72

عمران عفیؔ

درد کو اپنے جو ہم نے اک زبان دی ہے
چھپاکے زخم اپنے،ضبط کو امان دی ہے
وہ تو کھویا ہوا تھا مجھ میں ہی کہیں
اب جوڑکےحرف،لفظوں کو پہچان دی ہے
مُکر جاؤ اپنی ہی بات سے یہ کہاں ممکن
کیونکہ ہم نے ہی تومحبت کو زبان دی ہے
ہمیں کہاں آتا تھا سنبھلنا اے گردش دوراں
اک وہی تو ہے جس نے ہم کو یہ اڑان دی ہے
جینا تو اپنا محال تھا ہی اے میرے ہم نوواں
مگر موت بھی کہاں تو نے،ہم کو آسان دی ہے
یہ زخم ہم کو وراثت میں تو نہیں ملے عفی
اس کو پانے کے لیے ہم نے اپنی جان دی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں