی نہریں بہانے والے سوال کرتے ہیں۔۔
لہو برسا، بہے آنسو،لٹے راہرو،کٹے رشتے
ابھی تک نا مکمل ہے مگر عنوانِ آزادی
ان سارے حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میں معیارِ تعلیم کی کیا بات کروں ، جب نظامِ تعلیم اپنا نہیں تو معیار کیا ہوگا؟؟ لارڈ میکالے اور اس کے ہم نشینوں نے ایسا نظام دیا جس میں نا تو عقابی روح پیدا ہوئی نہ ہی حب الوطنی بلکہ ستاروں پر کمندیں ڈالنے والے خاکِ راہ میں تلاشِ رزق میں خاک ہوگئے۔نت نئے تجربات نے کوے کو ہنس کی چال چلا دی ۔۔جس سے نہ ہم انگریز بنے نہ مسلم ، دنیوی نہ دنیاوی، اپنے نا کسی کے۔۔
کسی نے خوب کہا۔
انگریز کی تعلیم نے رکھا نہ کہیں کا
تعلیم کا حکمت کا نہ ہی دنیا کا نہ دیں کا۔۔
قارئینِ محترم ملکِ پاکستان میں کوئی ایک نظامِ تعلیم ہو تو بندہ معیار کی بات کرتا ہے۔یہاں ہر طبقے کا اپنا ایک نظامِ تعلیم ہے۔حکومتی ادارے چاہتے ہیں کہ ترکی ،کینڈا اور کئی ممالک کا نظام چوری کر کے لارڈ میکالے میں فٹ کر دیا جائے۔انگلش میڈیم پرائیوٹ سکول اپنی اپنی دکان کا الگ نصاب و نظام لکھوا کے بیٹھا ہے۔امریکہ اور برطانیہ سے مرتب شدہ نصاب اور نظام آزاد پاکستان میں پڑھایا جاتا ہے۔کہیں دوپہر کی تپتی دھوپ میں دو دونی چا ر کا ورد جاری ہے تو کہیں فائیو سٹار بلڈنگز میں بیٹھ کر لبرل ازم کا راگ الاپا جا رہا ہے۔
میں کس کے ہاتھ پے اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے۔۔
ہمارے ہاں معیارِ تعلیم کو بہتر کرنے کے لئے سپر وائزرز کی تعداد بڑھا دی جاتی ہے جس میں اندھوں کو سوئی میں دھاگہ ڈالنے ک لئے منتخب کر لیا جاتا ہے ۔محمد علی جناح نے کہا تھا ہم ایسا نظامِ تعلیم دیں گے جس سے ملک و ملت میں ایسے سپوت جنم لیں گے جو ہر میدان میں نظریاتی امنگوں کے ترجما ن ہونگے۔لیکن ہم نے اپنے آباء کی خواہشات کو پسِ پشت ڈال دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم نظامِ تعلیم پر نگاہ ڈالتے ہیں تو علم نوکریوں کے حصول اور فلک بوس عمارتوں کو تعمیرکرنے کا منبع و محور نظر آتا ہے۔ہمارے ہاں تعلیم یافتہ طبقہ کسی کے مالی، معاشرتی،مذہبی، ثقافتی اور قبائلی اقدار کو لوٹتا ہوا سی بھی نہیں کرتا۔کوئی اسماء ،زینب ، اقصیٰ محفوظ نہیں۔تعلیم یافتہ انسان قیامت کی باتیں کرنے والے کو دکیہ نوسی گردانتہ ہے جب کہ مدرسے میں بیٹھا شخص اپنے علاوہ سب کو کافر کہہ کر مارنا جائز گردانتا ہے۔ نظامِ تعلیم لاوارث مریض کی طرح آپریشن تھیٹر سے نکلتا تو کومے میں چلا جاتا کومے سے نکلتا تو سر، دھڑ اور ٹانگیں آپس میں رابطہ چھوڑ دیتی ہیں۔ستر سال سے عطائی علمی اسپیشلسٹ آتے ہیں اپنی فیس لیتے ہیں اور رفوچکر ہوجاتے ہیں۔علم فروخت منڈیاں بن چکی ہیں۔جو ہمارے نفسیاتی، وراثتی، معاشرتی اور ثقافتی تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لئے سر گرداں ہے۔گاؤں گاؤں ،شہر شہر،گلی گلی کوچہ کوچہ انسانوں کو مشینیں بنانے کی فیکٹریاں موجود ہیں۔ہمارے اربابِ اختیار تین کمروں کے سکول میں دو سو بچہ بٹھا کے بائیس ہزار پے این ٹی ایس کے ذریعے استاد لگا کہ بابانگِ دہل اعلان کرتے ہوئے سبکتے بھی نہیں کہ کراماکاتبین کیا کہیں گے؟؟
حضور ماتم کناں رہنے سے حالات بدلا نہیں کرتے۔زندہ قومیں اپنے قبلے درست کرتی ہیں اور بڑھتی چلی جاتی ہیں۔دینِ حق نے علم کو مومن کی میرث قرار دیا ہے۔اور فرما دیا ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلم مرد اور عورت پر فرض ہے۔ہمتِ مرداں تے مددِ خدا۔۔
ہمت سے خوابوں کو تعبیریں بخشی جا سکتی ہیں۔قوتِ ایمانی سے سیلِ بے کراں روکا جا سکتا ہے۔ارادوں کی مضبوطی ہو تو قلعہ خیبر کا دروازہ علیؑ کی ڈھال بن سکتا ہے۔اگر ہم ایک نصاب کا نفاظ کر سکتے ہیں تو ماہ و مہر کی تسخیر خواہشِ دیرینہ نہیں ہو سکتی۔۔
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِدارا۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں