1

ووٹر کو عزت دو از ممتاز حسین ڈھکو

گزشتہ رات بڑا بھائی اپنا ٹوؤر مکمل کر کے وطن واپس لوٹ رہا تھا ان کو لینے کیلئے فیصل آبادانٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جانے کا اتفاق ہوا ۔فیصل آبادانٹرنیشنل ایئرپورٹ شہر سے باہر ایک پرامن جگہ پر واقع ہے۔وہاں پہنچا تو لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی جس کی بڑی وجہ عمرہ زائرین کی روانگی اور آمد تھی۔بہت سے لو گ پھولوں کے ہار، گلدستے اور گلاب کی پتیاں اٹھائے عمرہ کی سعادت سے معطر خوش قسمت لوگوں کے منتظر تھے۔ہر طرف پھیلی ہوئی گلابوں کی پتیا ں اعلان کر رہی تھیں کہ خوش آمدید، چشم ما روشن دل ماشاد، بھلی کر آیوں سائیں،پخیرراغلے اور جی آیاں نوں۔چہروں پر خوبصورت چمک تھی، ایک پر رونق ماحول تھا زیادہ تر لوگ اپنی ماؤں کی آمد کے منتظر تھے۔معطر خوشبوئیں فیصل آبادانٹرنیشنل ایئرپورٹ کا آنگن مہکا رہی تھیں، قہقہوں کی آوازیں تھیں۔وہ تمام تر رونق وہاں موجود تھی جو میری قلم سمیٹ سکے اس کے بس کی بات نہیں۔اس پرُرونق ماحول میں ایک آنکھ کے سمندر اپنے جوبن پر تھے لہریں کناروں سے الجھنے کی ضد کر رہی تھیں،بجلی گرج رہی تھی،طوفان منڈیروں پر بنے امید اور یقین کے گھونسلوں سے الجھنے کے لئے پر تول رہا تھا،اپنی ذات کی جنگ میں سپہ سالاری کے فرائض سرانجام دیتے دیتے شکست وریخت کی اذیت سے دو چار ، خشک لبوں ، اترا چہرہ بکھری زلفوں ، لڑکھڑاتی سانسوں اور بوجھل قدموں سے چلتی ہوئی ایک عمر رسیدہ عورت بے چینی کی حدوں کو عبور کرتے ہوئے کبھی ادھر جاتی کبھی ادھر جاتی نظر آرہی تھی اتنے میں بیت الخلاء سے ایک نوجوان نکلا جو غربت کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا ۔اس عورت کے پا س آکر رکا اور چند لمحے اداسی چھلکتے چہرے سے ماں کو ہنسانے کی کو شش کر رہا تھا۔میرا خیا ل تھا کہہ رہا تھا ماں اپنا خیال رکھنا میں بہت سارے پیسے کما کر لاؤں گا۔آپ فکر نہ کرنا۔۔
وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے
رو پڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے
اتنے میں میں اعلان ہو گیا کہ شارجہ جانے والے مسافر اپنا اپنا سامان لیکر اندر داخل ہو جائیں۔والدہ کو آنسوؤں بھری آنکھوں کے ساتھ چھوڑ کر اپنے حصولِ معاش کے لئے نکل پڑا۔معلوم کرنے پر پتا چلا کہ یہ شخص سب سے بڑا بیٹا ہے اور حالات ناساز گار ہونے کی وجہ سے باہر مزدوری کی غرض سے پانچ سال کے لئے جا رہا ہے۔عزیز قارئین یہ ایک کہانی نہیں ہے میرے ملک سے روزانہ لاکھوں نوجوان حصولِ معاش کے لئے ملک بدر ہوتے ہیں۔جن کی عیدیں ، خوشیاں ، غم پرائے ہو جاتے ہیں، کئی والدین کے جنازوں کو کاندھے نہیں دے پاتے، بھائی بہنوں کی رخصتیوں پر سر پے ہا تھ نہیں رکھ پاتے، ان کے بچے یتیموں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں،بیویاں بیواؤں کی طرح جیتی ہیں۔اپنوں کی جدائی بیمار کر دیتی ہے۔ اپنے ایمان سے بتائیں جذبات اور لمحات خریدے جا سکتے ہیں؟ کیا کسی شخص کی کمی پیسہ پوری کر سکتا ہے؟ میرا جواب ہے نہیں اور یقیناًآپ کا یہی ہوگا۔
محترم قارئین میرا وجد نہیں تاریخ کہتی ہے کہ چائنہ کی اپنی ائیر لائن نہیں تھی تو وہ براستہ پاکستان صعودی عرب کا سفر کرنے جب پہلی دفعہ پاکستان آئے تھے تو اس قدر بھوکے تھے کہ انہوں نے اتنا کھانا کھایا کے بہت سوں کو فوڈ پوئزننگ ہو گئی تھی اب چائنہ آپ کے سامنے ہے۔
آپ پاکستان کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی تھا پاکستان نے مختلف ممالک کو قرضے بھی دیے۔
پاکستان وہ ملک ہے جس میں بلند وبالا پہاڑ، گہرے سمندر ، آسمان سے باتیں کرتی چوٹیاں، ریت بھرے صحرا، ریگستانی سلسلے، کوہساریں، جھیلیں، چشمے،ندی نالے،خوبصورت جنگلات، قدرتی مناظر، سونا اگلتی زمینوں پر بے شمار قسم کی فصلیں،معدنیات، قدرتی گیس، موسمِ سرما، گرما، بہار ، خزاں ۔ المختصر میرے ملک کو سونے کی چڑیا کہا جائے تو میرے ملک کی شان میں گستاخی ہے، میرا ملک لعل ہے میرا ملک ہیرا ہے میرا ملک دنیا میں جنت ہے۔میرے ملک کو لوٹنے والے تھک نہیں رہے پھر بھی میرا ملک قا ئم اور دائم ہے۔ان غداروں نے مجھ سے مانچسٹر آف ایشیا چھین لیا( فیصل آباد کو مانچسٹر آف ایشیا کہتے تھے) مانچسٹر آف ایشیا میں لوگوں کے کاروبار تباہ و برباد کر کے رکھ دیے لوگ چرس اور افیون کا سہا را لے کر اپنے اجڑے ہوئے کاروبار کا غم بھلاتے نظر آتے ہیں۔ لوگوں نے اپنی فیکٹریاں اٹھا کر دبئی لگا لی ہیں۔ہنستے بستے شہر بنجر کر دیے ان ملک کے غداروں نے خدا ان کا خانہ خراب کرے،انہوں نے لاہور کی خوبصورتی کو جگہ جگہ سے متاثر کر کے رکھ دیا ہے۔میرے آباؤ اجداد کی یادوں اور تفریح کے متعدد مقاما ت کو نیست و نابود کر دیا ہے، کنسٹرکشن کے آئے روز منصوبوں نے کئی لوگوں کی روزیاں چھین لی ہیں۔کئی پرانی دکانیں جو کئی خاندانوں کی کمائی کا ذریعہ تھیں وہاں پر پل بنا دیے گئے ہیں چاٹو ان پلوں کو۔۔۔
ان حوص کے پو جاریوں نے روشنیوں کے شہر کو اندھیر نگری کی بد ترین تصویر بنا کر رکھ دیا ہے۔آپ سروے سے معلوم کر سکتے ہیں کہ لوگوں نے کراچی کی رپلیسمنٹ میں دبئی جیسا نیا ملک بنا دیا ہے، وہاں پچاس ساٹھ فیصد پاکستانی بیٹھے ہیں۔ ایک وقت تھا کراچی تہذیبوں کا گہوارا تھا لیکن وہاں خاک و خوں کی ایسی ہولی کھیلی گئی جس سے روشنیوں اور رنگوں کا شہر ماتم کدہ بن گیا، موت کی منڈی بنا دیا گیا۔ان لوگوں نے انڈیا کی قیادت کے ساتھ مل کر ملک و ملت کی ایسی مسخ شدہ تصویر دنیا کے سامنے پیش کی کہ آج نام نہاد وزیرِ اعظم پینٹ اتروا کر مسکراتا ہو اکہتا ہے کہ مجھے قانون سے گزرنا بہت اچھا لگتا ہے۔پاکستان میں سیاحت بند کر دی، ائیر لائن تباہ کر دی، ریلوے لائن تباہ کر دی، نہری نظام تباہ کر دیا، تعلیمی نظام تباہ و برباد کر دیا، انٹرنیشنل کرکٹ بند کر دی، انٹر نیشنل سٹوڈنٹس کا داخلہ بند، انڈسٹری تباہ ، زراعت تباہ ، قوتِ خرید ختم ، فیول مہنگے، ٹیکس کی بہتات، قرضے حدودوقیود سے زیادہ،لوڈشیڈنگ کا جن مضبوط ،امپورٹ ایکسپورٹ تباہ، ملکِ پاکستان کے ہر باشندے ہر ایک لاکھ کم و بیش تیس ہزار قرض اور ایک مفلوق الحال، فارغ البال، نا بلد نا ہنجار ، بے حیائی کا مر کز و محور، مکر وفریب کا منبع ، جھوٹ کا علمبردار، ڈھٹائی کا منہ بولتا ثبوت، ڈکٹیٹر کی گود میں پلا سپوت، غدارِ ملک و ملت نا اہل سابق تین دفعہ وزیرِ اعظم، اقامہء و پنامہ لیگ کا معزول صدر دھبہ ء پاکستان پرچی مافیہ جلسے میں فرطِ جذبات میں بے قا بو ہو کر کہتا ہے میری حکومت ہوتی تو کشمیر آزاد کرا دیتا ۔۔ل ع ن ت ہے تم پر
چالیس بعد سال کہتا ہے اب میں نظریاتی ہو گیا ہوں،اب کہتا ہے ووٹ کو عزت دو۔۔
عزیز قار ئین اپنے آپ کو عزت دو ، خدارا اس ملک کو بچا لو، پارٹی پارٹی کی ڈگڈگی پر ناچنے کی بجائے سبز ہلالی پر چم کے نیچے جمع ہو جائیں اس پر چم جس کے حصول کے لئے تیرے اور میرے آباؤ اجداد نے جان ،مال اور عزت کے نذرانے پیش کئے۔یہ تیری اور میری لڑائی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ پانچ سال آپ اور میں ڈیروں اور تھانوں میں ذلیل ہوتے ہیں پانچ سال بعد ایک لونڈا آتا ہے اور ہم اس کی آمد پر لوٹ پوٹ ہو جاتے ہیں۔خدا کے لئے سوچ بدلو سولنگ ، کھالی اور فنڈز پر وؤٹ نہ دو انسانوں کو منتخب کرو۔رشتہ داری سے بالا تر ہو کر ووٹ ڈالیں۔امامِ حسین ؑ نے ووٹ نہیں دیا علی اکبرؑ دیا ، علی اصغرؑ دیا ، خیمے، قافلہ کنبہ سب کچھ دیا،اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے ہم حسینی ہیں کی یزیدی ہیں۔
اب سے ہمارا نعرہ ہے
ووٹر کو کام دو ۔۔۔ووٹر کو عزت دو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں