192

زندگی میں روشنی بنو از ممتازحسین ڈھکو

زندگی میں روشنی بنو۔۔
میں نے پو چھا چچا جی آپ پھیری کشمیر تک لے کر جاتے ہیں تو وہ ادھیڑ عمر شخص ہلکا سا مسکرا کر بولا ! نہیں کیا مطلب آپ کی بات کا ؟ میں کہا چچا جی چھوٹی سی آپ کی پھیری ہے اور آپ دو اڑھائی لیٹر والی بوتلیں پٹرول کی بھر کے پھر رہے ہیں ، آپ کی موٹر سائیکل بہت زیادہ پٹرول استعمال کرتی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا نہیں بیٹا میری موٹر سائیکل بھی کم پٹرول استعمال کرتی ہے اور میں دور دراز پھیری لگانے بھی نہیں جاتا ۔میں پوچھا پھر پٹرول کا کیا کرتے ہو بیچتے ہو تو اس نے جواب دیا نہیں یہ پٹرول میں اس نیت سے رکھتا ہوں کے کو ئی مسافر جس کو پٹرول کی ضرورت اور نزدیک سے پٹرول ملنے کی امید نہ ہوتو میں اس کو منزل مقصود تک کا پٹرول مہیا کر دوں، میں اس کی مدد کر سکوں، کسی کو مصیبت سے بچا سکوں۔ یہ بات سن کر مجھ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹتے گئے یقین کریں وہ ادھیڑ عمر شخص مجھے بہت امیر دکھائی دیا حالانکہ جب میں نے اس سے پوچھا کہ کتنا کماتے ہو ایک دن میں تو وہ کہتا کوئی دو تین سو بچ جاتا ہے اور میری کمائی اس سے کوئی دس گنا زیادہ تھی، اس کا سوٹ بالکل سلوٹوں سے پرانا ترین معلوم ہو رہا تھا چہرے پر گرد جمی ہو ئی تھی ہاتھ مٹی کے رنگ کے ہوئے پڑے تھے اور ادھر میرا اچھا سوٹ پہنا ہو اتھا ہاتھ صاف تھے لیکن میں اس کے پاس احساس کمتری محسوس کر رہا تھا ۔ دو تین سو کمانے والا شخص کتنا روشن خیال انسان ہے میں یہ دیکھ کے حیران ہوگیا کہ وہ اتنے بڑے دل کا مالک ہے کہ دو تین سو کمانے والا دو تین سو کا سامان مدد لئے پھرتا ہے ۔ کتنا روشن انسان پے جس کی روشنی کے سامنے میرے علم رتبے سب کچھ کی روشنی ماند پڑ گئی۔ ایڈورڈ لورنس نے کہا تھا کہ دنیا کے کسی کونے میں کوئی ایک تتلی اپنی اڑان بھرنے کے لئے ایک پنکھ ہلائے تو دنیا کے کسی دوسرے حصے میں طوفان آسکتا ہے۔ یہ ایک سائنسی تحقیق ہے جسے بٹر فلائی ایفیکٹ کہتے ہیں ۔یہ تھیوری کہتی ہے کہ کیسے ایک چھوٹا سا اٹھا یا ایک قدم دنیا میں کس قدر تبدیلی کا عمل بن جاتا ہے ۔ اس پر بے شمار لوگوں نے عم کیا اور کئی ایسے کام ہو گئے جس کو دنیا مان بھی نہیں سکتی کہ ایک انسان بھی پوری دنیا کو بدل سکتا ہے کہ نہیں۔کیسے ایک چھوٹا سا کام پوری انسانیت کے کام آسکتا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے پڑھ اور سن رکھا ہے کہ ہر عمل کا ایک رد عمل ہوتا ہے اسی طرح ہر کام کا ایک نتیجہ ہوتا ہے اور وہ کام آگے بڑھتا جاتا ہے کم نہیں ہوتا ۔ہر کام ایک قیمت اور اثر رکھتا ہے۔کوئی بھی کام کرنا ہے اس کی ابتداء ضروری ہے ۔ ہم ساری زندگی یہ سوچ کے گزار دیتے ہیں کہ بڑے آدمی بنیں گے تو کوئی بھلائی کا کام کر سکیں گے ۔ ہم یہی سوچتے ہوئے عمر گزار دیتے ہیں کہ وزیراعظم بن کے ڈیم بنوائیں گے حالانکہ ہم جتنا پانی ضائع کرتے ہیں اپنے اپنے حصے کا بچا لیں تو ڈیم کی ضرورت ہی نہیں رہتی ، ہم کہتے ہیں کہ وزیر پانی و بجلی بن کے لوڈ شیڈنگ ختم کر سکتے ہیں حالانکہ ہم جتنی بجلی صرف کرتے ہیں اس کو بچا کے لوڈشیڈنگ پر قابو پا سکتے ہیں۔ضرورت تو شروع کرنے کی ہے ۔ ہم ساری زندگی یہ سوچتے رہتے ہیں کہ پیسے جمع کر کے حج کریں گے ہم یہ نہیں کرتے کہ ماں کا چہرہ پیار سے دیکھ لیں اللہ پاک حج اکبر کا ثواب ہمارے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ ہم مسجدیں بنانے کے لئے چندہ جمع کرتے رہتے ہیں کبھی اس بات پر خیال نہیں کیا کہ ایک بھوکے کو کھانا کھلانا ہزار مسجدیں تعمیر کرنے سے بہتر ہے ۔ ہم یہ نہیں سوچتے کتنی بچیاں غربت کی وجہ سے جسم فروشی کر رہی ہیں اور ہم سمجھتے ہیں ہماری عزتیں محفوظ نہیں ہیں، ہمیں یہ خیال نہیں آتا کہ یہ قرض ہمارے معاشرے کا ہے اور معاشرے نے ہی اتارنا ہے۔ ہم سوچتے ہیں بڑے انسان بننے کے لئے بڑے بڑے کام کرنا پڑتے ہیں کبھی بھی نہیں سوچا کہ کلومیڑشروع ملی میٹر سے ہوتا ہے۔ہر انسان کسی نا کسی کی زندگی کا ذمہ دار ہے اس کی زندگی کسی نہ کسی سے متاثر ہے۔آپ کا کوئی ایک چھوٹا سا کام کسی کی زندگی کا بہت بڑا کام ہو سکتا ہے۔ہر انسان کے اندر ایک روشنی ہے جس کے بارے علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا قاری نظر آتا ہے ، حقیقت میں ہے قرآں۔۔
ایڈیسن جب بلب بنا رہا ہوگا اس نے یہ تو نہیں سوچا ہوگا کہ اس سے پوری دنیا کو روشنی ملے گی اصل میں یہ اس کے اندر کی روشنی تھی جس نے جگ چمکا دیا۔اس طرح کی روشنی بنو کہ جب کبھی کہیں روشنی کا ذکر ہو تو آپ کو بھی یاد کیا جائے جیسے علامہ اقبال کو شاعر مشرق، محمد علی جناح کو قائد اعظم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اصل میں انہوں نے اپنے آپ کو روشن کیا تو ان کی روشنی نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ محمد اقبال اگر خواب نہ دیکھتے تو شاید اس ملک کا تصور بھی پیش نہ ہو پاتا اور اگر محمد علی جناح اس خواب کی تعبیر نہ کرتے تو آج ہم اس آزاد فضا میں سانس نہ لے رہے ہوتے ۔ یہ ملک ایک خواب سے بننے کے مرحلے کو اگر دیکھو تو خواب زیادہ اہم نظر آتا ہے اور خواب ملک بننے کی نوید بھی سنا سکتے ہیں ۔ ہمارے اردگرد بے شمار لوگ موجود ہیں جن کو ہماری ضرورت ہے ۔ ہمارے وقت کی ، عزت کی، پیار کی مدد کی اور جذبے کی ضرورت ہے ۔ ہمارے اردگرد بے شمار لوگ موجود ہیں جن کی زندگی میں ہم اجالا کر سکتے ہیں جن کے راستے کی روشنی ہیں ہم۔لوگوں کو ہماری لیڈر شپ کی ضرورت ہے ۔چھوٹے چھوٹے فیصلوں نے دنیا کی تاریخ بدلی ہے جس کی مثال ورلڈ وار ون بھی ہے جو ایک غلط ٹرن کا نتیجہ تھی۔تاریخ بتاتی ہے کہ اٹھائیس جون انیس صد چودہ کی ایک صبح اسلیو کا ہونے والا راجہ اپنی بیوی کے ساتھ جارہا تھا تو ان پر بمب سے حملہ ہو گیا جس میں وہ بچ گئے لیکن ان کے پیچھے والی گاڑی تباہ ہو گئی جس میں جوان زخمی ہو گئے ۔ راجہ فرانس فرینڈڈ ان زخمیوں کی عیادت کے لئے اسی دوپہر ہسپتا ل جا رہا تھا تو اس کے ڈرائیور نے ایک غلط روڈ پر ٹرن لے لیا جس پر ان کی ملاقات ایک نوجوان جس کا نام گیبیلو تھا جو سربیا کا رہنے والا تھا سے ہوئی وہ بھی اس حملہ میں شامل تھا اس نے انہیں اپنے سامنے پا کر فائرنگ کر دی جس میں راجہ فرانس فرینڈڈ اور اس کی بیوی مارے گئے اسی بنا پر اوسلیو نے سربیا پر جنگ مسلط کر دی، یعنی حقیقت میں وہ ایک رونگ ٹرن تھی جس نے جنگ کا آغاز کر دیا۔یہ اگر آپ اپنی زندگی میں کسی ایک اچھی ٹرن کا آغاز کر جائیں گے تو آنے والے دنوں میں اس کے اثرات اور ثمرات ہر جگہ پہنچیں گے۔لیکن آج ہم اس روش سے بہت دور ہیں جس کی بنیاد پر انسان کو انسان کہا جاتا ہے ۔ ہم لوگو روشنی بننے کے بجائے لوگوں کی روشنیاں گل کرتے پھرتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کی کمزوری ہماری کامیابی ہو سکتی ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری ذہانت ہمیں اعلیٰ مقام دے رہی ہے ۔ ہم اپنی وجہ سے کامیاب ہیں ۔ یہ کامیابی وقتی ہو سکتی ہے لیکن میرے استاد محترم قاسم علی شاہ صاحب فرماتے ہیں اگر آسانیاں چاہتے ہیں تو آسانیاں بانٹیں ۔لوگوں کی زندگیوں میں رنگ بھریں آپ کی زندگی رنگین ہو جائے گی۔
آپ سوچیں آپ ہر جگہ فرق پیدا کر سکتے ہیں ۔ اگر آپ استاد ہیں، شاگرد ہیں، بینکر ہیں، پڑوسی ہیں، بھائی ہیں، باپ ہیں، ماں ہیں، خاوند ہیں ، بیوی ہیں حتیٰ کہ کوئی بھی آپ کی ڈیوٹی ہے آپ کے اردگرد لوگ آپ کے منتظر ہیں جن کی زندگی میں آپ بہت بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں ،آپ بھی ان لوگوں کے مسیحا ہیں۔ہرجگہ آپ کے کام کی ضرورت ہے ہر جگہ آپ کی حیثیت کے مطابق محرومیاں ہیں ۔ کم از کم اپنا پنکھ ضرور ہلائیں کسی کو تعلیم دے سکتے ہیں دیں ، ہنر دے سکتے دیں، روٹی دے سکتے ہیں دیں، پیار دے سکتے ہیں دیں۔ستاروں پے کمندیں نہ ڈالیں ذرا اپنے قدموں میں تو دیکھیں کئی ستارے رل رہے ہیں جن کے آپ چاند ہیں ۔ایک بچے کو سکول کی یونیفارم دینے سے کیا خبر وہ بچہ آنے والے دنوں کا عالم ہو ، قاضی ہو، جرنیل ہوجس سے معاشرہ مستفید ہو سکتا ہے۔جس کسی کو آپ مدد کررہے ہیں اسے کہ دیں کے وہ اپنی حیثیت کے مطابق کسی اپنے سے کم تر کی مدد کر دے تو انشاء اللہ ایک خوبصورت ماحول بن جائے گا۔ایک وقت آئے گا جیسے حضور ﷺ نے فرمایا مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں ، جیسے حضور ﷺ نے فرمایا اقلیتیں میری ذمہ داری ہیں اسی فرمان کے مطابق معاشرہ امن کا گہوارا بن جائے ۔ کیوں کہ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔۔
رکھتے ہیں جو اوروں کے لئے پیار کا جذبہ
وہ لوگ کبھی ٹوٹ کر بکھرا نہیں کرتے
ہم بہت بڑی ایجادات نہیں کر سکتے ، ہم بہت بڑے ممالک فتح نہیں کر سکتے، ہم پوری دنیا کو آسانی نہیں دے سکتے، ہم ملکوں کو ، معاشرے کو، تبدیل نہیں کر سکتے اپنی ذات میں ایک تبدیلی لا سکتے ہیں جس سے ایک گھر، ایک گھر سے پورا معاشرہ اور معاشرے سے ملک اور ملک سے پوری دنیا بدل سکتے ہیں۔ہم اگر پڑھے لکھے ہیں تو لوگوں کو فائدہ دیں ، ہم اگر دکاندار ہیں تو پورا تولیں، ہم اگر استاد ہیں تو بچوں کو پڑھا دیں ، ہم اگر امام مسجد ہیں تو اسلام کا صحیح تشخص اجاگر کر دیں، اگر آپ میاں ہیں تو بیوی کی عزت کر دیں ، اگر آپ بھائی ہیں تو بھائی پر زمین کا کیس نہ کریں، اگر آپ جج ہیں تو فیصلہ پیار سے کر دیں ، اگر آپ پولیس مین ہیں تو انسانیت کی خدمت کر دیں بس آپ کی ڈیوٹی پوری ہو گئی ہے ۔ بے شمار لو گ ابھی بھی معاشرے میں موجود ہیں جو اپنی ذات سے نکل کر خدمت کررہے ہیں جن کو ہم مثال بنا کر زندگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں ، کیونکہ یہ فارمولا ریسی پروکل کے طور پر کام کرتا ہے ۔، آپ کسی کی زندگی آسان بنائیں گے قدرت آپ کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرے گی، آپ کسی کا ہاتھ پکڑیں گے قدرت آپ کا ہاتھ پکڑے گی اور بلندیوں پر لے جائی گی۔آپ کسی کا چولہا جلائیں گے قدرت آپ کے گھر میں برکتیں ڈال دے گی اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا سب کچھ کرنا اپنے لئے ہی ہے ۔ کیوں کہ بڑا کام کرنے کے چکر میں سب کچھ ضائع کر رہے ہیں ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے تو پھیری والے سے اتنا تو سیکھ سکتے ہیں جس نے بٹرفلائی ایفیکٹ تو نہیں پڑھا سنا ہوگا لیکن وہ یہ سمجھتا اور جانتا مانتا ہے کہ
شکوہ ظلمت شب سے کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
نبی ﷺ کی ذات اور آپ کی آل پر بے حد درود۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے حامی و ناصر ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں