37

طیبہ تشدد کیس: سابق جج اور اہلیہ کو ایک، ایک سال قید کی سزااور 50، 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

سجادالحسن شعورنیوز
اسلام آباد ہائیکورٹ نے گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کے کیس میں نامزد سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر کو ایک، ایک سال قید اور 50، 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

طیبہ تشدد کیس کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے سنایا، جو 27 مارچ 2018 کو محفوظ کیا گیا تھا۔

سابق جج اور ان کی اہلیہ کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 328 کے تحت سزا سنائی گئی ہے، جس کے مطابق 12 سال سے کم عمر بچوں کو ملازمت پر رکھنا جرم ہے۔

کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کا واقعہ 27 دسمبر 2016 کو پیش آیا تھا اور پولیس نے 29 دسمبر کو سابق ایڈیشنل سیشن جج راجا خرم کے گھر سے طیبہ کو تحویل میں لیا تھا۔

تشدد کے واقعے میں ملوث دونوں ملزمان کے خلاف تھانہ آئی نائن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

طیبہ تشدد کیس میں صلح نامے کی حقیقت کھل گئی

3 جنوری 2017 کو کیس میں اہم موڑ آیا اور طیبہ کے والدین کی جانب سے راجا خرم اور ان کی اہلیہ کو معاف کرنے کی رپورٹس سامنے آئیں، تاہم راضی نامہ سامنے آنے پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے معاملے کا از خود نوٹس لیا تھا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر پولیس نے 8 جنوری 2017 کو طیبہ کو بازیاب کرا کے پیش کیا تھا جبکہ عدالتی حکم پر 12جنوری 2017 کو راجا خرم علی خان کو بطور جج کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔

بعدازاں چیف جسٹس آف پاکستان نے مقدمے کا ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھجوادیا تھا جہاں 16 مئی 2017 کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

اس مقدمے میں مجموعی طور پر 19 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے جن میں 11 سرکاری جبکہ طیبہ کے والدین سمیت 8 غیر سرکاری افرادشامل تھے۔

سابق جج کی درخواست ضمانت

دوسری جانب سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان نے ضمانت کی درخواست دائر کردی، جسے سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا۔

سابق جج کی درخواست ضمانت پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق آج دن ایک بجے سماعت کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں