146

اکیسویں صدی میں ہمارا نظامِ تعلیم از ممتاز حسین ڈھکو

اکیسویں صدی میں ہمارا نظامِ تعلیم از ممتاز حسین ڈھکو
دورِ طالبِ علمی میں حویلی لکھا شہر ایک تعلیمی ادارے کی وجہ سے بے پناہ شہرت کا حامل شہر تھا۔شہرت کی وجہ قابل ترین اساتذہ تھے۔ان میں سے ایک استاد جناب محترم الیاس خان صاحب تھے۔جن کی وجہ شہرت ان کی منفرد شخصیت تھی اس لئے سبھی والدین کی خواہش ہوتی تھی کہ ہمارا بچہ چھٹی کلاس میں الیاس خان صاحب کی جماعت کا طالب علم ہو، رش زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کو ٹیسٹ لینا پڑتا تھا۔میں نے جب پانچویں جماعت پاس کی تو میں بھی خان صاحب کا طالب علم بنا۔خان صاحب کی شہرت کی وجہ سے علاقہ کی کریم سٹوڈنٹس ، یعنی ذہین ترین طالب علم اس جماعت میں بیٹھتے تھے اور یہ سلسلہ میٹرک تک جاری رہتا تھا کہ دوسرے اسکولوں کے بچے اس قافلے میں شامل ہوتے رہتے تھے۔جب سالانہ امتحان میٹرک کا رزلٹ آیا تو اس ذہین ترین جماعت کے طالب علم نے حویلی لکھا کے سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے۔اس کے بعد دوسرے نمبر پر بھی ہماری کلاس کا لڑکا تھا ۔وہ دونوں لڑکے ایم بی بی ایس(MBBS) کی خواہش لیے سول لائینز لاہور پری میڈیکل کرنے پہنچ گئے ۔ایف ایس سی کرنے کے بعد ایم بی بی ایس (MBBS)تک نہ پہنچ سکے تو اتفاقیہ طور پر یونیورسٹی آف ایگری کلچر فیصل آباد میں داخلہ لے لیا۔وہاں سے ایک نے ایگرانومی اور دوسرے نے سوئیل سائینسز میں اپنی ڈگری مکمل کی۔اب ان میں سے ایگرانومی والا آن لائن کام کر کے پیسے کماتا ہے اور ساتھ موبائل شاپ بنا رکھی ہے اور دوسرا فارائنزک لیب میں جونئیر سائنسدان کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اور میں ایگری ایکسٹینشن کی ڈگری حاصل کر کے الف ب بٹاریاں پڑھاتا ہوں۔ہم تینوں جو کام کررہے ہیں نہ ان میں ہمارا کوئی تجربہ ہے نہ بیک گراؤنڈہے۔ہم صرف بے روزگاری سے بچنے کے لئے ان فیلڈز میں گھس چکے ہیں۔میرے دوستو!اسے عطائیت کہتے ہیں۔مجھے ایمان سے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں سولہ(16)سالہ تعلیمی کرئیر نے ہمیں اور ہمارے والدین کو کیا تحفہ دیا کہ ہم آج بھی یہ فیصلہ کرنے کے لئے لیکچرز لیتے پھرتے ہیں کہ ہمیں اصل میں کرنا کیا ہے۔اس سے بڑا ظلم اور معاشی قتل اور کیا ہوگااور الحمداللہ یہ صرف ہماری تینوں کی کہانی نہیں ہے یہ پاکستان کے دس کروڑ نوجوانوں کی کہانی ہے جس کو سنانے کے لئے میرے ہم وطن روزانہ یہ گاتے ہیں
کنوں حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہیں مل دا
میں گذشتہ چند سالوں سے درس وتدریس کے شعبہ سے وابستہ ہوں، آپ یقین کر لیں کہ دنیا تعلیمی میدان میں کہیں آگے پہنچ چکی ہے اور ہمارے بچے آج بھی ا ۔انار ، ب۔بکری پڑھ رہے ہیں۔جس سے فقط نہ تجربہ کار نوجوانوں کی فوج تیا ہورہی ہے اور الحمداللہ ہم ان سے جہاز بنانے کی بھی توقع رکھتے ہیں۔ہم اکیسویں صدی میں بھی1961میں کی گئی ریسرچ پڑھتے ہیں اور اس میں سے پیپرز بھی لیتے ہیں آپ کو یقین نہ آئے تو زرعی یونیورسٹی سے ایک کورس انرول کروا کے تجربہ کر لیں۔ہم میں دراصل دلی دور است والا کا لہو دوڑتا ہے ہم آج تک اس بات کو ادراک کرنے کو تیار نہیں کہ ہم اکیسویں صدی میں زندہ ہیں۔ہم اکیسویں صدی میں بھی فیس بک پر پوسٹ کرتے ہیں کہ ایک وقت آئے گا313 کا لشکر کفار پر چڑھ دوڑے گا ۔ہم یہ پڑھنے کو تیار ہی نہیں کہ وہ 313کیسے انسان تھے۔ہم بے شمار کاوشوں کوششوں کے باوجود اپنی شرح خواندگی نہیں بڑھا سکے۔ہم سمجھتے ہیں اساتذہ کو یوپی ای (UPE)کی ڈیوٹی دے دو سبھی کو سکول بلوا لو قوم پڑھ جائے گی۔ہم آج تک اپنے نظام تعلیم میں موٹیویشن نہیں پیدا کر سکے۔ایسے شرح خواندگی نہیں شرح شرمندگی بڑھا کرتی ہے۔عزیز دوستو! ہر دور کے اپنے اپنے تقاضے ہوتے ہیں ہر دور میں مختلف قسم کی مہارتیں درکار ہوتیں ہیں اور ہر دور کااپنا ایک وژن ہوتا ہے اور اس دور میں موجود لوگوں کو اس وژن پر عمل کرنا پڑتا ہے نہیں تو تاریخ میں ناکام لوگوں کی لسٹ میں لگنا پڑتا ہے۔جس دور میں ہم موجود ہیں یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ یہ روئے زمین پر سب سے مشکل اور سب سے آسان دور گردانا جارہا ہے۔یہ ا نفارمیشن اور ترقی کے لحاظ سے سب سے الگ تھلگ دور ہے۔اس لئے اس دور کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں اس دور سے ہم آہنگ ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا زندگی کے لئے آکسیجن ۔آج کے دور کے تقاضوں کو پورا کئے بغیر کسی دوسرے سے مقابلہ کرنا تو درکنار اپنا دفاع بھی داؤ پر لگ سکتا ہے۔اور جب بھی ہم یہ بات کرتے ہیں کچھ لوگ اپنی سمجھ کے مطابق اس بات کو مذہب سے الگ تصور کر کے اس کی مخالفت کر دیتے ہیں۔جب کہ مذہب کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جنگ بدر کے قیدیوں کو یہ اس لئے کہا گیا تھا کہ ہمارے بچے پڑھا دو تاکہ ہم ان کی زبان سیکھ لیں اور ان سے مقابلہ کر سکیں۔اس لئے ہمارا مذہب کہتا ہے کہ موجودہ زمانہ سے ہم آہنگ ہونا بے حد لازمی بات ہے۔تو آج کے زمانے سے ہم آہنگ ہونے کے لئے اس کے مطلوبہ ہتھیار ہمارے پاس ہونا لازمی بات ہے۔آج کے سائنسدان ان ہتھیاروں کو تین گروپس میں بیان کرتے ہیں۔
۱۔ سیکھنے کی مہارتیں (Learning Skills)
۲۔پڑھنے کی مہارتیں (Literacy Skills)
۳۔زندگی کی مہارتیں(Life Skills)
سیکھنے کی مہارت کی اگر بات کریں تو یہ بہت اہم مہارت ہے کیوں کہ اس میں دماغ میں وہ تبدیلی پیدا کی جاتی ہے،جس میں کام کرنے کے ماحول کو اپنانے اور مطابقت رکھنے کی صلاحیت پیدا ہو۔کیوں کہ جب تک ہم اپنے کام کے ماحول سے مطابقت پیدا نہیں کریں گے تب تک ہم نہ تو کامیاب ہو سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔یہ مہارت کسی بھی فیلڈ کے لئے بے حد ضروری ہے۔کیوں کہ جب آپ کوئی بھی کام کررہے ہیں تو آپ کے پاس مسائل سے نمپٹنے کی سوچ نہیں ہوگئی تو آپ پریشان ہو جائیں گے۔آپ ہمیشہ پریشان رہیں گے اور کبھی بھی آگے نہیں بڑھ پائیں گے۔جب آپ آگے نہیں بڑھیں گے تو آپ ڈپریشن کا شکار ہو جائیں گے جو آج کل ہم سبھی ہیں۔اس کے بعد آپ کے پاس تخلیقی صلاحتیں موجود نہیں تو بھی آپ آگے نہیں بڑھ سکتے۔کیوں کہ تخلیقیت ہی وہ واحد چیز ہے جو آپ کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔تخلیقیت کے بغیر آپ اپنے معمولات زندگی سے پریشان ہو جائیں گے۔آگے بڑھنے کی بجائے آپ پیچھے جانا شروع ہو جائیں گے۔اس کے علاوہ آپ میں مل جل کر کام کرنے صلاحیت کا ہونا بہت زیادہ ضروری ہے کیوں کہ آپ کو لوگوں کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔اگر آپ میں قوت برداشت نہیں ہے آپ میں لچک نہیں ہے تو بہت جلد دلبرداشتہ ہو جائیں گے۔جس سے آپ کا ذہنی ،جسمانی، معاشی اور معاشرتی نقصان ہوگا۔جس کا ازالہ ڈپریشن ہوگا آگے آپ سمجھ رہے ہیں۔اور ان سب مہارتوں کو بیان کرنے کے لئے آپ کے پاس ابلاغ کی صلاحیت کا ہونا بہت ضروری ہے کیوں کہ اگر آپ بہت کچھ جانتے ہوں اور کرتے ہو لیکن بیان نہ کر پائیں تو سب کچھ بے فائدہ ہو جاتا ہے۔میٹرک میں ایک استاد نے بتایا تھا کہ دنیا بولنے والوں کی ہے اس وقت سمجھ نہیں آئی تھی جو آج سمجھ آئی ہے کہ اگر آپ اپنی بات کہنے کافن نہیں رکھتے تو آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ابلاغ کی صلاحیت کے بغیر نفع کاروبار اور نفع بخش علم لینا ناممکن ہے۔موجودہ دور کے ہتھیار کی دوسری قسم سیکھنے کی مہارت ہے۔کیا سیکھنا ہے کیا نہیں سیکھنا ہے یہ سیکھنا بڑا ضروری ہے۔موجودہ دور میں انفارمیشن کی اتنی بہتات ہے کہ بندہ چکرا جاتا ہے اس لئے انفارمیشن لٹریسی بہت ضروری ہے ، یعنی آپ کو مواد کو جانچنے ، ترتیب دینے اور ڈھونڈنے کا علم ہونا چاہیے۔اس کے بعد میڈیا لٹریسی بھی بہت ضروری ہے تاکہ آپ اپنے کام کو نشرو اشاعت کے ذریعے لوگوں تک پہنچا سکیں۔کیونکہ آپ جتنا اچھا کام بھی کر لیں جب تک کسی کو پتا نہیں ہوگاوہ بے فائدہ ہے۔اس کے ساتھ ساتھ آپ ٹیکنالوجیکل لٹریٹ ہونگے تو آپ اپنے کام کو آگے بڑھا پائیں گے۔آپ کو اس دور میں کمپیوٹر ، کلاؤڈ پروگرامنگ اور موبائل ڈیوائسز کا پتہ ہونا ضروری ہے۔آکری کٹیگری میں زندگی کی مہارتیں آتیں ہیں۔جس میں آپ میں لچک اور برداشت ہونی چاہیے۔کوئی بھی تبدیلی آپ جذب کر سکیں۔یہ دنیا کی مشکل ترین مہارتوں میں اول نمبر کی مہارتیں ہیں جو انسان کی ذات کے اندر ہوتی ہیں۔اس کے لئے پہلے سوچ کا بیج لگانا پڑتا ہے۔اور سمجھنا پڑتا ہے کہ آپ کا منتخب شدہ راستہ ہمیشہ ٹھیک نہیں ہو سکتا اس لئے پلان بی بھی ہونا ضروری ہے۔یہ کسی بھی کرئیر میں آگے بڑھنے کے لئے انتہائی ضروری مہارت ہے۔ اس کے بعد انسان کی بے ضروری مہارت ہے لیڈر شپ، جس کے ذریعے انسان فاتح عالم بنتا ہے۔ہمارے ہاں سکولوں اور کولجوں میں اس کی خاص ضرورت ہے۔قیادت کا نام سنتے ہم سیاست کی طرف چلے جاتے ہیں ۔لیکن قیادت کی ضرورت ہر جگہ موجود ہے۔مقاصد طے کرنا اور پھر ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے لوگوں کو ساتھ ملانا اور لے کرنا چلنا درحقیقت لیڈرشپ ہے۔لیڈر بغض،حسد اور کینے سے پاک دل کا مالک ہوتا ہے وہ اپنی ٹیم میں لیڈر شپ کوالٹی پیدا کر دیتا ہے اور ۳۱۳ کو لاکھوں کے لشکر سے لڑا دیتا ہے۔ان ساری مہارتوں کے باوجود اگر کچھ حاصل نہ ہو رہا ہو تو اس کو ہم پروڈکٹو انسان نہیں مانتے اس لئے پروڈکٹو ہونا بے حد ضروری ہے۔پروڈکٹو ہونے کے لئے تنظیم وقت کا علم ہونا بے حد ضروری ہے۔جو ہم سارا لوگوں کی کمزوریاں ڈھونڈنے میں صرف کر دیتے ہیں۔اور سب سے آخر میں آتا ہے معاشرتی چال چلن آتا ہے۔ایک ریسرچ کی گئی جس مین ۰۵ فیصد غریب گھرانوں کے اور ۰۵ فیصد امیر گھرانوں کے بچے لئے گئے۔ان کے ساتھ ٹریکر کے طور پر ایک ایک بندہ لگایا گیاکہ آپ نے ان بچوں کے چند پیرا میٹرز ریکارڈ کرنے ہیں۔یعنی یہ خوشی کیسے مناتے ہیں، غم کیسے برداشت کرتے ہیں، پریشان کتنا ہوتے ہیں، میل جول کتنا رکھتے ہیں۔یہ ریسرچ ستر سال تک چلی جب ستر سال بعد ان کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا تو ن میں چند لوگ زندہ تھے ۔ جن میں تین باتیں مشترک تھیں۔
وہ سب کے سب سوشل اور ملنسار تھے
وہ سب کے سب رشتے نبھاتے تھے
اور ان کا شوق ہی ان کا کام تھا
یعنی سوشل انسان زیادہ دیر زندہ رہتا ہے اور تندرست زندگی گزارتا ہے۔آپ کو پتا ہے دوکاندار کا اخلاق ۷۶ فیصد گاہکوں کو متاثر کرتا ہے۔اور قابل مذمت بات یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں
Critical
thinking,Creativity, Collaboration, Communication, Information, Media and Technology Litracy, Flexibility, leadership, Initiative, Productivity اورs Social Skillنام کی کوئی چیز نا بتائی جاتی ہے نہ پڑھائی جاتی صرف یہ بتا یا جاتا ہے کہ ,کھیلو گے کودو گے ہووؤ گے خراب ,لکھو گے پڑھو گے بنو گے نواب ,جس سے قوم تلواروں سے شلواروں تک آگئی ہے۔اللہ پاک ہم سب کے حامی و ناصرہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں