236

انٹرویو میں کامیابی کیسے ممکن بنائی جائے؟


تعلیم سے فراغت کے بعد طالب علموں کی زندگی کا سب سے اہم مرحلہ ’’ جاب انٹرویو ،،ہوتاہے۔یہ وہ چند منٹوں کی ملاقات ہے جو آپ کی زندگی پر خاصی اثر انداز ہوتی ہے ۔کوئی بھی کمپنی یا ادارہ کسی بھی خالی اسامی کو پر کرنے کے لیے درجنوں افراد کو انٹرویو کے لیے بلاتےہیں۔ عملی زندگی کے پہلے اور سخت مقابلے میں فتحیاب ہونے کے لیے آپ کو کڑی محنت درکار ہوتی ہے ۔دنیا بھر میں اکثر طالب علم نوکری کی تلاش کے لیے سرگرم رہتے ہیں اور کچھ خوش قسمت نوجوان ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں جلد ہی انٹرویو کے لیے طلب کرلیا جاتا ہے مگر وہاں ان کا ایک غلط جواب ملازمت کے حصول کے سارے امکانات کو ختم کردیتا ہے۔
آپ کے خود کے تجربے میں بھی یہ بات آئی ہوگی کہ اکثر طالب علم انٹرویو سے قبل اچھی خاصی تیاری کر کے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود ناکام لوٹتے ہیں۔ایسا کیوں ہے؟کیا آپ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ وہ نوکری کے اہل نہیں ؟ان میں صلاحیت نہیں؟ ایسا ہر گز نہیں ہے،دوران انٹرویو کچھ خاص عوامل ایسےہوتے ہیں جن پر ہم توجہ مرکوز نہ کرنے کے باعث پریشانی اور گھبراہٹ کا شکار ہوجاتے ہیں ۔اور اس بات پر شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ دوبارہ ’کال‘ کیوںنہیں آئی۔تاہم نوکری کے حصول کے لیے ایک کامیاب انٹرویو کیسا ہونا چاہیے، اس بارے میںجانتے ہیں ۔
سب سے اہم ’’تین باتیں ‘‘
٭انٹرویو لینے والا آپ کی جس چیز سے سب سے پہلے متا ثر ہوتا ہے وہ آپ کا لباس ہے کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو سب سے پہلے توجہ حاصل کرتی ہے۔آپ کے لباس کو دیکھ کر انٹرویو لینے والا آپ کی ذہنی صلاحیت کا اندازہ لگاتا ہے ۔ایک کامیاب انٹرویو کی تیاری کے لیے سادہ کپڑے اور نفیس رنگوں کا خیال رکھا جائے، ایسا لباس منتخب کیا جائے جس میں آپ کی شخصیت نفیس اور منظم دکھائی دے ۔
٭لباس کے بعد جو چیز کسی شخص کو زیادہ متاثر کرتی ہے وہ آپ کے بیٹھنے کا طریقہ ہے ،آپ کے بیٹھنے کے اسٹائل کے ذریعے سامنے والا شخص آپ کے بارے میں محتاط اندازہ لگاسکتا ہے۔
٭ سب سے اہم بات، آپ کے بولنے کا انداز ہے ۔اچھا اور متاثر کن بولنے کی صلاحیت بعض اوقات آپ کی تمام ڈگریوں کو بھی مات دے دیتی ہے۔ساتھ ہی مختلف زبانوں پر عبور کسی نوکری کے حصول کے لیے اہم ہے،کچھ زیادہ نہیں تو انگریزی زبان پر مکمل عبور بھی آپ کی کامیابی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
غیر ضروری اعتماد کے بجائے’’ خود اعتمادی ،،
زندگی کے ہر قدم پر خود اعتمادی کامیابی کے لیے بے حد ضروری ہے ،دوران انٹرویو ہر سوال کا جواب اعتماد کے ساتھ دیں۔ پریشانی اور گھبراہٹ نہ صرف آپ کا اعتماد چھینتی ہے بلکہ نوکری کے حصول میں بھی روڑے اٹکاتی ہے ۔خود اعتمادی کے لیے ان تین چیزوں کا خیال رکھیں
٭اپنے مقصد پر یقین
٭ اپنے مستقبل کے بارے میں مثبت سوچ
٭انٹرویو کے روایتی سوالات کی مکمل تیاری
ا ب سوال یہ ہے کہ انٹرویو کی تیاری کیسے کی جائے ؟
انٹرویو کی تیاری
انٹرویو لینے والے، دوران انٹرویوعموماً ایک ہی جیسے روایتی سوالات کرتے ہیں، کچھ ہی سوالات ایسے ہوتے ہیں جو مختلف ہوں، ان سوالا ت کی فہرست نکال کر انٹرویو سے پہلے ہی ان سوالوں کے جواب تلاش کرلیں۔
روایتی سوالات اس طرح کے ہوسکتے ہیں
٭آپ ملازمت کیوں حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
٭ ادارہ آپ کا انتخاب کرے تو آپ ادارے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟
٭آپ کی خوبیاں ( Strengths) کیا ہیں؟
اپنے سینئر ز سے بات کریں ،ان کا تجربہ بھی آپ کو انٹرویو میں کامیابی میں مدد فراہم کرے گا۔ یہی وہ تیاری ہے جس کے ذریعے آپ انٹرویو لینے والوںپر ایک اچھا تاثر ڈالنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔
باڈی لینگویج
باڈی لینگویج آپ کے خفیہ راز بھی پوشیدہ کردیتی ہے،جس وقت آپ انٹرویوکے لیےکمرے میں داخل ہوتے ہیں، اُس لمحے آپ کے چہرے کے تاثرات اور آپ کے منہ سے نکلے چند ابتدائی الفاظ آپ کا مثبت یا منفی تاثر قائم کردیتے ہیں، لہٰذا اپنا پہلا تاثر اچھا ڈالیں۔ جو بھی گفتگو کریںپروفیشنل انداز میں کریں، چہرے پر مسکراہٹ اور دوستانہ رویہ رکھیں۔ موبائل فون کمرے میں داخل ہونے سے پہلے بند کر دیں۔
غیر ضروری گفتگو سے بچیں
انٹرویو میںسوالوں کے غیر ضروری جوابات دینے سے بچیں۔دورانِ انٹرویو سوال پوچھنے والے کو غور سے دیکھتے رہیں۔ اس سے آپ کو الفاظ کے علاوہ غیرزبانی اظہار (نان وربل کمیونیکیشن) کی مدد سے سوال کی نوعیت اور مقصد کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔جوابات انگریزی میں دیے جائیں یا اردو میں؟ یہ وہ اہم سوال ہے جن سے متعلق اکثر طالب علم خاصے پریشان نظر آتے ہیں ۔ اس کا بہترین حل یہ ہےکہ سوال جس زبان میں کیا جائے اسی زبان میں جواب دیا جائے ۔اگر کوئی سوال انگریزی میں کیا جائے اور آپ کی انگریزی اچھی نہ ہو تو کوشش کریں کہ جواب اردو میں ٹھہرٹھہر کر دیں تاکہ آپ کی بات باآسانی سمجھی جاسکے۔
حاضر دماغی
دوران انٹرویو حاضر دماغی کا مظاہرہ کریں، بعض اوقات کوئی سوال غیر روایتی طور پر بھی پوچھا جاسکتا ہے ۔کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہ صرف انٹرویو بلکہ عام گفتگو میں بھی حاضر دماغ ہوتے ہیں تاہم باقی لوگ بھی تھوڑی سی محنت کر کے اس خوبی سے ہمکنار ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ٹی وی چینلز پر چلنے والے ٹاک شوز آپ کی بھرپور رہنمائی کر سکتے ہیں۔
وقت کی پابندی
انٹرویو والے دن مقررہ وقت سے پہلے پہنچنے کو یقینی بنائیں۔ کوشش کریں کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ٹریفک کے مسائل آپ کے انٹرویو کے درمیان رکاوٹ نہ بنیں کیونکہ انٹرویو کیلئے دیر سے پہنچنا بہت منفی تاثر چھوڑتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں