44

📢نواز شریف !!! کیا حافظ سعید آرام سے بیٹھ جائے گا؟؟؟ 📢 ⚖

تحریر: عبدالواسع برکات

میڈیا کوریج پہ مکمل پابندی ہے ان کی جیکٹ ٹی وی پہ نظر نہیں آنی چاہیے ان کے کارکن سٹریچر پہ مریض ڈال کر ایمبولینس میں سوار کرتے نظر نہ آئیں ان کے بندے مریضوں کے لواحقین کو کھانا تقسیم کرتے نظر نہ آئیں جو دکھائے گا اس کے خلاف ایکشن ہو گا مگر حافظ سعید نے قوم کی خدمت بند نہیں کی کیوں نہیں کہ اس لیے کہ اس کا منہج شو بازی نہیں ہے میڈیا کے سامنے تصویر بنوا کر دو منٹ بعد پورا کیمپ ختم کرنا کسی اور کی منافقت تو ہو سکتی ہے لیکن حافظ سعید اور ان کی جماعت کا یہ منہج ہی نہیں ہے کہ تصویر کی خاطر کام کرنا ہے وہ تو رب کی رضا کی خاطر اپنی جان ہتھیلیوں پر رکھ کر مظفر آباد ، بالاکوٹ کے پہاڑوں پہ سامان لے کر پہنچ گئے جہاں گاڑیاں نہیں جاتی تھیں وہاں حافظ سعید کے کارکن کندھوں پہ سامان اٹھا کر پہنچ گئے اور اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ شاباش دینے پر مجبور ہو گیا۔ اس وقت کیا یہ دہشت گرد نہیں تھے ؟؟ اور اب کیوں اقوام متحدہ کی آنکھوں میں دہشت گردی کی سکرین چل رہی ہے ؟؟ کیا یہ وہی حافظ سعید نہیں ہے جس پر ملک کے کسی تھانے میں کوئی مقدمہ نہیں ہے ۔ کیا یہ وہی حافظ سعید نہیں ہے جس کو ملک کی عدالتیں بری کر چکی ہیں ۔ کیا یہ وہی حافظ سعید نہیں ہے جس نے ہر پابندی کو خندہ پیشانی سے قبول کیا اور  لاکھوں تربیت یافتہ کارکنوں کو ملک میں ہر قسم کی توڑ پھوڑ سے پاک رکھا ۔ کیا یہ حافظ سعید وہی نہیں جس نے بلوچستان میں علیحدگی کی سلگتی آگ کو خدمت اور محبت سے بجھا دیا ؟؟ بڑے بڑے خادم اعلیٰ کا لیبل اپنے سینے پہ سجانے والے بھی وہ کام نہ کر سکے صوبائی اور وفاقی حکومتیں اپنے اپنے مفادات کی خاطر انڈیا اور امریکہ کے آگے جھک چکی تھیں اور بلوچستان میں پاکستان کا پرچم لہرانا مشکل تھا تب بھی اسی حافظ سعید نے حافظ عبدالرؤف کی نگرانی میں کارکنوں کو بھیجا جنہوں نے خطرناک ترین علاقوں میں بھی جا جا کر خدمت اور محبت کا پیغام دیا اور انڈیا کی لگائی ہوئی آگ کو بجھا دیا آج وہاں پاکستان کے حق میں ریلیاں نکلتی ہیں پاکستان کے پرچم بازاروں میں سٹالوں میں بک رہے ہیں گھروں کی چھتوں کی زینت بنے ہیں ۔ آج کا نا اہل نواز شریف شاید اس بات کی سزا دینا چاہتا ہے پاکستان کو۔ نواز شریف اور اس کے چمچے تو کیمرے کے بغیر ایک لفظ نہیں بولتے عوام کی خدمت کیا کریں گے ۔ تھرپارکر میں سسکتی انسانیت کو زندگی کی روشنی دینا نواز شریف تمہارا کام تھا لیکن تم اپنی لوٹ مار میں مصروف رہے اور تھرپارکر میں بھی قحط زدہ پاکستانیوں کے لیے درجنوں امدادی ٹرک لے کر حافظ سعید پہنچ گیا، سیکڑوں کنویں سندھ اور بلوچستان کی عوام کو پیش کر دئیے ، سندھ کے ہندو حافظ سعید کو مسیحا سمجھتے ہیں ۔ نواز شریف تو کیا پوری ن لیگ وہ کام نہیں کر سکی نہ کر پائے گی جو کام پاکستان اور پاکستان کی عوام کے لیے حافظ سعید کر چکا ہے ۔ ملک میں سیلاب کی لہریں چل رہی تھیں نواز شریف تم اور تمہارے وزرائے اعلیٰ ہیلی کاپٹر میں دورے کرتے تھے میں نے تب بھی حافظ سعید کو سیلاب کے پانیوں میں  موٹربوٹ اور کشتیوں پر عوام کو سہارا دیتے دیکھا۔ کیا تم بھول گئے ہو تب بھي سب سے بڑا ریلیف آپریشن حافظ سعید نے کروایا تھا کیا کارکن ہیں حافظ سعید کے پوری پوری دیگیں کشتیوں پہ لاد کر متاثرین کو کھانا پہنچایا ۔ نواز شریف تب بھی تمہارے جیالے میڈیا کے سامنے کیمپ بنا کر تصویریں بنواتے اور صحافیوں کے جانے کے بعد کیمپ ختم کر دیے جاتے ۔ یہ حافظ سعید ہر قدرتی آفت میں پاکستانی عوام کے لیے رب کا انعام بنا رہا یہی تو تم کو برداشت نہیں ہو رہا ۔ حافظ سعید کے ریلیف کے کاموں سے پہلے پاکستان بیرونی تنظیموں کا محتاج ہوتا تھا کہ وہ آئیں اور ریلیف کا کام کریں یہ وہی حافظ سعید ہے جس نے بیرونی تنظیموں کا بوریہ بستر گول کیا جو کھاتے زیادہ تھے اور خدمت کم کرتے تھے۔ مزید سنو ! تمہارے کاروباری پارٹنر اور دوست مودی نے اور اس کے باپ امریکہ نے تکفیر کا فتنہ ملک میں پھیلا دیا تب بھی یہ حافظ سعید آرام سے نہیں بیٹھا شہر شہر جا کر عوام کو سمجھایا کہ یہ نبوی منہج نہیں ہے یہ جہاد نہیں ہے یہ دہشت گردی ہے مرکز القادسیہ کے خطبات اس بات کی گواہی دیں گے کہ تب بھی حافظ سعید ڈرا نہیں یہ حافظ سعید تکفیریوں کے لیے سر درد بنا ہوا تھا لیکن حافظ سعید نے اپنی جان کی پرواہ نہیں کی اور ارض پاک کی فضا کو تکفیریت سے پاک کرکے دم لیا ۔ ہزاروں شہداء کے وارث حافظ سعید کو آسیہ اندرابی اپنا محمد بن قاسم کہتی ہے ، کشمیریوں کے پیر سید صلاح الدین حافظ سعید کو اپنا امیر کہہ کر خوشی محسوس کرتے ہیں جس حافظ سعید کو سید علی گیلانی اپنا بھائی اور غمگسار سمجھتے ہیں اس حافظ سعید نے جب 2017کشمیر کے نام کرکے پورے سال کی تمام مصروفیت کو کشمیر کے نام کردیا تو تمہارے دوست مودی کو بہت پریشانی ہوئی اس نے فوری تمہیں حکم دیا اور تم نے حکم کی پیروی کرتے ہوئے پورے ایک سال حافظ سعید کو نظر بندی میں جکڑے رکھا کہ شاید حافظ سعید کشمیر کی حمایت سے باز آجائے لیکن یہ تمہارا خیال ہی رہا ۔ نظر بندی ختم ہوتے ہی فیصل آباد کے عظیم الشان اجتماع میں حافظ سعید نے 2018 بھی اپنے کشمیری کے نام کردیا ۔ اس لیے پھر کہے دیتا ہوں نواز شریف حافظ سعید آرام سے بیٹھنے والا نہیں ہے تم تھک جائو گے پابندیاں لگا لگا کر لیکن حافظ سعید اپنے رب کی نصرت سے نہیں تھکے گا ۔ تم خود کشمیری ہو لیکن کشمیریوں کے درد کو محسوس نہیں کرتے، ہاں ! مودی سے یاری کو بہت محسوس کرتے ہو ۔ برہان مظفر وانی کو تم ہیرو کہتے ہو اس برہان کی آخری خواہش تھی کہ حافظ سعید سے بات ہو جائے آج تم اس حافظ سعید سے دشمنی کررہے ہو اور اس دشمنی میں پورے ملک کو اقوام متحدہ کا غلام بنانے جا رہے ہو کچھ ہوش کے ناخن لو !! کہاں ہیں چیف آف آرمی سٹاف ؟ کہاں ہیں چیف جسٹس صاحب ؟ کہاں ہیں سینیٹ کے چيئرمین صاحب وہ کیوں نہیں روکتے نواز شریف کو اس صدارتی آرڈیننس کو قانونی شکل دینے سے جس کے بعد پاکستان کے ایٹمی ہتھیار ، دنیا کی مایہ ناز پاک فوج اور دفاعی اداروں پر تباہی کی تلوار لٹک جائے گی آج تو بہانہ جماعۃ الدعوۃ اور حافظ سعید ہے لیکن نشانہ پاک فوج اور ایٹمی ہتھیار ہیں ۔ آج نا اہل نواز شریف ملک دشمنی میں پاکستان کے دشمنوں کا صاف صاف اور کھلا ساتھ دے رہا ہے اس کو سختی سے روکنے کی ضرورت ہے اگر وہ پارٹی کا صدر نہیں رہا ملک کا وزیر اعظم نہیں رہا تو اس میں پاکستان کا کیا قصور ؟؟ یا حافظ سعید یا اس کی جماعت کا کیا قصور ؟؟ اس کو اپنے اعمال پہ غور کرنا چاہیے اور شہر شہر جا کر یہ پوچھنا کہ مجھے کیوں نکالا اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ جس حافظ سعید کو تم روکنا چاہتے ہو وہ سڑکوں پہ نکل کر ملک کے خلاف ایک لفظ نہیں بولتا ہاں ! اپنے رب سے رابطہ کرتا ہے تہجدوں میں ہاتھ اٹھا کر اپنے رب سے راستے مانگتا ہے اور اس کا رب جو نواز شریف تمہاری شہ رگ سے بھی قریب ہے وہ حافظ سعید کو ہر بار راستہ عنایت کرتا ہے اس لیے حافظ سعید کبھي بھي آرام سے نہیں بیٹھے گا اس کا رب اس کو راستہ دیتا رہے گا اور وہ کام کرتا رہے گا تم ہزار پابندیاں لگا دو تم پارلیمنٹ کو اس گناہ میں شریک کر لو تم گونگے ممنون حسین سے مزید صدارتی آرڈیننس پاس کروا لو لیکن حافظ سعید نہ کبھی پہلے آرام سے بیٹھا اور نہ آئندہ کبھی آرام سے بیٹھے گا اس کا رب جو رب العرش العظیم ہے وہ اس کے ساتھ ہے اور ساتھ رہے گا اور اس کو عزتیں دیتا رہے گا ۔ مگر نواز شریف  اگر تم باز نہ آئے تو ذلیل ہوبھی چکے ہو اور مزید ذلیل ہوتے بھی رہو گے ۔⚖

🇸🇦 حسبنا اللہ ونعمل الوكيل 🇸🇦

🇸🇦 ھمیں الله ھی کافی ھے اور وہ بھت اچھا کارساز ھے 🇸🇦

اپنا تبصرہ بھیجیں