72

آئین قومی شعور کا آئینہ دار کسی قسم کی چھیڑ خانی نہ کی جائے، پیر معصوم نقوی کی زیر صدارت جے یو پی نیازی کا اجلاس

آئین کی حیثیت ختم کرکے قومی انتشار کی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے
ختم نبوت پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، وزراءکے کالعدم تنظیموں سے تعلقات بارے بلاول کے بیان کو سنجیدگی سے لیا جائے
مرکزی چیف آرگنائزر کو عہدے سے ہٹانے کی توثیق ،اجلاس میں پیر معین کوریجہ،ڈاکٹر امجدچشتی ،پیر شفاعت، اختر رسول، عقیل شاہ اور دیگر کی شرکت
جمعیت علما پاکستان نیازی کے سربراہ قائد اہلسنت پیر سید محمد معصوم حسین نقوی کی زیرصدارت مجلس عاملہ اور شوریٰ کے اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے قراردیا گیا کہ 1973 کا آئین قومی شعور کا آئینہ دار اور سیاسی جماعتوں کی متفقہ قومی دستاویز ہے۔اس کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ خانی نہ کی جائے۔ موجودہ تناو کے حالات میں آئین کو از سر نو بنانے کی کوشش کی گئی تواس پر دوبارہ اتفاق نہیں ہو سکے گا۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت اور سیاسی بصیرت تھی کہ جس نے تمام صوبوں کی قیادت کو ایک آئین پر متفق کر لیا تھا اور ختم نبوت کا مسئلہ بھی حل کرکے اسے آئین کا حصہ بنا دیا تھا۔ اس کی آئین کی حیثیت کو ختم کرکے قوم میں انتشار پیدا کرنے کو ئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ اجلاس میں خبردارکیا گیا کہ ختم نبوت مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے، جس میں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا کوئی ایسا اقدام نہ کیا جائے، جس سے آئین کی موجودہ حیثیت کو نقصان پہنچے۔ آئین کی حیثیت کو نقصان پہنچنے کا مطلب پاکستان کی سا لمیت کے ساتھ کھیلنا ہوگا۔بلاول بھٹو زرداری کے وزراءکے کالعدم تنظیموں سے تعلقات کے حوالے سے بیان کو بھی سنجیدگی سے لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ فرقہ واریت اور دہشت گردی نے ملکی سلامتی اور قو می اتفاق رائے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔اجلاس میں مرکزی چیف آرگنائزر احمد عمران نقشبندی کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے زوردیا گیا کہ پارٹی عہدیداروں کو سنجیدہ ، صاحب کردار اور مخلص ہونا چاہیے۔جمعیت سیکرٹریٹ کینال ویو میں ہونے والے اجلاس میں پیر معین الدین کوریجہ،ڈاکٹر امجد حسین چشتی ،پیر شفاعت رسول نوری،صاحبزادہ سید عقیل حیدر عباس، پیر اختر رسول قادری،صاحبزادہ پرویز اکبر ساقی،محمد امیر سلطان چشتی،محمد شفیق بٹ،حسن منصور شیخ ،قاری شبیر قادری،بابامحمد اسلم حیدری،رانا زمان جوئیہ،محمد حمزہ ندیم،جاوید علی بھٹی،رانا عدنان جوئیہ،حافظ عثمان اور دیگر نے شرکت کی۔ اور مختلف قراردادوں کی منظور ی دی گئی اور گیس، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ظالمانہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ رمضان پیکج کے اعلان سے پہلے ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ واضح کرتا ہے کہ رمضان المبارک سے پہلے ہونے والی مہنگائی پر سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ ادویات کی قیمتیں 300 گنابڑھ گئی ہیں، صرف وزراءکی تبدیلی سے ہی کام نہیں چلے گا۔
ملکی سلامتی اور قو می اتفاق رائے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔اجلاس میں مرکزی چیف آرگنائزر احمد عمران نقشبندی کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے زوردیا گیا کہ پارٹی عہدیداروں کو سنجیدہ ، صاحب کردار اور مخلص ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں