1,658

‘میرے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے’ کیا یہ کہنا آسان ہے؟

‘میرے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے’ کیا یہ کہنا آسان ہے؟
نصرت جہاں بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

6 گھنٹے پہلے

اس پوسٹ کو شیئر کریں فیس بک
اس پوسٹ کو شیئر کریں Messenger
اس پوسٹ کو شیئر کریں ٹوئٹر
اس پوسٹ کو شیئر کریں ای میل
شیئر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

بالی وڈ اداکارہ تنو شری دتہ کی کہانی اس وقت ہر ایک کی زبان پر ہے کوئی تنو شری دتہ کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے تو کوئی انھیں کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش میں ہے۔

تنو شری کا کہنا ہے کہ سنہ 2008 میں فلم ‘ہارن اوکے پلیز’ کی شوٹنگ کے دوران فلم اداکار نانا پاٹیکر نے انھیں جنسی طور پر حراساں کیا تھا اور انھوں نے اس وقت اس کی شکایت بھی کی تھی۔

ظاہر ہے نانا پاٹیکر نے اس الزام سے انکار کیا ہے اور تنو شری کو قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔

سابق مس انڈیا تنو شری کا کہنا ہے کہ دس سال پہلے جب انھیں انصاف نہیں مِلا تو وہ مایوس ہو کر ملک سے باہر چلی گئی تھیں اب ہیش ٹیگ ‘می ٹو’ کے تحت انھوں نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے جب اس قصے کو دہرایا تو انڈسٹری میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیے

’جنسی زیادتی کی ذمہ دار خود عورتیں ہی ہیں‘

’اب وقت آگیا ہے کہ انڈیا بھی کہے: می ٹو‘

لوگوں نے سوال کیا کہ تنو شری دس سال بعد اس قصے کو کیوں کرید رہی ہیں۔ یہاں سوال یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ کہ کیا وقت گزرنے کے ساتھ کسی بھی جرم کی نوعیت یا اس کی سنگینی بدل جاتی ہے۔’میرے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے’ کیا یہ کہنا آسان ہے؟
تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption تنوشری کی یہ تصویر سنہ 2012 میں لی گئی تھی

سب کے سامنے یہ اعتراف کرنا ہی اپنے آپ میں ایک جرات مند قدم ہے اور اس طرح کی جرات کرنے والوں کو ٹرول کرنا یا اس کے خلاف خاموش رہنا بزدلی نہیں کم ظرفی ہے۔

’اس تمام معاملے میں انڈسٹری کے بڑے پردے کے سٹارز کا رویہ شرمناک رہا جو فلم میں ایک عورت کو تحفط دینے کے لیے اپنی جان کی بازی تو لگا سکتے ہیں لیکن اصل زندگی میں کسی عورت کی عزت اور اس کے وجود پر اٹھنے والے سوالوں کا جواب انتہائی بے حسی سے ٹال دیتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

انڈیا خواتین کے لیے ’سب سے خطرناک‘ ملک

’ماں نے جس شخص کے ساتھ تنہا بھیجا تھا اسی نے ریپ کیا‘

اپنی ہر فلم میں ہیروئن کے دامن کو چھونے والے ولن کو دھول چٹانے والے امیتابھ بچن سے جب تنو شری کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ نہ تو میرا نام تنو شری ہے اور نہ ہی نانا پاٹیکر تو پھر آپ مجھ سے یہ سوال کیوں پوچھ رہے ہیں؟

جبکہ عورتوں کو بااختیار بنانے والی فلم ‘دنگل’ اور ‘سیکریٹ سپر سٹار’ جیسی فلمیں بنانے والے اور ‘ستیہ میو جۓ تے’ جیسے ٹی وی شو میں عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی کہانیوں پر پھوٹ پھوٹ کر رونے والے عامر خان نے اسی پریس کانفرنس میں تنو شری کے بارے میں سوال کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ‘بھائی میری فلم ریلیز ہونے والی ہے مجھ سے ابھی کچھ نہ پوچھو۔’

’ہمارا معاشرہ روز بروز بیمار ہوتا جا رہا ہے‘

خدا کا شکر ہے ایشوریہ بچ گئیں

تو کیا بالی وڈ کے یہ ہیرو کاغذی ہیں؟ ہیش ٹیگ ‘می ٹو’ جیسی تحریک نے کتنے ہی چہروں کو بے نقاب کیا ہو لیکن صورتِ حال بدلنے کے لیے عورتوں کے خلاف ہر جگہ ہونے والے جرائم پر معاشرے کی بے حسی اور عورتوں کو کم تر سمجھنے کا نظریہ تبدیل کرنا ضروری ہے۔ اب چاہے وہ شو بز میں ہوں، کسی دفتر میں یا پھرگھر میں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں