1

آج تک کتنے ججز کے گھر پر فائرنگ کی گئی, جانئیے اس رپورٹ میں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے اس سے پہلے جسٹس باقر نجفی کو بھی ڈرایا دھمکایا گیا تھا اور وہ بہت مشکل دور سے گزرے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد میڈیا میں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔اسی کے اوپر تبصرہ کرتے ہوئے سینئیر صحافی حامد میر کا کہنا تھا کہ مجھے یہ نہیں پتہ کہ یہ فائرنگ کس نے کروائی تا ہم میں اتنا ضرور کہوں گا کہ فائرنگ کی یہ ورادات کر کے سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور نیب کورٹ کے تمام ججوں کو ایک پیغام دیا گیا۔
اور لاہور میں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ جسٹس باقر نجفی کے ساتھ کیا ہوا۔ جسٹس باقر نجفی کو ڈرایا اور دھمکایا گیا کہ وہ باقر نجفی رپورٹ کو سامنے مت لائیں۔اور جسٹس باقر نجفی اس متعلق بول بھی نہیں سکتے۔اوروہ بہت مشکل دور سے گزرے ہیں۔اس کی ایک اور مثال بھی ہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس سجاد علی شاہ جب سندھ ہائی کورٹ میں تھے تو ان کے بیٹے کو اغوا کر لیا گیا تھا۔اور ان کو قانون نافذ کرنے والے ادارے نے ٹانک سے بازیاب کروایا تھا۔اس لیے جسٹس اعجاز الاحسن نے گھر پر فائرنگ کے واقعے کو بلکل بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اور میرے خیال سے اس طرح کے نا معلوم افراد جن کا تعلق کسی بھی گروہ سے ہے۔ان کو بے نقاب کرنا چاہئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں