31

رحیم یارخان تاریخ کے آئینے میں

مانیٹرنگ ڈیسک (پارو خان شعورنیوز اوباڑو)
پنجاب کاگیٹ وے ، تین صوبوں کے سنگم پر واقع ضلع رحیم یارخان
رقبے کے لحاظ سے پنجاب کا ”چو تھا” اور بلحاظ آبادی ”چھٹا” بڑا ضلع، رحیم یار خان جنوبی پنجاب کا ایک اہم زرعی، تجارتی اور کاروباری مرکز ہے جس کے مشرق میں ضلع بہاولپور، مغرب میں ضلع راجن پور، شمال میں دریائے سندھ اور ضلع مظفر گڑھ جبکہ جنوب میں راجستھان کا ضلع جیسلمیر اور صوبہ سندھ کا ضلع گھوٹکی واقع ہیں۔
اس ضلع کو ”گیٹ وے آف پنجاب” بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ نہ صِرف یہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے سنگم پر واقع ہے بلکہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ کو جانے والے تمام مرکزی راستے یہیں سے ہو کر گزرتے ہیں۔ سفید سونا (کپاس)، رسیلے آم، خانپوری پیڑے اور بھونگ مسجد اس علاقے کی پہچان ہیں۔ 11،880 مربع کلومیٹر پر مشتمل اس ضلع کی آبادی لگ بھگ پچاس لاکھ کے قریب ہے اور اس میں چار تحصیلیں خانپور، لیاقت پور، رحیم یار خان اور صادق آباد شامل ہیں۔ ضلع کا ایک چھوٹا سا حصہ(ماچھکہ، صادق آباد) صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی کے اندر یوں واقع ہےکہ اسکے چاروں طرف صوبہ سندھ ہے۔
اس شہر کا پرانا نام ”نوشہرہ” تھا جسے بعد میں نواب آف ریاست بہاولپور کے ایک قریبی رشتے دار کے نام پر ” رحیم یار خان ” کا نام دیا گیا۔ 800 سال پہلے جب محمد بن قاسم اور اسکی افواج ملتان کو فتح کرنے نکلیں تو انکا گزر اِس علاقے سے ہوا۔ یہ اسلامی لشکر جہاں جہاں پڑاؤ ڈالتا وہاں وہاں عرب سے لائی گئی کھجور کی گٹھلیاں پھینکتا جاتا، نتیجتاً آج اس علاقے کے طول و عرض میں شاندار قسم کی کھجور وافر مقدار میں ملتی ہے۔ ان میں ”ججہ عباسیاں” کی کھجور کی مانگ پورے ملک میں ہے۔
محمد بن قاسم کے بعد شہاب الدین غوری نے ملتان اور سندھ کے دارالخلافہ ”اُچ” کو فتح کیا اور یہاں اسلامی مملکت کی بنیاد ڈالی۔ پھر سلطان شمس الدین التمش کے دور میں قریباً 20 سال تک یہ علاقہ باغی گروہوں کا مرکز رہا۔ غوری سے کئی سال پہلے سلطان محمود غزنوی کا سومنات جاتے ہوئے اس علاقے سے گزر ہوا۔ اور قریباً 328 قبلِ مسیح میں سکندرِ اعظم کا قافلہ بھی عراق جاتے ہوئے اُچ سے گزرا تھا۔ غزنوی عہد کے بعد یہ علاقہ مختلف چھوٹے بڑے شہزادوں کے دور سے گزرا اور 1578 میں دہلی کے غوری سلاطین نے یہ علاقہ فتح کیا جن کو ہرا کر مُغل یہاں کے حکمران بن بیٹھے۔
دوسری طرف اپنے ہزاروں پیرو کاروں کی ساتھ 1366 میں مصر سے آ کر سندھ میں آباد ہونے والے” امیر سلطان احمد عباسی” ( جن کے بزرگوں میں سے ایک، عبد العباس کوغیاث الدین محمد بن تغلق اپنا روحانی پیشوا تسلیم کر چکے تھے) کو سندھ میں پہلے سے موجود عربوں نے اپنا سربراہ تسلیم کر لیا اور ان کے گرد اکٹھے ہو گئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ عباسی خاندان شمال کی جانب بڑھتا رہا اور آخرکار جیسلمیر کے حکمران سے ایک زوردار جنگ کے بعد ”قلعہ دیراوڑ” فتح کر لیا گیا۔ اورعباسی خاندان نے یہاں مستقل رہائش اختیار کرلی۔
عباسی خاندان کے مختلف نوابوں نے اس خِطے پر حکومت کی جن میں امیر بہادر خان عباسی، امیر محمد مبارک خان( 1723 ـ1702)، نواب صادق محمد خان اول (1746- 1723)، امیر محمد بہاول خان (1749-1746)، امیر محمد مبارک خان عباسی دوم (1772-1749)، امیر محمد بہاول خان دوم(1809-1772)، نواب صادق محمد خان عباسی دوم (1825-1809)، امیر بہاول خان سوم (1852-1825)، صادق محمد خان عباسی سوم (1853-1852)، پرنس حاجی خان (1858-1853)، پرنس رحیم یار خان جنہیں محمد بہاول خان چہارم بھی کہا جاتا ہے (1866-1858)، سر صادق محمد خان عباسی چہارم (1907-1866)، امیر محمد بہاول خان پنجم (1955-1907) شامل ہیں۔
تقسیم سے پہلے پنڈت جواہر لعل نہرو اور سردار پٹیل نے ریاست بہاولپور کو بھارت میں شامل کروانے کی سر توڑ کوششیں کیں یہاں تک کہ بیکانیر اور اردگرد کے علاقوں کو ریاست میں شامل کرنے کی پیشکش بھی کر ڈالی مگرنواب صادق محمد عباسی بالکل نہ مانے اور کہا کہ بھارت میرے گھر کے پیچھے ہے جبکہ پاکستان سامنے۔ شریف آدمی ہمیشہ سامنے کا راستہ اختیار کرتا ہے اور یوں تقسیم کے وقت برِصغیر کی دوسری امیر ترین ریاست بہاولپور، مملکتِ پاکستان کا حصہ بنی۔ پاکستان بنا تو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کیلئے قومی خزانے میں روپیہ نہ تھا، تب ریاست کے والی نواب صادق محمد خان نے حکومتِ پاکستان کو ستر لاکھ روپے کی کثیر رقم اپنے خزانے سے ادا کی۔ کراچی میں قائد اعظم جس “رولز رائس” کو استعمال کرتے تھے وہ بھی نواب صاحب نے تحفتاً قائد کو پیش کی تھی۔
رحیم یار خان دنیا کے ان چند تاریخی شہروں میں سے ایک ہے جو اپنے آغاز سے ہی اسی جگہ قائم ہیں جہاں وہ بسائے گئے تھے۔ مختلف ادوار میں اس شہر کو کئی ناموں سے نوازا گیا جن میں الور، پتن، پھول ودہ اور نوشہرہ شامل ہیں۔ رحیم یار خان کے موجودہ نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ 1881 میں جب ریاست کے بارود خانے کو آگ لگی تو ریاست کا شہزادہ ”رحیم یار خان” اس حادثے میں مارا گیا جسکے نام پر اس شہر کا نام رکھا گیا۔ 1905 میں یہ ٹاؤن کمیٹی، 1993 میں میونسپل کمیٹی اور 1943 میں اسے خانپور کی جگہ ضلع بنا دیا گیا تھا۔
طبعی خدوخال کے لحاظ سے ضلع رحیمیار خان کو 3 حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ مغرب میں راجن پور اور مظفرگڑھ کی حدود کے ساتھ ساتھ ”دریائے سندھ” بہتا ہے۔ جسکے نشیبی علاقے کو ”کچے کا علاقہ” بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں دریا کا پاٹ بہت چوڑا ہے اور اس میں چھوٹے چھوٹے بہت سے جزیرے نظر آتے ہیں۔
اس کے بعد جنوب میں ضلع کے زرخیز میدان واقع ہیں جنہیں ”پنجند ہیڈورکس” سے نکلنے والی نہریں (پنجند کینال، عباسیہ کینال،آبِ حیات، عباسیہ لنک کینال)سیراب کرتی ہیں۔ منچن بند اس علاقے کو کچے کے علاقے سے الگ کرتا ہے۔ یہ خطہ پنجاب کے چند زرخیز ترین علاقوں میں سے ہے جہاں تقریباً ہر قسم کی پیداوار ہوتی ہے۔
جنوبی حصہ ریگستان پر مشتمل ہے جو پاک بھارت سرحد تک پھیلا ہے اور پورے رقبے کا ایک چوتھائی بنتا ہے۔ اسے چولستان بھی کہتے ہیں اور روہی بھی۔ کہتے ہیں کہ چولستان ہمیشہ سے ہی صحرا نہیں تھا۔ آج سے تقریباً 1000 سال پہلے یہ انتہائی سرسبز و شاداب خطہ ہوا کرتا تھا جسے قدیم ”دریائے ہاکڑہ” سیراب کیا کرتا تھا۔ جو دریائے ستلج اور سرسوتی کا ایک معاون دریا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ یہ معدوم ہوتا گیا اور اب صرف اسکا نشان باقی ہے۔ لیکن بارش کے دنوں میں یہ کہیں کہیں بہنے لگتا ہے۔ آج چولستان کے کئی حصوں کو مختلف طریقوں سے قابلِ کاشت بنایا جا رہا ہے۔
ضلع کی آب و ہوا گرم مرطوب قسم کی ہے۔ سردیوں کے مقابلے میں گرمیاں لمبی ہیں۔ رات کو البتہ موسم خوشگوار ہو جاتا ہے۔ اوسط سالانہ بارش 100 ملی میٹر ہے۔
جنگلی حیات و نباتات کے حوالے سے یہ خطہ دو حصوں میں منقسم ہے۔ شمالی حصے میں ملک کے دوسرے دریائی اور میدانی علاقوں کی مخصوص جنگلی حیات ہے جبکہ جنوبی حصے میں صحرائی حیات کی بہتات ہے جن میں جنگلی بلی، گیدڑ، لومڑی، ہرن، اونٹ، خارپشت،جنگلی مور، جربو ( چوہے کی نسل کا ایک چھوٹا بل کھودنے والا جانور)، مختلف اقسام کے سانپ، جنگلی چوہے، چکارا، عقاب، خنزیر، جنگلی بیل اور بہت سے منفرد صحرائی جانور شامل ہیں۔ یہاں مرغابی اور ہرن کا شکار شوق سے کیا جاتا ہے۔
اس ضلع کا شمار پنجاب کے زرخیز ترین اضلاع میں کیا جاتا ہے۔ یہاں تقریباً تمام قسم کی اجناس کاشت کی جاتی ہیں جن میں گندم، گنا، کپاس، چاول، جوار، چنا، سورج مکھی، باجرہ اور پیاز شامل ہیں۔ جبکہ پھلوں مہیں یہاں کی مشہور ترین سوغات آم ہیں۔ بہاولپور کی شاہی ریاست عمدہ آموں کی وجہ سے ہندوستان بھر میں جانی جاتی تھی۔ یہی علاقہ جو آج بہاولنگر، بہاولپور اور رحیم یار خان کے اضلاع میں منقسم ہے آج بھی ملک بھر میں اعلیٰ کولٹی کا آم پیدا کرتا ہے۔
آم کے بعد یہاں کا مشہور پھل کھجور ہے۔ مظفر گڑھ کے بعد پنجاب میں سب سے زیادہ کھجور رحیم یار خان میں پیدا ہوتی ہے جو پنجاب کی کل پیداوار کا 34٪ ہے۔ اس کے علاوہ یہاں امرود ، جامن، خربوزہ اور ترش پھلوں کے باغات بھی ہیں۔
ایک مضبوط زرعی بنیاد رکھنے اور تین صوبوں کے سنگم پر واقع ہونے کی بدولت آج یہاں کارخانوں کی بہتات ہے۔ ضلع کے طول و عرض میں کم وبیش 6 شوگرملز واقع ہیں۔ کاٹن بیلٹ کا حصہ ہونے کی وجہ سے یہاں کاٹن جننگ کی بے شمار ملیں ہیں۔ اس کے علاوہ تیل گھی، صرف اور صابن بنانے، ماربل بنانے، کھاد بنانے، آٹا پیسنے، خشک دودھ بنانے، پولٹری فیڈ، کوکا کولا بیورج فیکٹری اور ڈبل روٹی بنانے کے کارخانے یہاں واقع ہیں ۔
معدنی دولت کے حوالے سے یہاں کوئی قابلِ ذکر دھات فی الحال نہیں ملی۔ البتہ گھریلو دستکاریوں میں اجرک ، کھیس اور دریاں بنانے، مٹی کے برتن بنانے، کھجور کے پتوں اور چھال سے چٹایاں ، ٹوکریاں اور پنکھے بنانے اور کشیدہ کاری کرنے میں یہاں کی چولستانی خواتین اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتیں۔
اب آتے ہیں علاقے کی بودوباش کی طرف ۔ ضلع کی آبادی کا 60 فیصد ”ریاستی” یہں جو یہاں کے آبائی لوگ ہیں جبکہ آبادکاروں کا تناسب 40 فیصد ہے ۔ اس ضلع میں ہندوؤں کی تعداد پنجاب کے باقی ضلعوں سے(ماسوائے بہاولپور) زیادہ ہے جو زیادہ تر چولستان کے صحرائی علاقے میں رہتے ہیں۔ یہاں پنجابی اور دوسرے صوبوں سے آنے والے سندھی، بلوچی اور پٹھان سب باہمی یگانگت کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہاں بولی جانے والی بڑی زبانوں میں سرائیکی(٪62)، پنجابی(٪27)، اردو(٪3)، سندھی(٪2) سمیت پشتو، بلوچی اور دڑی زبان شامل ہیںَ ۔
پنجاب کی آخری تحصیل صادق آباد، اپنی صنعتی ترقی کے حوالے سے شہرت رکھتی ہے۔ یہاں موجود ٖکھاد(فوجی فرٹیلائزر)، کپاس اور چینی کے کارخانے بہت مشہور ہیں۔ اسکے علاوہ ”گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ” میں شامل بھونگ مسجد بین الاقوامی شہرت کی حامل ہے جسے دیکھنے دور دور سے لوگ آتے ہیں۔ کہتے ہیں کے اسکی تعمیر کے آغاز سے لیکر اب تک یہاں کوئی نہ کوئی تعمیراتی کام جاری رہا ہے۔ صادق آباد شہر سے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر ”باغِ بہشت” نام کا ایک خوبصورت باغ ہے جو 75 ایکڑ سے زائد رقبے اور انواع و اقسام کے نباتات کے ساتھ اس علاقے کا سب سے بڑا باغ ہے۔
صوفیاء کی سرزمین اور قدیم شہر تحصیل خانپور، شاید پنجاب کی واحد تحصیل ہے جو پہلے ایک ضلع ہوا کرتی تھی، اسے 1932 میں ختم کر کہ رحیم یار خان کو ضلع بنایا گیا ۔ یہ شہر عظیم صوفی شاعر خواجہ غلام فریدؒ، حافظ الحدیث ، معروف عالمِ دین اور تحریک ختمِ نبوت کے سپاہی مولانا محمد عبداُللہ درخواستیؒ، مشہور روحانی بزرگ ہستی مولانا سراج احمد دین پوریؒ کی جنم بھومی اور ریشمی رومال تحریک کے بانی اور صوفی بزرگ مولانا عبید اُللہ سندھیؒ مرحوم کی جائے مدفن ہے۔ محل وقوع کے لحاظ سے یہ شہر کافی اہمیت کا حامل ہے۔ لاہور اور کراچی کے وسط میں ہونے کی بدولت خانپور کافی عرصہ تک روہڑی اور خانیوال جنکشن کے درمیان کا سب سے بڑا ریلوے جنکشن رہا ہے جو 1983 میں ختم کر دیا گیا۔ یہاں سے ایک ریلوے لائن چاچڑاں شریف کو جاتی تھی جومعروف صوفی بزرگ و شاعر حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا مسکن رہا ہے۔
پورے ملک میں اس شہر کی شہرت ”خانپوری پیڑوں ” کی بدولت ہے۔ کھوئے، دودھ، بالائی اور پستے سے بنائے جانے والے خانپور کے پیڑے، ضلع رحیم یار خان کی مشہور سوغات ہیں۔ چونکہ پاکستان میں خانپور نام کے قریباً 8 شہر ہیں (تحصیل خانپور ضلع ہری پور، خان پور مرچانوالہ ضلع بہاولپور، خانپور ضلع شکارپور، خانپور مہر ضلع کھوٹکی، خانپور تحصیل میلسی ضلع وہاڑی، خانپورہ ضلع شیخوپورہ، خانپور شمالی ضلع مظفرگڑھ ، خانپور ضلع جعفرآباد ) اس لیئے تحصیل خانپور کو خانپور کٹورہ بھی کہا جاتا ہے۔ اسکی دو وجوہات ہیں ۔ ایک تو یہ کہ اس شہر کی ساخت ایک کٹورے کی مانند ہے دوسری یہ کہ ایک زمانے میں یہاں کے پیتل سے بنے کٹورے بہت مشہور تھے۔ بٹوارے سے پہلے جب موہن داس گاندھی اس شہر سے گزرے تو یہاں کے ہندو تاجروں نے انہیں پیتل سے بنے کٹورے پیش کیئے۔ شہر کے شمال میں دریائے سندھ کے کنارے آباد چاچڑاں شریف کا قصبہ اور جنوب میں چولستان کی ریت میں ایستادہ ”قلعہ اسلام گڑھ” اور ”قلعہ خیر گڑھ” دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔
رحیم یار خان شہر کا ذکر کریں تو یہ شہر قدیم و جدید کا ایک حسین امتزاج ہے۔ اس شہر کی جدت میں شیخ زاید بن سلطان النہیان مرحوم کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ یہ شہر ابوظہبی کے شیوخ کا پسندیدہ شہر ہے جہاں وہ ہر سال شکار کے غرض سےآتے ہیں۔ جہاں رحیم یار خان کا ابوظہبی پیلس، شیخ زاید ایئرپورٹ اور شیخ زاید میڈیکل کمپلیکس جِدت کے عکاس ہیں وہیں شہر کے شمال و جنوب میں واقع بگھلا فورٹ، سسّی کا مجوزہ شہر بھٹہ واہن، مئو مبارک کا قلعہ، قدیم پتّن مِنارہ اور قلعہ بجنوٹ اس شہر کی قدیم تاریخ اور عالیشان ماضی کا حصہ ہیں۔
ضلع کی آخری تحصیل لیاقت پور ہے جو ضلع بہاولپور کے تاریخی مقام ”اُچ شریف” کے قریب واقع ہے۔ جبکہ ایک اور مقام، ہیڈ پنجند بھی اس شہر کے ساتھ ہے۔ لیاقتپور ایک چھوٹا سا شہر ہے جسکا نام پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اور آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ ریاست بہاولپور کا واحد شہر ہے جس کا نام ریاست کے باہر کی کسی شخصیت کے نام پر رکھا گیا ہے۔
ضلع رحیم یار خان نہ صرف پیداوار بلکہ صوفیاء، شعرا، قلمکار اور سیاستدانوں کے حوالے سے بھی زرخیز رہا ہے۔ یہاں کی مشہور شخصیات میں حضرت خواجہ غلام فریدؒ(مشہور صوفی بزرگ اور شاعر)، مولانا عبید اللہ سندھیؒ (بانی تحریک ریشمی رومال)، چوہدری عبدالمالک مرحوم، ہارون الرشید (کالم نگار)، مخدوم حسن محمود ( سابق وزیر اعلیٰ ریاست بہاولپور)، مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ (معروف عالمِ دین اور تحریک ختمِ نبوت کے اہم رکن)، مولانا سراج احمد دین پوریؒ (عالمِ دین اور روحانی بزرگ)، مخدوم سید احمد محمود (سابق گورنر پنجاب، سیاستدان)، مخدوم خسرو بختیار (سابق وزیر مملکت برائے خارجہ امور) ، آئمہ بیگ (سنگر)، چوہدری جعفر اقبال گجر (سینیٹر پاکستان مسلم لیگ ن) ، اقراء خالد (ممبر کینیڈین پارلیمنٹ) ، مخدوم شہاب الدین(سابق وفاقی وزیر پاکستان پیپلز پارٹی) اور مشہور سماجی ورکر و آرٹسٹ منیبہ مزاری شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں