9

سیاسی وفاداریاں کی تبدیلی کا عمل از سلمان عابد

پاکستان کی مجموعی سیاست کا تجزیہ کیا جائے تو وہ جماعتی ، نظریاتی، اصولی ، اخلاقی ، جمہوری اور قانون کی حکمرانی سمیت انصاف کے بنیادی اصولوں کی بجائے افراداور ذاتی مفادات کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ۔حالیہ زمانہ نظریاتی اور دیوانگی کی سیاست کا نہیں بلکہ ایک کاروباری او رمفاداتی سیاست کے ساتھ جڑ کر رہ گیا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک میں جو لوگ نظریاتی اور اصولی سیاست کے علمبردار ہیں ان کے لیے یہ سیاسی ماحول گھٹن ، بدبودار اور محدود ہوکر رہ گیا ہے ۔ جو چیز بچی ہے وہ یہ ہی ہے کہ سیاسی لوگوں کو اپنے شوق کے لیے حکمران اور طاقت ور طبقات کی سیاسی غلامی کرنا پڑتی ہے ،اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو واحد راستہ ان کے لیے سیاسی استحصال ، انتقام او رلاتعلقی کا رہ جاتا ہے ۔
بدقسمتی سے اس معاشرے میں جمہوریت ، اصول، نظریات، عقائد،سوچ کو سیاسی جماعتوں او ران کی خاندانی قیادتوں نے ’’ بطور ہتھیار ‘‘ استعمال کیا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں جمہوریت کمزور اور سیاسی نظام میں انتشار سمیت استحصال کی سیاست کو بالادستی حاصل ہے ۔جب سیاست میں بنیادی نکتہ طاقت کی حکمرانی بن جائے تو وہاں اصولی اور نظریاتی سیاسی پہلو اپنی اہمیت کھودیتا ہے ۔ سیاسی جماعتوں میں جو توڑ پھوڑ ، وفاداریاں کی تبدیلی اور بے اصولی نظر آرہی ہے وہ کافی مایوس کن ہے ۔ اگرچہ یہ پہلو کوئی نیا نہیں بلکہ ہماری سیاسی تاریخ میں ہمیشہ سے اس کو بالادستی رہی ہے کہ طاقت کا توازن دیکھ کر اپنا راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ا س لیے یہ کہنا کہ کوئی نیا کھیل ہے ، مکمل سچ نہیں۔
2108کے انتخابات کے تناظر میں بڑے پیمانے پر ہمیں سیاسی جماعتوں میں ارکان اسمبلی کی وفاداریوں کی تبدیلی کا کھیل نمایاں نظر آرہا ہے ۔ اس کھیل میں اس وقت سب سے زیادہ پریشانی مسلم لیگ)ن(اوراس کے قائد نواز شریف سمیت ان کی جماعت میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ ان کے بقول اسٹیبلیشمنٹ کی مدد سے ماضی کا کھیل دوبارہ شروع کردیا گیا ہے ۔ اس کا مقصد بڑی سیاسی جماعتوں میں توڑ پھوڑ کرنا ، کمزور کرنا اور ان کی مقبولیت کو کم کرنے سمیت اقتدار کے کھیل سے بے دخلی سے جڑا ہوا ہے ۔سیاسی المیہ یہ ہے کہ اگر یہ ہی کھیل ماضی کی طرح اسٹیبلیشمنٹ کے فریقین نواز شریف کے حق میں کھیلیں تو یہ جمہوریت کی بالادستی کاکھیل ہوگا۔ لیکن اگر یہ ہی کھیل نواز شریف کے خلاف کھیلا جائے تو یہ جمہوریت مخالف کھیل سمجھا جائے گا ۔
سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی میں یقینی طور پر اسٹیبلیشمنٹ کے فیکٹر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔یہ کھیل ماضی میں بھی شدت کے ساتھ کھیلا جاتا رہا ہے ۔لیکن یہ آدھا سچ ہے ، مکمل سچ یہ بھی ہے کہ ہمارا سیاسی نظام اور سیاسی جماعتیں اپنے داخلی نظام میں بہت کمزور ہیں ۔ اس کمزوری کی وجہ سے سیاسی جماعتوں میں خود مفاداتی طبقات کی اجارہ داری ہوتی ہے او ران کو اسی طاقت کے کھیل کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں میں اہمیت دی جاتی ہے ۔ اس لیے سیاسی جماعتوں میں ارکان اسمبلیوں کی مجموعی سیاست پر نظر ڈالیں تو اس میں جمہوریت سے زیادہ طاقت کے کھیل کو بالادستی ہوتی ہے اور ہم بلاوجہ اس عمل کو جمہوریت سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔
عمومی طور پر جب سیاسی لوگ وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں تو ان کے سامنے چار عوامل ہوتے ہیں ۔ اول وہ دیکھتے ہیں کہ انتخابات سے قبل سیاسی لہر کا رخ کس طرف ہے او ر سیاسی ماحول کی برتری کس کے حق میں ہے او رکس کی مخالفت میں ۔ دوئم دیکھا جاتا ہے کہ طاقت ور فریقین یعنی اسٹیبلیشمنٹ کی سیاسی حمایت کس کے ساتھ ہے او رکس کی مخالفت میں کھڑی ہے ۔ سوئم اگر کسی ایک فرد یا خاندان کو ایک جماعت سیاسی طور پر ٹکٹوں کی تقسیم میں ایڈجسٹ نہیں کرتی تو وہ کسی او رکے پاس جاکر اپنے لیے محفوظ راستہ تلاش کرتا ہے ۔ چہارم اگر اسے لگے کہ وہ جس جماعت کے ساتھ کھڑا ہے وہ اب داخلی اور انتخابی طور پر کمزور ہوگئی ہے او راس کی جیت کہ امکانات کم ہیں تو وہ وفاداری تبدیل کرتا ہے ۔
2008کے انتخابات کا تجزیہ کریں تو مسلم لیگ )ق(سے جتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنی وفاداری تبدیل کرکے نواز شریف کی سیاست سے جڑے وہ محض مفاداتی کھیل ہی تھا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نواز شریف جنرل مشرف کی باقیات پر بڑا ماتم کرتے ہیں ۔لیکن طاقت کے کھیل میں برتری کے لیے انہوں نے جنرل مشرف کی باقیات کو اپنی سیاسی گود میں لینے کا عمل بخوشی کیا تھا ۔حالانکہ نواز شریف جانتے تھے کہ یہ لوگ محض اقتدار کے کھلاڑی ہیں ، لیکن ان ہی کے ساتھ مل کر سمجھوتہ کرنا ان کی مجبوری بن گیا تھا ۔اب جیسے ہی 2018میں سیاسی ماحول تبدیل ہورہا ہے تو مسلم لیگ میں موجود حلقہ جاتی بنیاد پر اپنی ترجیحات طے کرنے والے افراد کو محسوس ہورہا ہے کہ اب سیاسی فضا نواز شریف کے حق میں نہیں ہے اور اب ہمیں نئی سیاسی کروٹ لینا ضروری ہے۔
اس لیے مسئلہ محض اسٹیبلیشمنٹ کا ہی نہیں خود سیاسی ماحو ل کی تبدیلی اور حکمران طبقات کی داخلی کمزوریوں سے بھی جڑا ہوتا ہے ۔نواز شریف کا جو بیانیہ اداروں سے ٹکراو سے جڑا ہوا ہے وہ تو کسی بھی طور پر ان طاقت ور طبقات کے حق میں نہیں اور وہ اسی سے گریز کرنے کو ہی اپنی سیاسی بقا سمجھتے ہیں۔یہ حال پیپلز پارٹی کا بھی ہے ۔ پنجاب میں اس کی سیاسی پوزیشن اس حد تک کمزور ہے کہ اب خود پیپلزپارٹی کا جیالا بھی اپنی ہی جماعت سے لاتعلقی اختیار کرچکا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ پنجاب سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے والے طبقہ میں سیاسی مایوسی او ربے چینی پائی جاتی ہے ، یہ ہی وجہ ہے کہ خود پیپلز پارٹی کے لوگ بھی پارٹی چھوڑ گئے ہیں یا چھوڑنے کے لیے محفوظ راستہ کی تلاش میں ہیں ۔اس وقت تحریک انصاف میں بہت سے لوگ آرہے ہیں او رآنا چاہتے ہیں ۔ اگر تحریک انصاف میں انتخابات جیتنے والے یعنی Electablesکو ٹکٹ دینے کی ضمانت دی جاتی ہے تو آنے والے دنوں میں بہت سے لوگ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر تحریک انصاف میںآسکتے ہیں ۔ تحریک انصاف کے سامنے بھی مسئلہ اصولی نہیں بلکہ وہ بھی ماضی کے انتخابی تجربے کی بنیاد پر طاقت ور افراد کی تلاش میں ہیں ، تاکہ وہ انتخابی عمل جیت کراقتدار کی سیاست کو اپنے حق میں ہموا رکرسکیں ۔
یہ طاقت او ربااثر افراد جو آپ کو ہر سیاسی جماعت ، ہر حکومت اور حکمران طبقات سمیت طاقت کی قیادت کی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں، وہ ہی سیاسی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں ۔ تحریک انصاف میں روائتی سیاست کے علمبرداروں نے عمران خان کو یہ ہی مشورہ دیا کہ وہ انقلابی سیاست کی بجائے حکمت عملی او رزمینی حقایق کو سامنے رکھ کر سیاست کریں ۔ عمران کو مشورہ یہ ہی دیا گیا کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں کی طرحElectablesپر انحصار کریں او ران ہی کے ساتھ سیاسی سمجھوتہ کرکے اقتدار کی سیاست کو اپنے قریب لائیں ۔ اس طرز کی سیاست کا سب سے زیادہ نقصان ان سیاسی او رنظریاتی افراد کو ہوتا ہے جو مختلف جماعتوں میں کئی دہائیوں سے سیاسی جنگ لڑرہے ہوتے ہیں اور ان کو سیاسی قیادت بااثر افراد کے مقابلے میں بہت کم ترجیح دیتی ہے ۔
یہ بااثر افراد کے سامنے محض اقتدار کا کھیل ہوتا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ حالات کو سامنے رکھ کر اپنی وفاداری کی تبدیلی کے عمل کو کوئی بڑا سیاسی گناہ نہیں سمجھتے ۔یہ ہی عمل اب بھی وہ کررہے ہیں تو ہمیں بلاوجہ جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کی سیاسی مڑوڑ اٹھ رہی ہے ۔ اگر واقعی سیاسی قیادتوں نے سیاسی جماعتوں کو مضبوط بنایا ہوتا او رموسم کی تبدیلی سے بدلنے والے لوگوں سے دوری اختیا ر کرکے اچھے او رنظریاتی ساتھیوں پر انحصار کیا جاتا تو آج سیاسی قیادتوں اور جماعتوں کی صورتحال قدرے بہتر ہوتی ۔اب سابق وزیر اعظم نواز شریف پارٹی چھوڑنے والوں کو جمہوریت دشمن ، پارٹی کے غیر وفاداراور ان کے بقول یہ لوگ سیاست کو بدنام کرتے ہیں کہ سیاسی طعنے دے رہے ہیں ، تو ان کی بے بسی پر دکھ ہوتا ہے ۔ کاش وہ خود بے اصولی سیاست کے مرتکب نہ ہوتے، تو آج ان کو ماتم نہ کرنا پڑتا۔
اگر واقعی ہم نے سیاسی نظام کو مضبوط ، جمہوری اور شفاف بنانا ہے تو لوگوں کو سیاسی جماعتوں کے داخلی معاملات ، فیصلہ سازی اور قیادت کے آمرانہ معاملات کو چیلنج کرنا ہوگا۔خود سیاسی قیادتوں بالخصوص عمران خان کو بھی سمجھنا چاہیے کہ محض طاقت ور یا electableکی بنیاد پر انتخاب تو جیتا جاسکتا ہے ، مگر نظام کی تبدیلی کا عمل بہت پیچھے رہ جاتا ہے ،کاش ہمارے سامنے افرادکے مقابلے میں نظام کی تبدیلی کے عمل کو فوقیت حاصل ہوتی تو آج ہمارا سیاسی نظام لوگوں میں اپنی سیاسی ساکھ قائم کرسکتا تھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں