11

جب کبھی یاد آئے , کامران خان جونئیر

جب تمہاری یاد آئے گی ہم ٹوٹ جائیں گے اس آسمان کے نیچے تمہاری یادوں کے سلسلے ہم بھول جائیں یہ کیسے ہو, احسن اقبال جن پر فائرنگ کرکے ان کو زخمی کردیا گیا اور نارروال میں ایک بھی ہسپتال نہیں تھا جہاں اتنا کرٹیکل آپریشن کیا جاسکتا ہو, اسی لئیے مابدولت کو اٹھا کر ہیلی کاپٹر سے لاہور لایا گیا اور یہاں بھی سروسز ہسپتال میں سہولتیں نہ ہونے کے باعث ڈاکٹرز کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ ساری مشینری ہل گئی اور پھر کہیں جا کے احسن اقبال کے پیٹ سے گولی نکالی گئی یعنی ستم ظریفی کی انتہا ہے نارروال میں کوئی ہسپتال نہیں جہاں گولی نکالنے کا علاج ہوسکے, ساری دنیا حیران و پریشان ہے کہ ایک اہم ترین شہر جس کی اہمیت اس کی جغفریائی لوکیشن کی وجہ سے بھی بہت زیادہ ہے وہاں پر وفاقی وزیر داخلہ کا علاج نہیں ہوسکا اور انھیں لاہور شفٹ کردیا گیا, اب کیا کہیں اس ظلم پر ن لیگ کو کہ جب تمہاری یاد آئی ہم نے مڑ کے تمہیں دیکھا اور سوچا کہ کب تمہاری آواز آئی, زندگی کے سفر میں جب ہم چل دئیے تو 2013 کے الیکشن کے بعد دھرنوں کی ایک بارات آئی اور باالاخر میاں نواز شریف کی شامت آئی اور پی ٹی آئی کی بہار آئی, ہم بھی کچھ عرصے بعد رائیونڈ محل سے گزرتے ہوئے سوچیں گے کہ آج تیری یاد آئی, بہت دل اداس ہوا کیونکہ آج بہت عرصے بعد جاتی امراء کی یاد آئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں