22

خود اپنے ہاتھ سے بخت کاٹ رہے ہیں ہر ایک شہر میں انسان درخت کاٹ رہے ہیں

میاں کاشف جہانگیر
السلام علیکم!
درخت کسی بھی ملک کے ماحول اورآب و ہوا کے لئے بہت ضروری ہیں.ایک تحقیق کی مطابق کسی بھی ملک کے کُل رقبے کا 25 فیصد جنگلات ہونے چاہئے.لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جنگلات 5 فیصد سے بھی کم ہیں.جس کی وجہ سے ملک کی آب و ہوادن بدن بہت گرم ہو رہی ہے.اور دوسری طرف ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے.جس کے باعث بہت ساری بیماریاں جنم لیتی ہیں.اور ایک کثیر رقم ان بیماریوں کے علاج پر خرچ ہو جاتی ہے.
ہمارا المیہ یہ ہے کہ:ہم پچاس ہزار کا اے سی تو لگوا لیتے ہیں مگر بیس روپے کا پودا لگانے سے قاصر ہیں..
اگر شجرکاری کو اہمیت دی جائے نہ صرف ہمارے ملک کی آب و ہوا ٹھنڈی ہوگی بلکہ آلودگی اور اس کے باعث پھیلنے والی بہت سی بیماریوں میں بھی کمی واقع ہو گی.
یہ تو تصویر کا ایک رخ تھا.اب تصویر کا دوسرا رخ آپ کی نظر کرتا ہوں.جنگلات میں کمی کے باعث بارشیں نا ہونے کے برابر ہوتی ہیں.جس کی وجہ سے ملک پاکستان پانی کی کمی کا شکار ہے.بارشوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے آبی ذخیروں میں خشکی کا راج ہے.جس کا ہماری زراعت پر بہت برا اثر مرتب ہو رہا ہے.جس کی وجہ سے مستقبل میں ہمیں بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے.
ایک اندازے کے مطابق:اگر ملک پاکستان کے آبی ذخائر میں کمی اِسی تناسب سے ہوتی رہی تو 2025 تک زراعت اور دیگر استعمال کیلئے ایک گلاس پانی بھی نہیں بچے گا.
لہذا موجودہ صورت حال کے پیش نظر ملکِ پاکستان میں شجر کاری کو فروغ دینا اور لوگوں میں بلخصوص بچوں اور نوجوان نسل میں شجر کاری اور اس کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا بہت ضروری ہے.
سرسبز پاکستان
صہتمند پاکستان
اللہ نگہبان!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں