63

جسٹس اعجاز الحسن کے گھر پر حملہ, مارشل لاء لگوانے کی سازش – تحریر: کامران خان

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الحسن کے گھر پر گزشتہ رات اور آج صبح فائرنگ کے واقعات ہوئے جس کے بعد پنجاب پولیس کی ناقص کارکردگی پر بات کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی, اس قدر فضول پولیس دنیا میں کہیں نہیں ہوگی جو ایک حاضر سروس ہائی پروفائیل جج کو بھی سکیورٹی فراہم نہ کرسکے, جی او آر جیسے علاقے میں بھی جو فائرنگ کے واقعات نہ روک سکے تو ایسی پولیس سے پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ ہی اچھے, پانامہ پیپرز بینچ میں شامل جج جسٹس اعجازالحسن کے گھر پر فائرنگ ہونا صرف پولیس نہیں بلکہ پورے سسٹم کی خرابی کو واضح کرتا ہے, پوری دنیا کو ہم کیا پیغام دینا جارہے ہیں, ہمارے پاس کیا رہ گیا ہے ہم کیا جواب دیں گے کہ ہماری سکیورٹی فورسز عدالتوں کے رکھوالوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہیں جبکہ اس بات کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہو, ملکی حالات کو اس طرح پیش کیا جائے کہ مارشل لاء کا جواز بنایا جائے, کیونکہ سپریم کورٹ کے جج کو اگر اس طرح سے ٹارگٹ کیا جاسکتا ہے تو اس سے حکومت کی نااہلی واضح ہوتی ہے اور جمہور مخالف قوتیں اس وقت یہی چاہتی ہیں کہ جوڈیشیل مارشل لاء لگے, اسمبلیوں کے راستے بند ہوں, حکومت ڈائریکٹ سپریم کورٹ یا جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی سے چلے اور نواز شریف کو صاف ستھرا ہونے کا ایک موقع ملے

اپنا تبصرہ بھیجیں