1,343

اینکر پرسنز – صحافت کی موت

تحریر: کامران خان شعور نیوز

آج سے دس سال پہلے صحافت کی دنیا میں اینکر پرسنز سے متاثر ہوکر آئے تو یوں لگا بس یہ اگلے موڑ پر منزل کھڑی ہے جمعیت سے محبتیں کچھ ایسی بڑھیں کہ عمران خان کے واقعے کے بعد ہوش سنبھالا اور پھر آئی ایس ایف میں پناہ ملی لیکن صرف ایک سال بعد اختلافات یوں بڑھے کہ آج تک مڑ کر نہیں دیکھا اور صحافت میں سفر رکتا چلتا آگے بڑھتا رہا لیکن اینکر بننے کی خواہش دل میں موجود رہی لیکن آج یوں محسوس ہو رہا ہے کہ یہ طبقہ تو ساری صحافت کو ہی کھا گیا ہے آج عمران خان کی حکومت کی جانب سے اشتہارات نہ ملنے کی وجہ سے صحافتی ملازمین کو تنخواہیں نہیں مل رہیں اور چینلز مالکان رپورٹرز اور چھوٹے ملازمین کو فارغ کرنے کے درپے ہوگئے ہیں، حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ لاہور سمیت ملک بھرمیں بے شمار ملازمین کونکال دیا گیا ہے، لیکن ایک طبقہ محفوظ ہے اور اپنے لب خاموش کئیے ہوئے ہے اور وہ ہیں اینکر پرسنز، کیا جیو کیا اے آر وائے کیا 7 نیوز کیا دنیا ٹی وی سب جگہ ایک ہی آواز ہے ایک ہی راگ ہے نو جابز نو سیلری، کوئی کمائی نہیں کوئی تنخواہ نہیں، کیا اخبارات کیا ٹی وی چینلز ہر جگہ ایک ہی آواز ہے ہمارے پاس کوئی کمائی نہیں اس لئیے تنخواہیں نہیں دی جاسکتیں، کیا یہ ہے نیا میڈیا چینل پر چینل آرہے ہیں اخبار در اخبار چھپ رہے ہیں لیکن کیا کہا جائے کیا کیا جائے جب رپورٹرز کو تنخواہ نہیں ملے گی تو وہ کیا پروفیشنلزم کرے گا وہ کیا فرائض ادا کرے گا وہ کس طرح اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گا، سوال یہ ہے کہ آخریہ وقت کیوں آیا آخر کیوں اینکرپرسنز ہی کو مراعات یافتہ بنا دیا گیا ہے اور باقی سب کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے آج چینلز اینکر پرسنز کو بھاری تنخواہیں دے کرحکومتی سطح پر اپنے معاملات درست کر رہے ہیں لیکن رپورٹرز کو انتہائی مشکل حالات میں چھوڑ دیا گیا ہے، کیوں وجہ صاف ہے میں کوئی عام دلیل نہیں دوں گا مجھے پی ایچ ڈی سکالر بنے ایک سال ہوچکا شعور نیوز بنائے تین سال ہو چکے لیکن آج تک پریس کلب کے کسی مہربان نے مجھے لاہور پریس کلب کا حصہ بنانے کا تکلف نہیں کیا ہم منگتے نہیں ہیں اپنے پاس رکھیں اپنا پریس کلب اگر آپ لوگ صحافیوں کی نیئ نسل کو جگہ نہیں دے سکتے اگرآپ اپنے صحافی بھائیوں کی نوکریوں کی حفاظت نہیں کرسکتے تو آپ کو مستعفی ہوجانا چاہیے کیا پتہ اس بحران کا براہ راست ذمہ دار کون ہے لیکن میرا ماننا ہے کہ جو طبقہ اپنی نئی نسل کی حفاظت نہ کرے اسے موقع نہ دے اس کا انجام یہی ہوتا ہے جو ہمارے رپورٹرز طبقے کا ہورہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں