1

قدر دانی از ہارون الرشید

انسان اشرف المخلوقات ہے یعنی اللہ نے اسکو بہترین پیدا کیا ہے۔ انسان کو ایک بہترین ساخت کا جسم بشمول حواس و خمسہ کے ساتھ پیدا کیا ۔۔ تا کہ انسان اسکا بہترین استعمال کرے اور اس دنیا میں اپنے اور دوسروں کیلیے خیر کا ذریعہ بن جا ئے ۔ انسان کے جسم کا ہر حصہ انتہائی خوبیوں سے مالامال ہے۔ مگر جب تک وہ اسکو استعمال کرتا رہے۔ اگر انسان اپنے جسم کے کسی حصے کو استعمال کرنا چھوڑ دے تو وہ ناکارہ ہو جاتا ہے۔ اگر آپ پیدل چلنا چھوڑ دیں تو کچھ عرصہ بعد پیدل چلنا آپکے لیے دشوار ہو جائے گا۔ زیادہ عرصہ مسلسل اندھیرے میں رہیں تو آپکی آنکھیں روشنی کو بھول جاتی ہیں اور آپ روشنی میں نہیں دیکھ سکتے، اسی طرح آپ بازو یا ٹانگ کو مسلسل ایک ہی پوزیشن میں رکھیں تو آپکا وہ حصہ ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتا۔ اگر معدہ کمزور ہو جائے، تو سخت غذا کو ہضم نہیں کر سکتا ۔ اور اگر آپ سوچنا چھوڑ دیں تو دماغ آپکا ساتھ نہیں دیتا۔۔ اسی طرح جب آپ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی نا قدری شروع کردیں تو وہ نعمتیں آپ سے روٹھ جاتی ہیں۔ چاہے وہ آپکے جسم کا حصہ یا اس دنیا کی کوئی بھی چیز ہو جو آپکی بہتری کے لیے ہو۔
انسان اکثر ناقدری کرتا ہے اپنے احساسات کی ،جذبات کی،رشتوں کی،اقدار کی،علم کی اور اپنے سے جڑے لوگوں کی، اپنے یقین کی ، اپنی سوچوں کی، اپنے مال ومتاع کی اور رزق کی۔جو لوگ اپنے رزق کی حفاظت نہیں کرتے ان کے لیے حضرت واصف علی واصف ؒ فر ما تے ہیں۔
’ ’ ہم مال بڑھاتے ہیں اور یہ بھول جا تے ہیں کہ زندگی کم ہوتی جا رہی ہے۔ سا نس کی آری ہستی کا شجرکا ٹ رہی ہے۔ زندگی برف کی سل کی طر ح پگھلتی ہی چلی جا رہی ہے ۔ یہ پونجی گھٹتی جارہی ہے۔دولت موت سے نہیں بچا سکتی۔’’
حفاظت کجیئے اپنے جسم کی اور اللہ کی دی ہوئی ان تمام نعمتوں کی جس میں سے شائد ایک بھی کم ہو جاتی تو ہم اس دنیا کو نہ تو ٹھیک طرح سے دیکھ سکتے نہ محسوس کر سکتے۔ ابھی بھی وقت ہے آپ عمرکے جس بھی حصے میں ہیں آج سے تہیہ کر لیجیے۔ کہ میں زندگی میں ملنے والی ہر چیز کی قدر کروں گا۔تو یقین جانئے اس دنیا میں ایک اور قدردان کا اضافہ ہو جائے گا۔
عمومی طور پر ہم جیتے جی کسی شخص کی قدر نہیں کرتے اور ا س کے مرنے کے بعد اسکو ایسے ایسے القابات دیتے ہیں کہ زمین و آ سما ن کے قلا بے ملاتے نہیں تھکتے، اورآسمان پہ فرشتے بھی جھوم اٹھتے ہوں گے۔ کہ واہ ۔۔۔!!!
روئے زمیں کی ہر شے اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے مگر یہ ہر کسی کو دیکھا ئی یا سنائی نہیں دیتی یہ صرف علم والوں کے لیے ہی نشانی ہے۔
اللہ تعالی سورہ رحمٰن میں فرماتے ہیں،
“تم اپنے رب کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے”
اگر ہم تھوڑا سا اس آیت پر غور کریں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ اللہ کی دی ہوئی ہرشے رحمٰن کی طرف سے اپنے بندے کیلئے ایک انعام ہے۔ مگر ہم ناسمجھ چھوٹی سی مشکل پہ شکوہ شروع کر دیتے ہیں۔ اور نا شکری کی وجہ سے اللہ پاک دی ہوئی نعمت میں سے جب کچھ کمی کرتا ہے تو پھر ہم دوڑتے ہیں اس رب کی جانب جسکو ہم نے ہر طرح سے بھلا دیا ہوتا ہے۔ اور وہ جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، جو اپنے نائب کو معاف کر کے پھرسے ایک موقعہ دیتا ہے۔
بحیثیت انسان ہمیں ہر چیز کی جلدی ہوتی ہے۔ کیونکہ انسان فطرتاً جلد باز ہے مگر بہت سے لوگ اپنی فہم و فراست کو استعمال میں لاتے اور وقت کا بہترین استعمال کرتے ہیں اور پرسکون ہونے کی وجہ سے مطمئن نظر آتے ہیں۔ جلد بازی ہماری زند گیو ں میں اس قدر سرایت کر گئی ہے کہ ہم ہر کام منٹوں سیکنڈوں میں کرنا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ ہم راتوں رات امیر ہونا چاہتے ہیں بغیر محنت کے۔ ۔جلد بازی نے ہماری صحت کو بھی بری طرح تباہ کیا ہے۔ اور ہم اپنے رشتوں کی پہچان بھی کھو چکے ہیں جو انسان اپنی قدر نہیں کرتا اپنے ماں باپ کی قدر نہیں کرتا، اپنے بیوی بچوں ، بہن بھائیوں اور عزیز رشتے داروں کی قدر نہیں کرتا تو معاشرہ بھی اسکی قدر نہیں کرتا، اوراْسکو ایک ناسور کی طرح علیحدہ کر دیتا ہے انسان یقیناً اس دنیا میں اکیلا آیا ہے اور اکیلے ہی جانا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اسکو اس دنیا میں آنے جانے اور رہنے کے لیے لوگوں کی ضرورت ہے۔ ورنہ وہ اپنی خوشی اورغم کو بھی نہ منا سکتا، اگر یقین نہ آئے تو اپنی سالگرہ کا کیک اکیلے کاٹیں اور اکیلے ہی کھا ئیں آپکو سارے فلسفے کی سمجھ آ جائے گی۔۔میرے ایک دوست عمان میں مقیم ہیں جو کافی عرصے سے اپنی پیشہ وارنہ مصروفیات اورگھر یلوذمہ داریوں کی وجہ سے پاکستان نہیںآئے ۔اْنکو وہاں پہ ساری سہولتات مہیسر ہیں اگر نہیں ہے تو اپنی فیملی نہیں ہے۔ عید کادن ہو یا اْنکے بچوں کی سالگرہ ہو تو وہ وہاں کافی مغموم رہتے ہیں اور نہ چاہتے بھی اپنا غم چھپانہیں پاتے اور جب بھی ایسے موقعے پر ان سے بات ہو تو اْنکی آوازرْند جاتی ہے اوراْنکاغم فون سے باہر نکل کرانتہائی تکلیف دیتا ہے ۔ اور ہمیشہ اْنکے لیے دعا نکلتی ہے یا اللہ تو اپنے بندوں کی تکلیفوں میں کمی کر دے اور اْنکے لیے آسانیاں فرما کیونکہ ایک وہی ر ب العزت کی ذات جوایک کیڑے کو بھی پتھروں اور زمین کے اندر زندہ رکھتی ہے وہ کیسے ایک انسان کو بے یارو مددگا ر چھوڑ سکتی ہے اور اْسکو کیسے تکلیفو ں میں مبتلا کر سکتی ہے مگر ہمارے اعمال کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ ہمیں ایک خاص عمل سے گزار کراپنی دی ہوئی نعمتوں کی قدرسکھاتے ہیں۔
خدارا اپنے آپکو پہچانیں اپنی دنیامیں آنے کی اس وجہ کو سمجھیں اور اسکی قدردانی کرتے ہوئے اپنا رول بھر پور طریقے سے ادا کریں۔ اور اپنے حصے کا کام پوری دیانت داری سے ادا کریں۔ پھر یہ دنیا بھی آپکے لیے بہترین ہو جائے گی اور آخرت بھی اچھی ہو جائے گی۔ کیونکہ رب بہت رحیم ہے وہ بخشنے پہ آئے تو راستے سے ایک پتھر ہٹانے پر بھی بخش دیتا ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری کو تاہیوں کو معاف فر ما ئے اوراپنی دی ہوئی نعمتوں اور شکر گزاری کی توفیق عطافرمائے۔۔ آمین!(کالم نگار کی رائے سے ادارے کی پالیسی کا تعلق نہیں)
(کالم نگار: ہارون ا لرشید
ٹائٹل/ لوگو: آسانیاں
کالم : قد ر دا نی
ای میل: haroonideology@gmail.com )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں