137

بطور ٹیم لیڈر ”ٹرین دی یوتھ فیسٹیول“ میں میری ذمہ داریاں

اپریل 2008 کی بات ہے جب میں انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن پنجاب یونیورسٹی کا صدر تھا تو میرے نائب صدر نے کہا کہ اگر جراءت ہے تو صبح لاء کالج آکر دکھائیں میں صبح نو بجے لاء کالج پہنچ گیا اور راؤ صاحب کو فون کر کے یاد دلایا میں لاء کالج پہنچ گیا ہوں آگے کیا حکم ہے، بحرحال ایک کامیاب فیسٹیول اورگنائز کروانے کے بعد آج مجھے اپنی ٹیم پر فخر ہے میری ٹیم میری فیملی ہے میری ٹیم میری کمپنی ہے لیڈرز کی پروفیشنلزم پر بات کی جائے تو ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ لیڈر کو اپنی کمپنی کا خیال ایک فیملی کی طرح رکھنا چاہیے اور ایک نظریہ اس چیز پر بحث کرتا ہے کہ لیڈر کو پیچھے بیٹھ کر راہنمائی کرنی چاہیے جس سے دوسروں کو محسوس ہو کہ وہ بھی بہت اہم ہیں اور وہ بھی راہنمائی کر رہے ہیں ان کی آواز کو بھی جگہ دی جارہی ہے، انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن سے یوتھ اسمبلی فاؤنڈیشن اور شعور میڈیا گروپ سے ایس پی آر ایف تک میرا ایمان یہی رہا ہے کہ ہمیں ایک فیملی کی طرح کمپنی کو آگے بڑھانا ہے اور تمام اہم افراد کو یہ یقین دلانا ہے کہ وہ بھی لیڈر ہیں، اور ٹرین دی یوتھ فیسٹیول میں بھی میرا طریقہ کار یہی رہا اور اسی نظرئیے پر عمل کرتے ہوئے بہترین سے بہترین ٹیم کو آگے آنے کا موقع دیا گیا سب سے پہلے ایپکس گروپ آف کالجز کے سی ای او رانا عدیل ممتاز اور ایونٹ ایڈوائزر علی عباس صاحب کا بے حد شکرگزار ہوں جنھوں نے ہمیں اتنا اہم موقع دیا، اب آپریشنل ہیڈ شہزاد روشن گیلانی کی بات کی جائے تو جس انداز میں فیسٹیول کروایا گیا وہ شاندار تھا شہزاد گیلانی سکلز فار جاب پینل ڈسکشن اور میڈیا ڈائیورسٹی میں ماڈریٹر کے فرائض انجام دئیے بزنس ہیڈ دعا شاہ کی بات جائے تو انھوں نے اپنی ڈیزائننگ کوالٹی سے اتنی خوبصورت سوشل میڈیا کمپین ڈیزائن کی کہ مزا آگیا اس کے علاوہ انھوں نے وویمن لیڈر شپ پینل ڈسکشن میں ماڈریٹر کے فرائض سرانجام دئیے اس کے بعد ایونٹ کے میزبان سلمانچیمہ کی بات کی جائے جنھوں نے اپنی بہترین ہوسٹنگ سے حاضرین کو محظوظ کیا اور انسپائرنگ سولز پروگرام میں شہزاد، دعا اور سلمان نے جس انداز میں سپیشل لوگوں کو خوش آمدید کہا ان کے لئیے ایوارڈز کا بندوبست کیا وہ شاندار تھا شاعری کے پروگرام کی بات کی جائے تو شاعری کے سیکشن ہیڈ کفایت رضی اور کو – ہیڈ خبیب احمد نے تین اعلی پائے کے شعراء کرام عباس تابش اور واجد امیر اور احمد حماد کو پروگرام کا حصہ بنا کر سب کے دل لوٹ لئیے اس کے بعد تقریری مقابلوں کی بات کی جائے تو اس سیکشن کی ہیڈ علینہ ارشد نے پاکستان کے مشہور مقررین کفیل رانا اور شائستہ واحدی کو بطور جج دعوت دے کر کمال کر ڈالا، ایونٹ کی سب سے بڑی خوبصورتی ہمارے دس سولو سپیکرز تھے جن ک شمولیت یقینی بنانے می ںشہزاد سے لے کر نوید اسلم ملک نے کلیدی کردار ادا کیا اور کمال کردکھایا چائیلڈ لیبر کے حقوق کے حوالے سے ہونے والے سیمینار میں عمیر آصف نے بہترین کردار ادا کیا اور وویمن چیمبر آف کامرس کی دو صدور کو شامل کرکے ایونٹ کو چار چاند لگا دئیے ایونٹ کے دو روز کیٹرنگ اور فوڈ کی ذمہ داری فخر اتفاق فریدی کے پاس تھی جنھوں نے دونوں دن شرکاء
کے لئیے دوپہر کا کھانا ارینج کیا، ان سب کے ساتھ ہمارے وولینٹئیرز ثناء آغا، اسامہ راٹھور، نوخیز شیخ، میڈم نورین، لائبہ، زین، بلال دی بیسٹ فوٹو گرافر، محسن، شیراز، شریف، اخوت کے عباس بھائی، وقاص چوہدری اور ہمارے غلام نبی بھائی یہ تمام لوگ ہمارے ستارے ہیں اور بحیثیت ٹیم لیڈر یہ میرے لئیے مشعل راہ ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں