165

"عمران خان نے جو کہا ، وہ کر دکھایا" ( از ) "سلمان عابد"


عمومی طور پر دنیا کے جمہوری معاشروں میں موجود دو جماعتی نظام کو توڑنا او راس میں ایک متبادل سیاسی قوت کو پیدا کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ۔ دنیا کے بیشترملکوں میں دو جماعتی نظام میں تیسری قوت کے طور پر جس نے بھی ابھرنے کی کوشش کی اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بہت سے ملکوں میں جو بھی سیاسی اور جمہوری نظام رائج ہیں ان میں دو جماعتی نظام کو ہی بالادستی حاصل ہے ۔ پاکستان میں بھی عملا دو جماعتی نظام کو ہی فوقیت حاصل تھی۔ کیونکہ دو بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور اس کے بعد مسلم لیگ نے سیاست پر اپنی گرفت قائم کرکے متبادل سیاست کے عملی امکانات کو محدود کررکھا ہوا تھا۔دیگر سیاسی جماعتوں کے پاس واحد سیاسی آپشن یہ ہی ہوتا تھا کہ وہ ان دو بڑی سیاسی جماعتوں کے اشترا ک کی مدد سے انتخابی سیاست میں اپنا حصہ تلاش کریں۔
لیکن تحریک انصاف کی صورت میں جب پہلی بار عمران خان نے اپنی سیاست کا آغاز کیا تو بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ عمران خان اپنی مقبولیت کے باوجود اپنی جماعت کو ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر نہیں منواسکیں گے ۔ان کے بہت سے دوستوں نے مشورہ دیا کہ اگر وہ واقعی سیاست کرنا چاہتے ہیں تو نواز شریف کے اتحادی بن کر سیاست کریں تو کوئی سیاسی حصہ حاصل کرسکتے ہیں ۔مگر عمران خان نے ان دونوں بڑی سیاسی جماعتوں یعنی پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن کی عملی سیاست کو چیلنج کرکے ایک متبادل سیاست کا نقشہ پیش کیا ۔ لیکن کئی برسوں تک وہ اس دو جماعتی سیاسی نظام میں اپنی سیاسی حکمت عملیوں کا جادو نہیں چلاسکے اور ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
لیکن عمران خان بنیادی طور پر جیت اور ہار کے درمیان کھیلنے والی شخصیت کا نام ہے ۔ عمومی طور پر جو لوگ عمران خان کو خود جانتے ہیں وہ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ پیچھے مڑ کر دیکھنا اور چیلنج سے گھبرانے کی بجائے میدان میں رہ کر مقابلہ کرنے کا وہ خوب ہنر رکھتے ہیں ۔عمران خان ناکامیوں میں سے کامیابی کا راستہ تلاش کرنے کی امنگ، جستجو او رجوش رکھتے ہیں اور یہ ہی ان کی شخصیت کا اہم پہلو ہے ۔مجھے یاد ہے کہ بہت سے اہل دانش نے ان کو ہمیشہ یہ ہی مشورہ دیا کہ وہ سیاست کو چھوڑکر اپنی توجہ فلاحی کاموں تک محدود رکھیں تو یہ ان کی بڑی قومی خدمت ہوگی ۔مگر عمران خان کے ذہن میں بنیادی نکتہ یہ تھا کہ فلاحی کاموں سے نظام کو تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ان کے بقول بڑی تبدیلی کے لیے بڑے سیاسی کردار کی ہی ضرورت ہوتی ہے ، جو ہمیں کرنا ہوگا۔
یہ ہی وجہ ہے کہ عمران خان ایک بڑی سیاسی جنگ کو لڑنے کا فیصلہ کرچکے تھے ۔انہوں نے سیاست میں ہراس شخص کی بات پر کوئی توجہ نہ دی جو ان کو سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیتے تھے ۔ ان کے ذہن میں پاکستان کو تبدیل کرنے کی واقعی امنگ تھی اور اس کا اظہار سننے والوں کو ان کی جذباتی اور سچائی پر مبنی گفتگو میں سچائی محسوس ہوتی تھی ۔اس سیاسی سفر میں عمران خان کو عملی طور پر اپنے سیاسی مخالفین کی جانب سے ذاتی، خاندانی ، ازدواجی ، سیاسی اور فلاحی کاموں پر مبنی زندگی میں ہر طرح کی وشنام ترازی جن میں بدکرداری ، جھوٹ ، مکاری ، یہود ہنود کا ایجنٹ ، ملک او رمذہب دشمن سمیت کرپشن اور بدعنوانی کے نام پر بہت کچھ سننے کو ملا مگر وہ ہمت نہیں ہارے ۔عمران خان کے بقول ان کی ڈکشنری میں شکست موجود نہیں بلکہ وہ شکست سے کامیابی کا راستہ تلاش کرنے کو ہی ہمیشہ ترجیح دیتے ہیں ۔
عمران خان کی اصل کامیابی کی وجہ بھی دو جماعتی نظام میں شامل جماعتوں اور قیادت کی بری طرز حکمرانی اور کرپشن کی سیاست تھی ۔ اس سیاست میں عوامی مفادسے زیادہ قیادت کے اپنے ذاتی اور خاندانی سیاست کی بالادستی تھی اور اس قیادت نے جمہوریت ، قانون کی حکمرانی اور عوامی مفادات کو اپنی سیاست میں محض ایک بڑے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعما ل کیا ۔ اسی سیاست کی بداعمالیوں نے ملک میں متبادل سیاست کی گنجائش کو پیدا کیا او راس خلا سے عمران خان نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
عمران خان کی سیاست کی اصل اٹھان 11اکتوبر 2011کا لاہور مینار پاکستان میں جلسہ تھا ۔ پہلی بار اس جلسے نے عملا عمران خان کو سیاسی مقبولیت کے عروج پر پہنچایا اور لوگوں کو محسوس ہوا کہ ایک متبادل سیاست کاخاکہ سامنے آگیا ہے ۔ پہلی بار اس جلسے نے عمران خان کے سیاسی مخالفین کو جنجھوڑا او ران کو محسوس ہوا کہ ایک بڑا سیاسی خطرہ پیدا ہوگیا ہے اور بالخصوص نوجوان نسل اور عورتوں سمیت وہ طبقہ جو عمومی طور پر سیاست اور سیاست دانوں سے لاتعلق تھا وہ نہ صرف عمران خان کی سیاست کا محور بلکہ حقیقی معنوں میں ان کی طاقت بھی بنے ۔ 2013کے انتخابات میں ان کی جماعت نے ملک بھر سے 76لاکھ ووٹ لے کر شریف سیاست کے خلاف خطرے کی گھنٹی بجادی تھی۔
2013سے لے کر 2018کے عام انتخابات تک انتخابی دھاندلی پردھرنا ، پانامہ کا مقدمہ ، نواز شریف خاندان کو قانونی محاذ پر عدالتوں میں لانا اور سیاسی محاذ پر نواز شریف سمیت زرداری ، مولانا فضل الرحمن ، اسفند یا ر ولی ، محمود خان اچکزئی ، الطاف حسین، عدلیہ ، الیکشن کمیشن ، نیب کے خلاف بھرپور سیاسی مزاحمت کے ساتھ سیاسی جنگ کو لڑنا کوئی معمولی کام نہیں تھا ۔عمران خان کو اپنی سیاسی لڑائی میں جہاں خارجی محاذ پر لڑنا تھا وہیں اپنی ہی جماعت کے داخلی مسائل پرموجود جنگ کو لڑنا آسان کام نہیں تھا ۔عمران خان بنیادی طور پر مخالفین کو چیلنج کرکے مقابلہ کرنے کا جنون رکھتے ہیں او ران کے بقول جب تک کسی کو آگے بڑھ کر چیلنج نہ کیا جائے تو جیت کے امکانات محدود رہتے ہیں۔
پاکستان کی سیاست میں کس کو یقین تھا کہ یہاں کبھی طاقت ور وزیر اعظم او ربالخصوص شریف خاندان کبھی احتساب کے عمل سے گزرسکیں گے ۔یہ کام اگر عملی طو رپر ہوا تو اس کا کریڈیٹ عمران خان کو ہی جاتا ہے جنہوں نے اس بڑے سیاسی خاندان کے خلاف قانونی اور سیاسی جنگ خوب لڑی ۔مسئلہ محض نواز شریف کی سیاسی طاقت کا نہیں تھا بلکہ انتظامی سطح پر موجود اداروں پر اپنے من پسند افراد کی مدد سے انہوں نے پورے سیاسی او رانتظامی نظام کو کنٹرول کررکھا تھا۔ اس لیے ان کو شکست دینا کوئی معمولی عمل نہیں تھااور اسٹیبلیشمنٹ کی سطح پر بھی ان کی حیثیت لاڈلے کی تھی۔
2013کے انتخابات میں سب جماعتیں متفق تھیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے ، مگر اس کے خلاف مزاحمت کے لیے تیار نہیں ہوئیں اور یہ ہی حال پانامہ کے مقدمہ کا بھی تھا جہاں عمران خان کو تنہا یہ بڑ ی جنگ لڑنی پڑی ہے اور اس جنگ کی مدد سے انہوں نے شریف سیاست کی شرافت اور شفافیت کا خوب پردہ چاک کیا ۔ میڈیا کے محاذ پر بھی شریف سیاست کی بڑی سرمایہ کاری کے باعث عمران خان کو بڑی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، مگر وہ بڑی بہادری کے ساتھ شریف سیاست کے خلاف ڈٹے رہے ، جو ان کی کامیابی کی ضمانت بھی بنا ہے ۔
2018کے انتخابی نتائج نے ثابت کیا کہ عمران خان نے جس سیاسی جنگ کو لڑنے کا فیصلہ کیا وہ جنگ اس نے سیاسی محاذ پر نہ صرف خوب لڑی بلکہ ایک شاندار کامیابی حاصل کرکے ان تمام سیاسی مخالفین کو شکست دی جو برملا اور زور دار انداز میں کہتے تھے کہ عمران خان کبھی بھی اقتدار کی سیاست کا ہیرو یا وزیر اعظم نہیں بن سکے گا۔اس نے پاکستانی سیاست کے بڑے برج اور بڑے فرعونوں کو جس انداز میں لکارا او رشکست دی وہ غیر معمولی واقعہ نہیں۔ اگرچہ کچھ لوگ اس کی اس کامیابی کو عملا اسٹیبلیشمنٹ کی کامیابی سے جوڑتے ہیں ، مگرالزام لگانے والے خود بھی اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ مل کر بطور آلہ کار پہلے بھی اور اب بھی سیاست کرتے ہیں او راس الزام میں وہ عمران خان کی سیاسی جدوجہد کو نظر انداز کرکے اپنے سیاسی تعصب کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں ۔
عمران خان نے اقتدار کی جنگ تو جیت لی ہے ، مگر یہ جنگ ادھوری ہے ۔ اس جنگ کا باقی کا حصہ وہ عملی اقدامات ہیں جو عمران خان لوگوں کو ایک خواب کی صورت میں دکھاتے رہے ہیں ۔اس لیے عمران خان کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے ۔کیونکہ اقتدار میں آنے کے بعد لوگ آب عمران خان سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کر بیٹھے ہیں ۔ یہ امیدیں خود عمران خان نے لوگوں میں پیداکی ہیں کہ ہم ملک کو حقیقی معنوں میں منصفانہ ، شفاف اورترقی سمیت خوشحالی او رسماجی انصاف میں بدل سکتے ہیں ۔اس لیے اب عمران خان کی حقیقی جوابدہی کا دور شروع ہوگیا ہے اور دیکھنا ہوگا کہ وہ اس حقیقی جنگ میں کس حد تک لوگوں کی توقعات اور خواہشات کا احترام کرکے حقیقی تبدیلی کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں