58

چلے چلو کہ, منزل آسان ہو جائے گی, کامران خان

چلتے چلو کہ دور سے آواز سنائی دے رہی ہے, اک سناٹا ہے لیکن کہیں دور کوئی پکار رہا ہے, دبے پاؤں میں چلتا جارہا ہوں ایک منزل مقصود کی صورت میرے دل میں بسی ہے, میں شرمندہ ہوں لیکن دل آواز دے رہا ہے اے مسافر حوصلہ اور استقامت تیری پہچان ہے, تجھے چلتے جانا ہے استقامت تیرا زیور ہے, محنت تیری پہچان ہے اور جوستجو تیری آرزو ہے, اے کاش ہم اپنی منزل کو پالیں, اے کاش ہم منزل مقصود پر پہنچ جائیں, اے کاش ہم اس ڈگر پر پہنچ جائیں جہاں سے راستہ گُم ہوا تھا جہاں ہم تم س جدا ہوئے تھے, زندگی کے وہ سال آہ, لیکن اب ہم میدان عمل میں اتر آئے ہیں جہاں صرف ایک راستہ ہے وہ ہے عمل کا, عمل مسلسل, زندگی کو پانے کا راستہ تجھ تک پہنچنے کا راستہ اے میرے ہمدم تو میری تقدیر ہے, میرے خوابوں کی تعبیر ہے, تجھ بن کچھ نہیں, تو میری چاہت تو میرے دل کی تصویر ہو, کچھ اس طرح سے ہمارا ملک اپنی منزل کھو بیھا ہے, پاکستان جو کبھی ایک عظیم طاقت تھا, پاکستان جو کبھی دنیا کی قیادت کررہا تھا, جو دنیا کو پانچ سالہ منصوبے دے رہا تھا, آج خود دوسروں کے منصوبوں کا محتاج ہے, وہ منزل جو 1947 میں عطا ہوئی جسے سب سے بڑا دھچکا 1971 میں لگا, جسے اللہ نے عظیم نعمتوں سے نوازا اسے ہمارے حکمران ہمارے روئیے ہماری غلط روش کھا گئی اور آج ایٹمی قوت ہونے کے باوجود ہم محتاج ہیں لیکن ایک امید باقی ہے میرے ملک کا نوجوان ابھی باقی ہے اس کی امید ابھی باقی ہے اور یہ اگر چلتا رہا تو منزل اس کے قدموں میں ہوگی

اپنا تبصرہ بھیجیں