13

کیا واقعی عمران خان گیم چینجر ثابت ہوسکیں گے ؟ از سلمان عابد

اس بات سے قطع نظر کے لاہور میں تحریک انصاف کے جلسہ میں لوگوں کی تعداد کتنی تھی، یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ تحریک انصاف اور عمران خان نے ثابت کیا ہے کہ وہ بڑے جلسے کرسکتے ہیں۔لاہو ر کا جلسہ کس حد تک تحریک انصاف کے لیے 2018 کے انتخابات کے تناظر میں گیم چینجر ثابت ہوگایہ قبل ازوقت تجزیہ ہوگا۔ کیونکہ بڑے جلسے کی اہمیت اپنی جگہ اصل مسئلہ ان بڑی تعداد میں موجود لوگوں کو ووٹ کی سیاست میں تبدیل کرنا ہوتا ہے ۔2013کی عمران خان کی انتخابی مہم میں بڑی شدت دیکھی گئی تھی ، مگر انتخابی نتائج میں وہ نتیجہ نہیں نکل سکا جو عمران خان توقع کررہے تھے۔لیکن یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ تحریک انصاف اپنے مخالفین کے لیے ایک بڑی طاقت بن چکی ہے ۔دنیا کی سیاست میں دو بڑی سیاسی قوتوں یا دو جماعتی نظام میں کسی تیسری قوت کا اپنے لیے راستہ بنانا بہت مشکل عمل ہوتا ہے ۔یہ کہنا کہ جلسہ میں لاہو رکے لوگ کم تھے درست نہیں ، کیونکہ بڑا جلسہ مقامی لوگوں کی شرکت کے بغیرممکن نہیں ہوسکتا تھا۔
لاہو رمیں عمران خان ایک مختلف کردار میں نظر آئے ۔نہ وہ غصہ میں تھے اور نہ ہی انہوں نے اپنی تقریر میں الزامات کی بنیاد پر جذباتی رنگ اختیار کرکے مخالفین پر چڑھائی کی۔بڑی مدت کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت کے راہنما کو مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے ایشوز کی بنیاد پر مدلل انداز میں گفتگو کرتے سنا ۔یہ بات صاف محسوس کی جاسکتی ہے کہ جلسہ میں عمران خان کی تقریرروائتی تقریر نہ تھی ۔ وہ واقعی دل سے بات کررہے تھے اور نظام کو تبدیل کرنے کی خواہش اور جذبہ ان میں محسوس کیا جاسکتا ہے ۔جس انداز سے لوگوں نے سکوت کی حالت میں ان کی تقریر سنی وہ بھی ظاہر کرتا تھا کہ مجمع محض تماشائی نہیں تھابلکہ وہ واقعی عمران خان کو سنجیدگی سے سن رہے تھے ۔ مجمع میں جو پرجوشیت تھی وہ بھی کمال کی تھی اور واقعی اس تقریر نے عمران خان کو تدبر اورسیاسی فہم فراست کے راہنما کے طور پر پیش کیا ہے ۔
یہ عمران خان کا کمال تھا کہ انہوں نے آئین کی بنیادی حقوق کی دفعات کو بنیاد بنا کر لوگوں کے بنیادی حقوق، محرومی او ر ناانصافی پر مبنی سیاسی ، سماجی او رمعاشی تقسیم کو بڑی خوبصورتی سے اجاگر کیا ۔وہ دو پاکستان کو ایک پاکستان میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں ، مگر یہاں دو پاکستان نہیں بلکہ سیاسی ، لسانی ، علاقائی ، فرقہ ورانہ معاملات ، معاشی اور سماجی عدم انصاف پر مبنی کئی پاکستان ہیں ۔ یہ تقسیم شدہ ریاست ہے او راس کو واقعی ایک کرنا یا جوڑنا آسان کام نہیں ہوگا۔بہت سے لوگوں کو ان کی تقریر پر تنقید کی ہے ۔ یقینی طور پر کوئی تقریر مکمل نہیں ہوتی او رکئی پہلو رہ جاتے ہیں او رعمران بھی بہت سے معاملات پر بات نہیں کرسکے ۔لیکن جتنا بولے ہیں وہ خو ب بولے ہیں البتہ دہشت گردی ، ہمسائے ممالک سے بہتر تعلقات ، پانی ، انصاف ، بلوچستان ، فوج کا سیاسی کردارپر بھی وہ کچھ نکات شامل کرسکتے تھے ۔
لیکن جو گیارہ نکاتی ایجنڈا دیا ہے وہ انتخابی سیاست میں یقینی طور پر نئی بحث پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ جو ایجنڈا عمران نے دیا ہے وہ حتمی نہیں اس میں متبادل نکات اور بحثیں انتخابی سیاست کو ایشوز کی بنیاد پر طاقت فراہم کرسکتی ہیں ۔البتہ عمران خان کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ان کا مقابلہ پنجاب میں ایک بڑی طاقت ور جماعت یعنی مسلم لیگ سے ہے ۔ ہمیں مسلم لیگ اور نواز شریف کی طاقت کو آسان نہیں لینا چاہیے ۔ یہ بات بجا کہ عمران خان نے نواز شریف اور ان کی عملی سیاست کو کافی نقصان پہنچایا ہے ۔لیکن اس کے باوجود انتخابی سیاست میں جو صلاحیت او رہنر نواز شریف کے پاس ہے وہ ابھی عمران خان کے پاس نہیں ۔البتہ انتخاب کا اصل معرکہ پنجاب ہی ہوگا ۔جہاں عمران خان کا اصل مقابلہ نواز شریف کے ساتھ ہے او ران کی نااہلی کے باوجودان کو پنجاب میں ہرانا ایک مشکل چیلنج ہے جو صرف عمران خان ہی کرسکتے ہیں۔
لیکن عمران خان کو ایک نفسیاتی برتری یہ بھی ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں جس انداز سے نواز شریف اور ان کی مجموعی جماعت کا شفافیت کا تاثر کمزور ہوا جس انداز سے پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل سامنے آیا ہے وہ ان کو فائدہ پہنچا سکتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ خود شریف برادران بھی اپنے مقابلے کے لیے عمران خان کو ہی ایک بڑا سیاسی حریف سمجھتے ہیں ۔البتہ اگر شہباز شریف کو بھی نااہلی کا سامنا کرنا پڑا توحکمران جماعت اور زیادہ دباو میں چلی جائے گی۔یہ ہی وجہ ہے کہ خود حکمران طبقہ برملا کہہ رہا ہے کہ انتخابات کا ماحول ان کے خلاف اور عمران خان کے حق میں شعوری طور پر سجایا جارہا ہے ،جہاں تک عمران خان پر اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کا تعلق ہے یہ نکتہ ہمیشہ سے ہماری سیاست میں رہا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ عمران خان پر اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کا الزام لگارہے ہیں خو دان کی سیاست بھی ہمیشہ سے اسی اسٹیبیشمنٹ کی حمایت سے جڑی رہی ہے ۔
عمران خان کے بارے میں ایک تاثر یہ ابھرا ہے کہ وہ اب زیادہ تر انحصار انتخاب جیتنے والے افراد پر کررہے ہیں او راسی بنیاد پر مختلف جماعتوں کے طاقت ور لوگوں کو شامل کررہے ہیں ۔یہ واقعی عمران خان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور اگر اس میں وہ نئے او رپرانے نظریاتی دوستوں او رساتھیوں کے درمیان ایک توازن قائم کرسکیں تو ان کو واقعی فائدہ ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ آج کا جو ہمارا انتخابی نظام ہے وہ کوئی انقلابی عمل نہیں اس میں کئی طرح کے سیاسی سمجھوتے ہی کرنے پڑتے ہیں۔2013کے انتخابات میں بھی خود نواز شریف کئی درجن جنرل مشرف کے ساتھیوں کو لے کر سمجھوتہ کیا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انفرادی افراد انتخابی سیاست میں اہمیت رکھتے ہیں۔
پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے انتخابی معرکہ میں ایک نکتہ دونوں صوبائی حکومتوں کی کارکردگی ہے ۔ اس لیے عمران خان کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی صوبائی حکومت کی کارکردگی کو نمایاں طو رپر پیش کرکے اپنی جماعت اور صوبائی حکومت کی ساکھ کو قائم کریں ۔ویسے تو انتخابی سیاست کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بعض اوقات کارکردگی سے زیادہ تصورات پر اپنے نتائج دیتی ہے اور اس کا تعلق انتخابی مہم میں سیاسی حکمت عملی سے جڑا ہوتا ہے ۔عمران خان دعوی کرتے ہیں کہ انہوں نے صوبہ میں تعلیم ، صحت، پولیس ، مقامی حکومت ، درخت لگانے ، معلومات تک رسائی ، ٹمبر مافیامیں بنیادی تبدیلیاں لائے ہیں ۔ اس لیے یہ تبدیلیاں ان کوواقعی عملی طور پر سب کو دکھانی چاہیے ۔
عمران خان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اس نے پاکستان میں نوجوان طبقہ ، عورتوں او رپڑھی لکھی کلاس کو انتخابی سیاست میں شامل کیا ہے ۔یہ عمل خود ایک بڑی مثبت تبدیلی کا اشارہ کرتاہے ۔ اس لیے یہ لوگ کسی نظریے کی بنیاد پر نہیں بلکہ حکمرانی کے نظام میں بہتری دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔اس لیے عمران خان پر ان کے چاہنے والے بہت زیادہ توقعات رکھتے ہیں او ران پر روائتی سیاست کے تناظر میں بہت سے امور پر سخت تنقید بھی کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔عمران کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کے قریب بہت سے ایسے ساتھی بھی ہیں جو عملی طور پر روائتی سیاست کے کھلاڑی ہیں او ران کو بار بار اسی کی طرف کھینچتے ہیں ۔
عمران خان کی کوشش ہے کہ 2018کے انتخابات سے قبل مسلم لیگ اور نواز شریف کی سیاست کو زیادہ سے زیادہ کمزور اور تقسیم کیا جائے تاکہ وہ ایک ہوکر انتخاب نہ لڑسکے۔ جبکہ مسلم لیگ کو کوشش ہے کہ وہ ہر صورت میں اپنے اندر اتحاد کو قائم رکھے ،لیکن جس انداز سے ارکان اسمبلی نے ان کا ساتھ چھوڑا ہے وہ یقینی طو رپر کسی اچھے عمل کی نشاندہی نہیں کرتا۔البتہ عمران خان کے لیے ایک بڑا چیلنج داخلی سطح پر پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم ، تنظیمی معاملات ، انتخابی دن کی حکمت عملی ، باہمی لڑائیاں سمیت بہت سے امو رہیں او راگر ان کو قابو پالیا گیا تو وہ بہتر نتائج بھی لے سکتے ہیں۔
عمران خان واقعی مخالفین کے لیے گیم چینجر ثابت ہونگے اوران کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں ، 2013کے مقابلے میں ان کی پوزیشن کافی بہتر ہے اور سیاسی حالات کا ماحول بھی ان کے حق میں ہے او ران کے مخالف نواز شریف کو سیاسی اور قانونی محاذ پر کئی طرح کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔لیکن یہ کسی حد تک اپنے مخالفین بالخصوص شریف برادارن پر اپنی سیاسی برتری قائم کرتے ہیں وہی ان کا اصل او ربڑا امتحان ہے ۔عمران خان نے بجا فرمایا کہ وہ اگر انتخابی مہم میں اپنے حق میں ایک بڑی تبدیلی کی لہر پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو وہ خود اور اپنی جماعت کو انتخابی سیاست میں سرخرو کرکے مخالفین پر عددی برتری حاصل کرکے اقتدار کی ایوانوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں