96

غزل

یہ زیست خار اپنا مکان تھوڑی ہے
فقط یہ دنیا ہمارا سامان تھوڑی ہے
یہ تو غمِ جگنو ہے جو چمک رہا ہے
خوشی سے گھر شادمان تھوڑی ہے
یہاں فکر ہے سب کو اپنی انا کی
کوئی ہمارے لئے پریشان تھوڑی ہے
دینا پڑے گا ناصح کو بھی حساب
قیامت فقط اپنا امتحان تھوڑی ہے
جس نے چاہا ہمیں مطلب کی خاطر
اس کا ہم پہ کوئی احسان تھوڑی ہے
ہمیں تو امید ہے خدا سے رحمت کی
اپنا کوئی راہب جیسا ایمان تھوڑی ہے
میں تو چکا رہا ہوں قرض سانسوں کا
ورنہ جینا عفیؔ ہمارا ارمان تھوڑی ہے
عمران عفیؔ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں