7

پیٹرولیم مصنوعات پر جب عوام کوریلیف دینے کی باری آئے تو ٹیکس لگ جاتا ہے: سپریم کورٹ


سجادالحسن شعورنیوز
اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز سےمتعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر جب عوام کوریلیف دینے کی باری آئے ٹیکس لگ جاتا ہے۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پیٹرولیم مصنوعات پرٹیکسزکے اطلاق سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسز کا نوٹس لےلیا
سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نےریمارکس دیے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر 25 فیصد ٹیکس لگتا رہا ہے، جب بھی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوتی ہیں سیلزٹیکس لگا دیا جاتا ہے، پیٹرولیم مصنوعات پرجب عوام کوریلیف دینے کی باری آئے تو ٹیکس لگ جاتا ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر کس قسم کے ٹیکسز کا اطلاق ہوتا ہے؟ عالمی مارکیٹ میں پٹیرولیم مصنوعات کی کیا قیمتیں ہیں؟ یہاں پر پیٹرولیم مصنوعات کی کیا قیمتیں ہیں؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ہمارے ہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ بھارت سے قیمتوں کا موازنہ نہ کریں، کیا بھارت کے ساتھ ہمارا آئی ٹی میں کوئی مقابلہ ہے؟
عدالت نے حکم دیاکہ متعلقہ وزارت اور ادارے تحریری جواب داخل کریں، متعلقہ ادارے پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے وضاحت بھی کریں۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک ہفتہ تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں