199

چْھو لو آسمان از ہارون ا لرشید

قصور کے نواحی گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک باہمت نوجوان فیض الرحمٰن فیضی، جس نے نامساعد حالات کے باوجود اپنی تمام تر محرومیوں کو اپنی زندگی کے سفر میںآڑے نہیں آنے دیا۔ تیئس سال کے اس نوجوان نے ابتدائی ایام سے ہی اپنے اندر ایسا جذبہ اور حوصلہ پیدا کیا، جو آجکل کے اس مادی دور میں انتہائی ناپید ہے۔ کسی بھی نوجوان کیلئے والد کی سر پرستی کسی سرمائے سے کم نہیں ہوتی، اسکا ادراک صرف وہی کر سکتا ہے، جو اس نعمت سے محروم ہو۔ فیض الرحمٰن بھی اْن میں سے ایک ہے۔ ابتدائی عمر میں والد کا سایہ سر سے اْٹھنے کے بعد والدہ کی زیرنگرانی پروان چڑھنے والے اس نوجوان نے اپنے ارادوں میں کبھی لغز ش ا ور محرومی کو آڑے نہیں آنے دیااو ر تعلیم کے سلسلے کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھا۔ ایسے نوجوانوں کیلئے علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایاہے۔
’’یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل ؑ کوآدابِ فرزندی‘‘
والدہ کے زیر سایہ پروان چڑھتے ہوئے کبھی اپنی راستے سے بھٹکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا، کیونکہ تربیت اتنی پختہ تھی، جو ہر وقت ساتھ رہی، اور قدم قدم پر رہنمائی کرتے رہی، زندگی میں معاشی حالات سے لڑنا بھی ایک اہم فریضہ تھا، جو کہ فیضی نے اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ دوسرے طلباء کو ٹیویشن پڑھاکر بڑی جانفشانی سے انجام دیا ،اور اپنی تعلیم کو ہر حالت میں جاری رکھا۔ آج وْہ پنجاب یونیورسٹی سے میڈیکل اینٹمالوجی(Medical Entomology) میں ایم ایس آنر کر رہے ہیں اور علم کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اپنی پڑھائی کے ساتھ فیضی لائف کوچنگ، موٹیویشن اور سیلف ہیلپ کے بھی بہت سے کورسسز اور سمینار میں حصہ لیتے رہتے ہیں، وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ ایک اچھے سپیکر بھی ہیں، اور بہت سے تعلیمی اداروں میں موٹیویشنل سپیکر کے طور پر بھی اپنی صلا حیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔ فیضی کا اصل کارنامہ چھوٹی سی عمر میں کامیا بی کے مو ضو ع پر’’ چْھو لو آسمان‘‘ کے نام سے ایک کتاب تحریر کرنا ہے۔ جو کہ جو لائی 2018 ؁ میں چھپ کر مارکیٹ میں آ چکی ہے۔یہ اپنی نوعیت کی نہایت عمدہ کتاب ہے، جو کہ نہ صرف نو جوانوں کیلئے مشعل راہ ہے بلکہ اسمیں تمام شعبہ زندگی کے لوگوں کیلئے بہترین رہنمائی دی گئی ہے۔ یہ معمولی کتاب نہیں، یہ اپنے اسلوب کی وجہ سے بہت ہی خاص کتاب ہے، کیو نکہ اسمیں زیادہ تر قرآن پاک کی آیات اور ان کا ترجمہ شامل کیا گیا ہے،اور مختلف جگہ پرجوواقعات اس کتاب کا حصہ ہیں وْہ ہمارے روزمرہ زندگی سے ہیں، جن کو سمجھنا نہایت ہی آسان ہے ، اور مختلف جگہ پر شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال کی شاعری کا بھی بہت اچھا استعمال کیا گیا ہے۔ اس مختصر اور جامع کتاب میں اکتالیس ابواب ہیں،ا ور ہر باب اپنی نو عیت کے لحاظ سے مختلف ہے۔ اس کتاب میں زیادہ تر زور نوجوانوں کی اصلا ح ہے، کہ وہ کیسے اپنے حوصلے اور یقین کو بلند رکھتے ہوئے بہترین کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔
’’یقین کی پختگی ‘‘ کے باب میں فیضی نے اسلامی تاریخ سے مختلف واقعات کو شامل کیا ہے، کہ آپ کیسے اپنے یقین کوپختہ کر سکتے ہیں، اوراگر یقین کامل ہو تودنیامیں کوئی بھی کامیابی حاصل کرناممکن ہے، اور ساتھ ہی نوجوانوں کو’’بلندیوں کی سمت چل‘‘باب میں نہایت خوبصورتی اور سادگی سے سمجھایاہے، کہ بلندیوں کا سفر مشکل ضرور ہو تا ہے مگر ناممکن نہیں ، کیو نکہ بلندی اْسے ملتی ہے، جو یقین اور لگن کیساتھ اپنے کام میں لگ جاتا ہے، علم کو تمام مکاتب فکر کے ہاں اولین اہمیت حاصل ہے، اور اس کتاب میں بھی علم کو ہی اس کائنات میں ترقی کا زینہ قرار دیا گیا ہے۔ ’’ناکامی کی وجوہات‘‘ کے باب میں سادہ تاجرکی مثال سے سمجھایا گیا ہے، کہ کیسے ایک تاجرنے اپنی ناکامی کی وجہ کو جانا، کہ ہم کیسے آرام پسند ہو کردوسروں پر بوجھ بن جاتے ہیں اور ہمارا دوسروں پر انحصار بڑھ جاتا ہے، جو کہ ہمار ی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہے، ہم اپنی ناکامی کے خودذمہ دار ہیں۔ اگر ہم اپنے معاملات خود اپنے ہاتھ میں لے لیں، اور اپنے کام اپنے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کی طرح خود اپنے ہاتھ سے کریں تو ہمیں کبھی ناکامی کا منہ نہ دیکھنا پڑے، جو شخص ناکا م ہوئے بغیر کامیاب ہو گیا اسکی کامیا بی کبھی دیر پا نہ ہو گی۔
’’احساس ذمہ داری‘‘ کے باب میں ذمہ داری کامیاب انسان کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے، یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان ذمہ دار نہ ہو اور وہ کامیاب ہو جائے۔ ’’دو پَر ‘‘ کے باب میں اْمید اور محنت کو انسان کے دو پَر قراردئیے ،اور یہ حقیت ہے کہ انسان جب تک اْمید اورمحنت کے ساتھ کام کرتا ہے، تو کامیابی ضرور ایک دن اْسکے قدم چومتی ہے۔’’ہم نے بھلا دیا‘‘ باب میں بہت خوبصورتی کے ساتھ سمجھایاکہ وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کرتیں جو اپنے ہیروز کو یاد نہیں رکھتی، ہم نے اپنے نوجوانوں کو ضروری تعلیم کے ساتھ اپنے ہیروزکے کارناموں کویاد رکھنا ہے، اس میں اقبالؒ کوعلم وحکمت کا سمندر قرار دیا۔
فیضی نے کتاب میں والدین کیلئے بھی اہم پیغام دیا کہ وہ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں تا کہ ہمیں ایک اچھی قوم مل سکے، کیونکہ کسی بچے کی پہلی درسگاہ والدین ہی ہوتے ہیں، اور اساتذہ کو بھی عمدہ مشورے دیئے کہ وہ آج کے دور میں کیسے بہترین اْستاد بن سکتے ہیں۔نوجوانوں پَر بھی زور دیا، کہ وہ اپنی نصابی کتابوں کے علاوہ دور حاضر کے جدید علوم سے بھی استفادہ حاصل کریں، اورآگے بڑھنے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال بہترین انداز میں کریں۔’’ سکوپ ‘‘ کے باب میں بخوبی سمجھایا کہ سکوپ شعبہ میں نہیں ہوتا،انسان اگر اپنے جذبہ وجنون سے کام لے تو ہرشعبہ اسکے لئے بہترین ہوتا ہے۔ فیضی نے اپنے ایک استاد کا فقرہ’’گمنام نہ مرنا‘‘ شامل کیا، یعنی مرنے سے پہلے کچھ کر جانا، اور یہ اسوقت ہی ممکن ہے، جب سمت کا تعین ہو اور کچھوے کی طرح پہنچے کا یقین ،اور اپنے نفس کوسب سے بڑا جہاد قرار دیا
’’چھو لوآسمان‘‘ایک نہایت عمدہ کتاب ہے، جو آسان ترین الفاظ میں لکھی گئی ہے، جسے ہر پڑھنے والا شخص آسانی سے پڑھ اور سمجھ سکتا ہے۔ میں یہ دل سے سمجھتا ہوں کہ فیضی نے اس چھوٹی سی عمرمیں کمال کر دیا ہے۔جب طلباء اپنے کیریئر کا فیصلہ نہیں کر پا رہے ہوتے اور کھیل کود میں وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں اس عمر میں کامیابی کے موضو ع پَر لکھنا عام با ت نہیں۔
میر ی جب بھی فیضی سے ملاقات ہوئی میں نے ہمیشہ ایک مسکراہٹ اس کے چہرے پر دیکھی اور مثبت بات کرتے دیکھا، اور یہی فیضی کی شخصیت کا خاصہ ہے، وْہ اپنے تمام اساتذہ کا نام جس ادب سے لیتے ہیں وہ میں نے بہت کم لوگوں میں دیکھا ہے۔اگر آپ بھی زندگی میں کامیاب ہوتے ہوئے آگے بڑھنا چا ہتے ہیں تو فیضی کی طرح مسکراہٹ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں، ہمیشہ مثبت رویہ اختیار کر یں، ہمیشہ اپنے بڑوں اور اساتذہ کاادب کریں۔ میں آپکوگارنٹی دیتا ہوں کہ دنیا کی کو ئی طاقت آپکو آگے بڑھنے اور کامیاب ہونے سے نہیں روک سکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں