60

دعا عبادت کا مغزہے از سید زوار گیلانی

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” دعا عبادت کا مغزہے۔ عبادت کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ کا اللہ رب العزت کے سامنے خشوع خضوع کے ساتھ، اللہ رب العزت کی حمد وثناء اور تعریف و عظمت بیان کرنا، اور اپنی بندگی محتاجی ، بے بسی و بے کسی کا اظہار و اقرار کرنا، اسی لئے دعا کو عبادت کا مغز اور جو ہر کہا گیا ہے۔

خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت وقال ربکم آخر تک پڑھی، جس کا مفہوم ہے کہ تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو اور مانگو، میں قبول کروں گا ، اورتم کو دوں گا ، اور جو لوگ میری عبادت سے متکبرانہ روگردانی کر ینگے ان کوذلیل وخوار ہو کر جہنم میں جانا ہوگا۔ اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جن کمالات وامتیازات سے نواز ان میں سب سے بڑا امتیاز وکمال عبدیت کاملہ کا کمال ہے۔

عبدیت کیا ہے؟ اللہ تعالی کے حضور میں انتہائی عاجزی، بندگی ،لاچاری اورمحتاجی ومسکینی کا پورا پورا اظہار کرنا، اور یہ یقین کرتے ہوئے کہ سب کو اللہ تعالیٰ کے قبضہ و اختیار میں ہے، ان سب کے مجموعہ کا عنوان مقام عبدیت ہے۔ بلاشبہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس صفت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں کامل ترین اور سب پر فائق ہیں، اور اسی لیے افضل مخلوقات اور اشرف کائنات ہیں۔

اصول یہ ہے کہ ہر چیز اپنے مقصد کے لحا ظ سے کامل یا ناقص سمجھی جاتی ہے مثلاگھوڑا جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے یعنی سواری اورتیز رفتاری کے لئے ، اسی طرح گائے یا بھینس کا جو مقصد ہے یعنی دودھ کا حاصل ہونا اس کی قدرقیمت دودھ کی کمی یا زیادتی . اسی حساب سے لگائی جائے گی۔ لہذا انسان کی تخلیق کا مقصداس کے پیدا کرنے والے نے عبدیت اور عبادت بتایا ہے۔

اس لئے سب سے افضل واشرف انسان وہی ہوگا جو اس مقصد میں سب سے اکمل وفائق ہوگا۔ پس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ کمال عبدیت میں سب سے فائق ہیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ا فضل المخلوقات اور اشرف کائنات ہیں اور اسی وجہ سے قرآن مجید میں جہاں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند ترین خصائص وکمالات اور اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص الخاص انعامات کا ذکر کیا گیا ہے وہاں معززترین لقب کے طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبد ہی کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔

دعا
چونکہ عبدیت کا جوہر اور خاص مظہر ہے، اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے وقت بندے کا ظاہرو باطن عبدیت میں ڈوبا ہوتا ہے ،اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال و اوصاف میں غالب ترین وصف اور بیش قیمت خزانہ ان دعاوٴں کا ہے جو مختلف اوقات میں اللہ تعالی سے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیں یا امت کو ان کی تلقین فرمائیں۔ ان میں سے کچھ دعائیں ہیں جن کاتعلق خاص حالات یا اوقات اورمخصوص مقاصد وحاجات سے ہے اور زیادہ تر وہ ہیں جن کی نو عیت عمومی ہے۔

ان دعاوں کی قدرو قیمت اور افادیت کا ایک عام عملی پہلوتویہ ہے کہ ان کے ذریعے دعا کرنے اور اللہ سے اپنی حاجتیں مانگنے کاسلیقہ اور طریقہ معلوم ہوتا ہے اور وہ رہنمائی ملتی ہے جوکہیں اور سے نہیں مل سکتی، احادیث مبارکہ کے زخیرے میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جو سینکڑوں دعائیں محفوظ ہیں ان میں اگر تفکر کیا جائے تو کھلے طور پرمحسوس ہوگا کہ ان میں سے ہر دا معرفت الہی کا شاہکار ہے۔

دعا اپنی کامل عاجزی وبے بسی اور سراپامحتاجی کا مظاہر ہ ہے اور یہی کمال عبدیت ہے، اس لئے عافیت کی دعا اللہ تعالی کو سب دعاوٴں سے زیادہ محبوب ہے۔ دوسری بات حدیث میں فرمائی گئی ہے کہ جس کے لئے دعا کا درواز کھل گیایعنی جس کو دعا کی حقیقت نصیب ہوگئی اور اللہ سے مانگنا آگیا اس کے لئے رحمت الہیٰ کے دروازے کھل گئے۔“ دعا دراصل ان دعائیہ الفاظ کا نام نہیں ہے جو زبان سے ادا ہوتے ہیں ، ان االفاظ کوتو زیادہ سے زیادہ دعا کا لباس یا قالب کہا جاسکتا ہے۔

دعا کی حقیقت انسان کے قلب اور اس کی روح کی طلب اور تڑپ ہے اور حدیث پاک میں اس کیفیت کے نصیب ہونے ہی کو باب دعا کے کھل جانے سے تعبیر کیا گیا ہے، اور جب بندے کو یہ نصیب ہوجائے تو اس کے لئے رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ سے مانگو اوردعا کرو تو اس یقین کے ساتھ کرو کہ وہ ضرور قبول کرے گا اور عطاء فرمائے گا ، اور جان لو اور یاد رکھو کہ اللہ اس کی دعا قبول نہیں کرتا جسکا دل (دعا کے وقت )اللہ سے غافل اور بے پرواہ ہو“ مطلب یہ ہے کہ دعا کے وقت دل کو پوری طرح اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور رب رحمن کی کریمی پر نگاہ رکھتے ہوئے یقین کے ساتھ قبولیت کی امید رکھنی چاہے ،تذبذب اور بے یقینی کے ساتھ جودعا ہوگی وہ بے جان اور روح سے خالی ہوگی۔

جو کوئی یہ چاہتاہے کہ پریشانیوں اورتنگی کے وقت اللہ تعالی اس کی دعا قبول فرمائے ، تو اس کو چاہئے کہ عافیت اور خوش حالی کے زمانہ میں دعا زیادہ کیا کرے۔ جو لوگ صرف پریشانی اور مصیبت کے وقت ہی اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اسی وقت ان کے ہاتھ دعا کے لئے اٹھتے ہیں، ان کا رابطہ اللہ کے ساتھ بہت کمزور ہوتا ہے، اللہ تعالی کی رحمت پر ان کو وہ اعتماد نہیں ہوتا جس سے دعا میں روح اور جان پیدا ہوتی ہے۔

اس کے برعکس جو بندے ہر حال میں اللہ سے مانگنے کے عادی ہوتے ہیں اللہ تعالی کے ساتھ ان کا رابط قوی ہوتا ہے اور اللہ کے کرم اور اس کی رحمت پر ان کو بہت زیادہ اعتماد اور بھروسہ ہوتا ہے، اس لئے ان کی دعا قدرتی طور پر جانداررہتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی ہدایت دی ہے کہ بندوں کو چاہئے کہ عافیت اور خوشحالی کے دنوں میں بھی وہ اللہ تعالی سے زیادہ سے زیادہ دعا کیا کریں اور مانگا کریں، اس سے اُن کو وہ مقام حاصل ہوگا کہ پریشانیوں اورتنگی کے پیش آنے پر جب وہ اللہ تعالی سے دعا کریں گے توانکی دعا خاص طور پرقبول ہوگی۔

.
دعا بندے کی طرف سے اللہ تعالی کے حضور میں استدعا ہے اور وہ مالک کل اور قادر مطلق ہے، چاہے تو اسی لمحہ دعا کرنے والے بندے کو وہ عطاء فرمادے جو وہ مانگ رہا ہے لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ وظلوم وجمہول بندے کی خواہش کی ایسی پابندی کرے بلکہ بسا اوقات خود اس بندے کی مصلحت اسی میں ہوتی ہے کہ اسکی دعا جلد پوری نہ ہو۔ لیکن انسان کے خمیر میں جو جلد بازی ہے اس کی وجہ سے وہ چاہتاہے کہ جو میں مانگ رہا ہوں وہ مجھے فوراََ مل جائے، اور جب ایسا نہیں ہوتا تو مایوس ہوکر دعا کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔

یہ انسان کی وہ غلطی ہے جس کی وجہ سے وہ قبولیت دعا کامستحق نہیں رہتا۔ اور گویا اس کی یہ جلد بازی ہی اس کی محرومی کا باعث بن جاتی ہے۔ دعا کرنا انبیائے کرام کی سنت ہے ہرنبی نے ہر حال میں دعا کی ہے قرآن مجید میں انبیائے کرام کی بہت سی دعاؤں کو محفوظ کیا گیا ہے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے زندگی کے ہر عمل میں دعا کرنے کا حکم دیا ہے۔

لہذاکبھی بھی دعا میں کوتاہی نہ برتی جائے بلکہ ہر وقت دعائیں کرتے رہنا چاہیے اور ایک دوسرے کو دعا کی تلقین بھی کرنا چاہیے۔ دعامانگنے سے بندے کو خاص قرب الہی حاصل ہوتا ہے، دعا کے ذریعے بندے کے اندر عجزوانکساری جنم لیتی ہے۔ بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت میں خشوع وخضوع کے ساتھ دعا مانگنے والا بنائے، اور ہماری دعاوٴں کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں