166

سکندر بدر میانداد قوالی کی دنیا کا مستقبل ، تحریر کامران خان

2 سمبر 2018 کی سہانی شام ولیمے کی تقریب میں ایک خوبصورت انسان سے ملاقات ہوئی جو اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ وہاں تشریف لائے تھے مجھے بے حد مصروفیت کے باوجود بھائی شہزاد اور بھائی فخر ان سے ملوانے لے گئے اور ان کی نفاست دیکھ کر میں سمجھ گیا یہ کسی بڑے خاندان کے چشم و چراغ ہیں تبھی شہزاد بھائی نے بتایا کہ یہ مشہور قوال بدر میانداد مرحوم کے صاحبزادے سکندر بدر میانداد ہیں میرے لئیے یہ نہایت اعزاز کی بات بن گئی کہ میرے ولیمے پر اتنے اعلی خاندان کے نوجوان قوال تشریف لائے، اس تقریب کے بعد ہم دو بار سکندر بھائی کی خدمت میں حاضر ہوئے ایک بار کتاب کے سلسلے میں اور دوسری بار بدر میاں داد مرحوم کے عرس والے دن، یہ ملاقاتیں کسی انسان کی شخصیت جاننے کے لئیے کافی تھیں جس میں سب سے پہلے یہ بات عیاں ہوئی کہ مشہور اور مستند قوال بننے کے لئیے ادب کا دامن مضبوطی سے تھامنا ہوتا ہے آپ کبھی بھی اپنے استاد اپنے باپ کی بے ادبی کرکے بڑے قوال نہیں بن سکتے آپ اگر اپنے ہارمونیم سے پیارنہیں کرتے تو یہ بھی آپ سے پیار نہیں کرتا
اور سب سے بڑھ کر وہ کلام جو آپ اپنی قوالی میں شامل کرتے ہیں اس کا اعلی معیار پر پورا اترنا نہایت ضروری ہے اور ان تمام خوبیوں میں یہ نوجوان قوال زبردست صلاحیتوں کا مالک ہے ان کی شخصیت ان کا پیار اور معیار دیکھ کر یہ بات اور بھی واضح ہوجاتی ہے کہ یہ ایک اعلی قوال خاندان کے چشم و چراغ ہیں اور ایک بہترین مستقبل ان کا انتظار کررہا ہے انشاءاللہ اور سکندر بھائی نے جس انداز میں افغانستان کی وزارت خارجہ کے منعقدہ پروگرام سے کابل میں اپنے فنی سفر کا آغاز کیا تھا وہ ایک دیومالائی سفر لگتا ہے ایک بات جس کا ذکر یہاں ضروری ہے ہوا یوں کہ ملاقات کے دوران عزیز میاں قوال کے صاحبزادے نے بتایا کہ انھوں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ ابا جی آپکو لوگ دیوانہ وار سنتے ہیں آپکی آواز اتنی بااثر کیوں ہے؟ انہوں نے جواب دیا درِ اہلبیت کا خادمیت حاصل کر لو آپکی بات بھی اثر رکھے گی اور لوگ سنیں بھی گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں