1

زندگی گزارنا کارِ ثواب ہے از ممتاز حسین ڈھکو

سرسبز وادیاں، اونچے پہاڑ ،پہاڑوں پے گرتی بھلی لگتی ہوئی سفید برف جب سورج کی گرم نرم کرنوں سے پگلتی ہے تو اس سے اپنا وجود قائم رکھنے والے گہرے پانیوں کے سمندر،چرند پرند،شجر و حجر،صبح و شام،رات کا خوبصورت وجود،چاند ستارے ، آگ ، پانی، ہو ا، مٹی،جن وبشر،مریخ ،مشتری ، زہرا،زمین،پر رونق بازار، ہستی مسکراتی گلیاں سب فنا ہونے کے لئے بنائی گئی ہیں، المختصر جو پیدا ہوا اس نے ختم ہونا ہے اور یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم نے مر جانا ہے۔خالقِ کائنات نے کائنات میں اربوں ،کھربوں لوگ بھیجے جو میری اور آپ کی جگہ لے سکتے تھے۔ساحلوں پر ریت کے ذروں کی تعداد اتنی نہیں جتنی روحیں اس دنیا میں پیدا نہیں ہو سکیں۔ان میں علامہ اقبال سے بڑے شاعر اور قائداعظم سے بڑے لیڈر بے شک موجود ہونگے ، میں پختہ یقین سے اس لئے کہہ رہا ہوں کیونکہ ہمارے ڈی این اے میں بچے پیدا کرنے کی اس قدر صلاحیت ہے کہ زمین کم پڑ جائے گی۔میں اور آپ اس وقت اس کائنات میں موجود ہیں ا س امر کے بہت کم امکانات تھے، لیکن میں اور آپ پھر بھی موجود ہیں یہ شکریے کا مقام ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ روح نطفہ ٹھہرنے کے لمحے وجود میں آتی ہے اور یہ لمحہ انسانی زندگی کا اہم ترین لمحہ ہے۔اگر آپ کو یہ سب مذاق لگتا ہے یا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا اور میرا پیدا ہونا کسی اچنبے کی بات نہیں تو ذرا اپنی پیدائش کے نو ماہ پیچھے چلے جائیں ۔ آپ کی زندگی میں ایک ایسا لمحہ گزرا جس میں آپ کی زندگی کا اہم ترین فیصلہ ہوا تھا ۔ اسی لمحے آپ کے شعور میں انقلابی تبدیلی آئی اور یہ لمحہ آپکی زندگی میں تما م لمحا ت کا سردار لمحہ ٹھہرالیکن ابھی بھی تیرے اور میرے سپرم کو بہت مشکلا ت پر حاوی ہونا ہے۔مشاہدات کہتے ہیں کہ نطفے ٹھہرتے ہی اسقاط کے عمل سے گزر جاتے ہیں جس کی ماؤں کو بھی خبر تک نہیں ہوتی۔میری اور آپکی خوش قسمتی ہے کہ ہم اس مرحلے سے بھی بچ نکلے۔مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ فرد کاپیدا ہونا کوئی آسان مرحلہ نہیں ہے یہ لاکھوں کروڑوں سپرمز کی دوڑ ہے جس میں کسی ایک سپرم نے کسی خاص انڈے میں داخل ہونا ہوتا ہے اور اس عمل کے سر زد ہونے کا امکان انتہائی کم اور قلیل ہوتا ہے۔میں اور آپ خوش قسمت ہیں کہ اس مر حلہ سے بھی گزر چکے ہیں۔ہم کئی اور اعتباروں سے بھی خوش قسمت ہیں کہ ہم جس کائنات میں موجود ہیں اس کی عمر کوئی ایک سو ملین ہے اور کوئی مزکورہ وقت گزرے گا تو سورج سرخ ستارہ بن جائے گااور اسی اثنا میں ہماری بیچاری زمین کو نگل جائے گا۔اگر ہم کائنات کی کل عمر میں شامل صدیوں کی وقوع پذیری کا امکان ایک جیسا سمجھ لیں تو جس صدی میں آپ اور میں زندہ ہیں اس صدی کے وقوع پذیر ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔ دیوارِ چین پر چلتی ہوئی ایک چیونٹی ذہن میں لائیں اور جدھر آپ بیٹھے ہیں ادھر سے سکہ اچھا لیں اور گمان کریں کہ اس چیونٹی پر گرے گا تیری اور میری صدی کے واقع ہونے کا امکان اس سے زیادہ نہیں۔المختصر انسان کے زندہ رہنے سے مر جانے کے امکانات زیادہ واضح ہیں۔ہماری پیدائش اور بقا ء کی تمام تر غیر یقینی اور کم امکانی اپنی جگہ ہم زندہ ہیں یہ ہی بڑی بات ہے۔ان ساری خوش قسمتیوں میں دو اور ڈالیں کہ میں یہ کالم لکھ چکا ہوں اور آپ پڑھ رہے ہیں۔اس بات کو پرکھنے کے لئے نظر دوڑائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کائنات میں بہت سے لو گ ایسے ہونگے جو یہ بھی نہیں کر پائیں گے۔کائنات کا مشاہدہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ اس کائنات میں بیشمار قسم کے وائرسز ، جر ثومے اور بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو ہمیں ایک لمحہ کیلئے بھی زندہ نہ رہنے دیں اور ہم انکا بلکل مقابلہ نہ کر پائیں پھر بھی ہم آج اس خالق کی رحمت سے خوش باش زندگی گزار رہے ہیں ۔ ہمارے ہاتھ سلامت ہیں، پاؤں سلامت ہیں،آنکھیں سلامت ہیں،کان سلامت ہیں، بول سکتے ہیں،کھاتے ہیں ، پیتے ہیں، ، سوتے ہیں ،جاگتے ہیں، روتے ہیں ، ہنستے ہیں اور تو اورسانس لیتے ہیں۔
پھر بھی آپ صبح گھر سے نکلیں شام تک کراچی سے خیبر تک لوگو ں سے پوچھنا شروع کر دیں تو لوگوں کی آوازیں آئیں گی مر گئے برباد ہو گئے ، ما یوسی ، بد گمانی اور نا شکری کرتے ہوئے ہائے ہائے کی آواز ہو گی۔چوبیس گھنٹے شکوے شکائت کرتے نظر آتے ہیں۔ایک دوسرے کی جیبیں کاٹنے میں مصروف ہیں، تعصب، کینہ، بغض،حسد، حرص وحوص بھری زندگیاں ، اپنوں سے دولت کھینچنے کی مد میں عدالتیں کیسز سے بھری پڑی ہیں۔بھائی بھائی کا دشمن ہے۔پائلٹ سوچتا ہے چرواہا بہتر ہے ، چر واہا سوچتا ہے پائلٹ جنت میں ہے۔بے اختیار اضطراب بھری زندگیاں ، شادی شدہ شادیوں سے تنگ ہیں کنوارے رتجگوں کا شکار ہیں، کام والے کام سے خوش نہیں اور بیکار عاشقی کے لئے کوشاں ہیں ۔ ریسرچ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان میں چوالیس فیصد پاپولیش ڈپریشن کا شکار ہے،پانچ کروڑ انسان دماغی مسائل کا شکار ہیں۔بہت کم لوگ خوش ہیں باقی کہتے پھرتے ہیں مجھے کیوں نکالا۔۔
کیونکہ ہم شکر گزار قوم نہیں ہیں۔ہم اللہ پاک کی نعمتوں کی شکر گزاری نہیں کرتے۔ہم گناہ کرتے کرتے سو جاتے ہیں جب جاگتے ہیں تو خالقِ کائنات کی نعمتیں ہمارے تعاقب میں اردگرد ہوتی ہیں۔حضرت موسیٰ ؑ ایک دفعہ جا رہے تھے کہ ایک آدمی نے آپ سے عر ض کی کہ اے موسیٰ ؑ اگر اللہ پاک سے کلام کرنے جا رہے ہیں تو میری اک عرضی خالقِ کائنات کو پہنچا دینا ،کہنا کہ فلا ں شخص عرض کر رہا تھا میرے پاس آپ کا دیا ہوا رزق بہت ہو گیا ہے اب رزق دینا بند کر دے۔ حضرت موسیٰ ؑ آگے چل دیے ۔ راستے میں دیکھتے ہیں ک ایک شخص کپڑے نہ ہونے کی وجہ سے ریت میں دھنسہ ہو اہے۔حضرت موسیٰ ؑ نے اس سے پوچھا یہ کیا معاملہ ہے تو اس نے کہا اللہ نے مجھے دیا کیا ہے دُکھ، غم ، مصیبتیں، مفلسی اور بس۔۔
حضرت موسیٰ ؑ نے سارا قصہ خالقِ کائنا ت کی بارگاہ میں کہہ سنایا۔ مالک فرماتا ہے جس کے پاس بہت رزق ہے اسے کہنا میرا شکر کرنا بند کر دے میں رزق دینا بند کر دونگا،اور جس کے پاس غربت ہے اسے کہنا میرا شکر کرنا شروع کر دے مالا مال ہو جائے گا۔حضرت مو سی ؑ جب واپس تشریف لائے تو اس امیر شخص سے فرمایا کہ مالک کا حکم ہے میرا شکر چھوڑ دے رزق آنا بند ہو جائے گا ، عر ض کرتا ہے اے کلیم اللہ اس ذات نے دیا اتنا ہے شکر کیسے بند کر دوں ، موسیٰ ؑ نے فرمایا پھر تو بندہ ہو کے شکر بند نہیں کر سکتا وہ مالک ہو کے رزق کیسے بند کر دے۔ اب دوسرے شخص کے پاس پہنچے پیغام دیا ، مالک فرماتا ہے میرا شکر کیا کر مالا مال ہو جائے گا وہ شخص جو ریت میں دھنسا ہو ا تھا کہتا ہے کس بات کا شکر اتنے میں ہوا کے جھولے نے ریت بھی اڑا دی ، حضرت مو سیٰ ؑ نے فرمایا اس بات کا کہ ریت تو تھی نا۔۔حضور شکر گزاری خوش رہنے کا تعویز ہے۔اور زندگی خو شی کا نام ہے۔خوش رہنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی عطا کردہ نعمتوں کی ایک لسٹ تیار کریں اور اس کو اپنے سونے والے کمرے میں لگا دیں اور سوتے جاگتے اس کا نظارہ کرتے رہیں اور شکر کرتے رہیں۔
یعنی آپ لکھ سکتے ہیں۔
زندگی۔ اللہ پا ک کا خوبصورت ترین تحفہ ہے اس کا شکر کیجئے،ایمان۔ اللہ پاک کا نایاب گفٹ نہیں ہے آپ کو اپنے محبوب کی امت میں پیدا فرمایا جس کے بارے میں فرمایا بہترین امت ہے ، فیملی۔ کیسا خوبصورت تحفہ ہے ان سے پوچھیں جو لا وارثی کی زندگی گزارتے ہیں اور اسی لا وارثی میں رخصت ہو جاتے ہیں ،
مسلم ملک۔جا کے پو چھیں انڈیا میں موجود بائیس کروڑ مسلمانوں سے کہ کسی ملک میں اقلیت کیا ہو تی ہے شکر کیا کر یں اور محمد علی جناح کے لئے دعائے مغفرت کر دیا کریں(احباب سے دعا کی التجا ہے)دوست۔ حضرت علیؓ کا فرمان ہے سب سے غریب وہ شخص ہے جس کا کوئی دوست نہیں ہے شکر کیا کریں کہ آپ دوستوں کی دولت سے مالا مال ہیں
خوراک، پانی، گناہوں کی معافی، گھر، امید، محبت، ہنسی ، خوشی، اولاد ، ماں باپ ، آزادی،جانور آپ کی خدمت میں،خوبصورتی ،علم ، عقل، بجلی، انٹر نیٹ، موٹر کاریں ، صحت، ادویات، پھول ، خوشبوئیں،شادی ، اور آپ خود المختصر آپ لکھتے جائیں آپ کے بنائے گئے اوراق تمام ہو جائیں گے لیکن مالک کی نعمتوں کو شما ر نہیں کر سکو گے ۔۔کیا یہ شکریہ کا مقام نہیں ہے۔
کھانا کم کھائیں پانی اور ہوا کے لئے جگہ رکھیں،اپنے کام اور ترجیحات کو روزانہ لکھیں اور عادت میں شامل کر لیں۔ایک دن میں چودہ صد چالیس منٹس ہوتے ہیں۔ اپنے دن کا تعین کریں۔کام کے وقت کام کریں آرام کے وقت آرام کریں ۔رزق مقدر ہو چکاہے حضور ﷺ کا فرمان ہے رزق انسان کو ایسے تلاش کرتا ہے جیسے موت ، آکسیجن اُتنی پیدا کی گئی جتنے انسان ۔کول رہیں کام رہیں زندگی آپ کا انتظار کر رہی ہے کیونکہ زندگی گزارنا کارِ ثواب ہے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں